ہے—ایسا سفر جو ایک معمولی مشاہدے سے شروع ہو کر کائنات کے بنیادی سوالات تک پہنچتا ہے۔ اس قسط میں ہم یہ دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ قدرت کی خاموش علامتیں کس طرح عقل کو متحرک کرتی ہیں، اور کیسے سائنسی مشاہدہ، فلسفیانہ استدلال اور انسانی شعور مل کر حقیقت کے گہرے پہلوؤں کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔
یہ گفتگو اس مفروضے سے آگے بڑھتی ہے کہ صرف وہی حقیقت معتبر ہے جو ناپی جا سکے یا آنکھ سے دیکھی جا سکے۔ یہاں اس سوال کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے کہ نظم، مقصدیت اور شعور جیسے تصورات کو محض مادّی قوانین کے ذریعے کس حد تک سمجھا جا سکتا ہے، اور کہاں سائنس کی زبان ناکافی ہو جاتی ہے
میرٹ اسٹینلے کانگڈن- مصنف کے بارے میں
۔میرٹ اسٹینلی کانگڈن (Merritt Stanley Congdon) ایک ممتاز قدرتی سائنس دان، فلسفی اور محقق تھے، جن کا علمی کام سائنس، فلسفۂ سائنس، نفسیات اور بائبلی تحقیق کے باہمی ربط پر مرکوز رہا۔
کانگڈن نے ویبسٹر یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی (Ph.D.) اور سائنس کا ڈاکٹریٹ (Sc.D.) حاصل کیا، جبکہ برٹن یونیورسٹی سے ڈاکٹر آف سیكریڈ تھیولوجی (S.T.D.) کی ڈگری مکمل کی۔
وہ ٹرینیٹی کالج، فلوریڈا میں بنیادی سائنس (Basic Science) کے پروفیسر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ تدریس کے دوران انہوں نے طلبہ کو محض سائنسی حقائق ہی نہیں سکھائے بلکہ مشاہدے، استدلال اور معنی کی تلاش کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
میرٹ اسٹینلی کانگڈن امریکن فزیکل سوسائٹی (American Physical Society)، میڈیول اکیڈمی آف امریکا (Mediaeval Academy of America) اور متعدد دیگر سائنسی و تحقیقی اداروں کے رکن رہے۔
ان کی مہارت کے میدانوں میں نفسیات، طبیعیات، فلسفۂ سائنس اور بائبلی تحقیق شامل تھے۔ انہوں نے انسانی شعور، کائنات کے نظم، سائنسی قوانین اور الٰہی مقصدیت جیسے موضوعات پر گہرے دلائل پیش کیے۔ کانگڈن کا موقف یہ تھا کہ سائنس حقیقت کو سمجھنے کا ایک طاقتور ذریعہ ہے، مگر یہ حقیقت کی مکمل تصویر پیش کرنے سے قاصر رہتی ہے جب تک فلسفہ اور مابعد الطبیعیات کو ساتھ نہ رکھا جائے۔
میرٹ اسٹینلی کانگڈن کو ایک ایسے مفکر کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جنہوں نے سائنسی دیانت، فلسفیانہ گہرائی اور فکری توازن کے ساتھ یہ سوال زندہ رکھا کہ:
کیا کائنات محض اندھا اتفاق ہے، یا اس کے پیچھے کوئی باخبر اور بامقصد عقل کارفرما ہے؟
کبھی کبھی ایک چھوٹی سی چیز انسان کو بڑے سوالات کی طرف لے جاتی ہے۔ قدرت کی خاموش علامتیں، بغیر کچھ کہے، بہت کچھ سمجھا دیتی ہیں۔
ایک سنسان سڑک کے کنارے ایک خوبصورت گلاب کی جھاڑی کھلی ہوئی نظر آتی ہے۔ اس کے آس پاس نہ کوئی گھر ہے، نہ باغ، نہ انسانی آبادی۔ تھوڑی دور بوسیدہ پتھر، ٹوٹی ہوئی دیواریں اور جھاڑ جھنکار دکھائی دیتے ہیں، جیسے یہاں کبھی کوئی رہتا تھا۔
یہ سوچ خود بخود ذہن میں آتی ہے کہ یہ گلاب یہاں کیسے پہنچا۔ کیا یہ محض اتفاق تھا؟ کیا ہوا، پانی، پرندے یا جانور اسے یہاں لے آئے؟
عقل اس امکان کو قبول نہیں کرتی۔ یہ جھاڑی اس بات کی نشانی ہے کہ کسی وقت کسی انسان نے اسے جان بوجھ کر لگایا تھا۔ وہ انسان اب یہاں موجود نہیں، کوئی تحریری ریکارڈ نہیں، کوئی عینی گواہ نہیں، لیکن گلاب کی موجودگی خود ایک مضبوط دلیل بن جاتی ہے۔
اسی طرح کا اندازِ فکر سائنس میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ بہت سی چیزیں ایسی ہیں جنہیں براہِ راست دیکھا یا چھوا نہیں جا سکتا، لیکن ان کے اثرات اور نتائج ہمیں حقیقت تک پہنچا دیتے ہیں۔
ہم ستاروں اور کہکشاؤں کو قریب سے نہیں دیکھ سکتے۔ ان کے مدار بدل نہیں سکتے۔ ہم کائناتی شعاعوں کو ختم نہیں کر سکتے۔ ہم صرف دور سے مشاہدہ کرتے ہیں۔
روشنی کی رفتار، کہکشاؤں کی حرکت، اور فاصلوں میں اضافہ، سب کچھ ایک ترتیب اور قانون کے تحت ہو رہا ہے۔
ہم نے کبھی ایٹم کو آنکھ سے نہیں دیکھا، لیکن اس کے اندر چھپی توانائی نے اپنی موجودگی ثابت کر دی۔ سائنسی نظریات، مشاہدے اور منطقی اندازِ فکر سے جنم لیتے ہیں، اور پھر عملی دنیا میں اپنی صداقت دکھا دیتے ہیں۔
کہکشائیں ہوں یا ایٹم، دونوں کو براہِ راست نہیں دیکھا جا سکتا، لیکن ان کے اثرات واضح ہیں۔ یہی سائنسی استدلال کی بنیاد ہے۔
جب ہم کائنات پر غور کرتے ہیں تو ایک منظم نظام سامنے آتا ہے۔ ہر شے ایک خاص ترتیب، توازن اور اصول کے تحت موجود ہے۔ یہ نظم محض اتفاق کا نتیجہ نہیں لگتا۔
انسانی شعور، سوچ اور مقصد صرف مادی قوانین سے مکمل طور پر بیان نہیں ہو سکتے۔ یہاں فلسفہ اور مابعد الطبیعیات کا دائرہ شروع ہوتا ہے۔
کائنات کی ساخت، اس میں موجود نظم، اور انسان کا شعور اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ حقیقت صرف وہ نہیں جو آنکھ دیکھتی ہے۔
جیسے ایک تنہا گلاب کی جھاڑی ایک غیر موجود انسان کی موجودگی کا پتہ دیتی ہے، ویسے ہی کائنات بھی اپنی خاموش علامتوں کے ذریعے گہرے سوالات کو جنم دیتی ہے۔
قدرت بولتی نہیں، لیکن اس کے نشانات غور کرنے والوں کے لیے کافی ہوتے ہیں۔
اکثر طلبہ سے یہ سوال کیا جاتا رہا ہے کہ وہ ایک “خیال” کی مکمل سائنسی وضاحت پیش کریں۔ خیال کا کیمیائی فارمولا کیا ہے؟ اس کی لمبائی سینٹی میٹر میں کتنی ہے؟ اس کا وزن گرام میں کیا ہے؟ اس کا رنگ، اس کی شکل، اس کا دباؤ یا اندرونی تناؤ کیا ہے؟ وہ کہاں موجود ہوتا ہے، کس سمت حرکت کرتا ہے اور کس رفتار سے؟
کوئی بھی طالب علم ان سوالات کا جواب خالص طبعی یا سائنسی زبان میں نہیں دے سکا۔ خیال کو نہ مساوات میں بدلا جا سکا، نہ فارمولے میں، نہ کسی پیمانے سے ناپا جا سکا۔
یہاں ایک نیا مسئلہ سامنے آتا ہے۔ خیال کے لیے وہ زبان ناکافی ثابت ہوتی ہے جو مادّی سائنس استعمال کرتی ہے۔ ایسے الفاظ درکار ہوتے ہیں جو وزن، مقدار اور پیمائش سے آزاد ہوں۔
اس سوال کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر حقیقت صرف ایک ہی مادّی عنصر پر مشتمل ہے، تو پھر انسانی سوچ کو مکمل طور پر مادّی اصطلاحات میں بیان کرنا لازم ہے۔ لیکن تاریخ میں آج تک ایسا نہیں ہو سکا۔
قدیم مادّی فلسفی ہوں یا جدید رویّاتی ماہرین، یا محض نظریاتی اور خیالی فلسفے پیش کرنے والے مفکرین، سب نے مفروضے قائم کیے، مگر کسی نے بھی انسانی فکر کی مکمل تجرباتی اور سائنسی وضاحت پیش نہیں کی۔
فطرت کے کسی بھی فلسفے کو اس وقت تک قبول نہیں کیا جا سکتا جب تک وہ کائنات کے تمام حقائق، پہلوؤں اور مظاہر کا قابلِ فہم جواز فراہم نہ کرے۔
سائنس آزمودہ علم ہے، لیکن یہ انسانی غلطیوں، محدود مشاہدے اور اندازوں سے آزاد نہیں۔ یہ صرف انہی میدانوں تک مؤثر ہے جہاں مقدار ناپی جا سکتی ہو۔
سائنس یقین سے نہیں، امکان سے آغاز کرتی ہے۔ اس کے نتائج حتمی نہیں ہوتے، بلکہ اندازوں پر مبنی ہوتے ہیں، اور نئی معلومات کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں۔
سائنس دان حتمی دعویٰ نہیں کرتا، بلکہ یہ کہتا ہے کہ اب تک دستیاب شواہد یہی بتاتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ سائنس خود کچھ ایسے اصولوں سے آغاز کرتی ہے جو براہِ راست مادّی دنیا سے ثابت نہیں ہوتے۔ یوں سائنس کی بنیاد بھی فلسفیانہ مفروضات پر کھڑی ہوتی ہے۔
چاہے سائنس ہو، فلسفہ ہو یا مذہب، آخرکار ذاتی تجربہ ہی سچائی کی آخری کسوٹی بنتا ہے۔ لیکن انسانی مشاہدہ خود محدود، نسبتی اور حالات سے مشروط ہوتا ہے۔
ان حدود کے باوجود، سائنس کی افادیت اور قدر ختم نہیں ہوتی، بلکہ اس کی سمت اور دائرہ متعین ہو جاتا ہے۔
قدرتی سائنس ان مسائل سے براہِ راست نمٹنے سے قاصر ہے جن میں مقدار، وزن اور پیمائش شامل نہ ہو۔ مثلاً یہ سوال کہ کیا کوئی ذاتی اور شعوری ہستی موجود ہے؟
لیکن اگر غیر مادّی حقیقتیں مادّی دنیا پر اثر انداز ہو رہی ہوں، اگر ان کے اثرات مشاہدے میں آ رہے ہوں، تو پھر یہ معاملہ بھی غور و فکر کے دائرے میں آ جاتا ہے۔
جیسے ایک ویران جگہ پر کھلی ہوئی گلاب کی جھاڑی کسی غیر موجود انسان کی خبر دیتی ہے، ویسے ہی انسانی شعور، سوچ اور تجربہ کچھ ایسے سوالات اٹھاتے ہیں جو صرف مادّے کی زبان میں مکمل طور پر بیان نہیں ہو سکتے۔
قدرت خاموش ہے، مگر اس کے نشانات مسلسل سوال کرتے رہتے ہیں۔
اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے جو بھی درست اور مؤثر طریقہ اختیار کیا جائے، اسے قبول کرنا لازم ہے، اور اس میں تمثیلی یا قیاسی استدلال بھی شامل ہے۔
قدرت اور سائنس کے عمل میں بہت سی نشانیاں موجود ہیں۔ اگرچہ یہ عمل غیر مادّی حقیقتوں کے وجود یا کام کرنے کو مکمل طور پر ثابت یا رد نہیں کر سکتے، لیکن وہ اس امکان کو رد بھی نہیں کرتے کہ مادی دنیا سے آگے بھی حقیقت کے کچھ دائرے موجود ہو سکتے ہیں۔
انسان خود ایک عقلمند فاعل ہے، جو ایک ایسی دنیا میں کام کرتا ہے جہاں منطق، قدر اور مقصد موجود ہے۔ اسی مشابہت کی بنیاد پر ہم قدرت میں بھی عقل مند نظم اور شعوری کنٹرول کے آثار دیکھتے ہیں۔
ذرات کے مداروں میں توازن، اعداد و شمار کی گھنٹی نما تقسیم، پانی کا چکر، کاربن ڈائی آکسائیڈ کا مسلسل نظام، حیاتیاتی افزائشِ نسل کے حیرت انگیز مراحل، اور ضیائی تالیف کا وہ عمل جس کے ذریعے سورج کی توانائی زمین پر زندگی کے لیے محفوظ کی جاتی ہے—یہ سب محض اتفاق نہیں لگتے۔
یہ سوال بار بار ابھرتا ہے: کیا ایسے مربوط اور مسلسل عمل کسی اندھے حادثے سے شروع ہو سکتے ہیں؟ کیا یہ سب کسی شعوری اور باخبر سبب کے بغیر چل سکتے ہیں؟
یکسانیت اور ہمہ گیری، سبب اور ربط، مقصدیت اور باہمی تعلق، تحفظ اور توازن—یہ مجرد تصورات صدیوں سے کائنات کے متحرک نظام کو سنبھالے ہوئے ہیں۔
یہ تصورات قدرت میں کیسے مسلسل اور معقول طریقے سے کارفرما رہتے ہیں اگر ان کے پیچھے کوئی قائم رکھنے والی عقل نہ ہو؟
یہ سوال فطری طور پر ایک ایسی ہستی کی طرف لے جاتا ہے جو خود عقل مند ہو، جو اپنی تخلیق کے اندر اور اس کے ذریعے کام کر رہی ہو۔
اب تک اس تیز رفتار اور پراسرار کائنات سے کوئی ایسا سائنسی مشاہدہ حاصل نہیں ہوا جو کسی غیر مشروط، ذاتی اور شعوری خدا کے وجود یا اس کی فعّال ذہانت کی تردید کر سکے۔
اس کے برعکس، جب محتاط سائنس دان قدرتی دنیا کے مشاہدات کا تجزیہ اور ترکیب کرتے ہیں، حتیٰ کہ قیاسی استدلال کے ذریعے بھی، تو وہ دراصل ایک ایسی غیر مرئی ہستی کے عمل کو دیکھ رہے ہوتے ہیں جو محض سائنسی تلاش سے نہیں ملتی، لیکن جس نے انسانی تاریخ میں اپنا ظہور بھی کیا۔
سائنس دراصل قدرت کے عمل کو دیکھ رہی ہوتی ہے—اور قدرت کے عمل میں عقل، نظم اور ارادہ مسلسل کارفرما نظر آتے ہیں۔
یوں ایک سادہ سا مشاہدہ انسان کو کائنات کے بڑے سوالات تک لے آتا ہے۔
ہم ہر حقیقت کو ناپ نہیں سکتے، مگر ہر حقیقت کو نظرانداز بھی نہیں کر سکتے۔
سائنس مشاہدہ سکھاتی ہے، لیکن معنی تلاش کرنا عقل کا کام ہے۔
قدرت میں موجود نظم، زندگی کا تسلسل، اور انسانی شعور اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ حقیقت صرف وہ نہیں جو آنکھ دیکھتی ہے۔
کبھی ایک ویران راستے پر کھلا ہوا گلاب، اور کبھی کائنات کی بے آواز ترتیب—حقیقت ہمیشہ براہِ راست سامنے نہیں آتی، مگر اس کے نشانات نظرانداز بھی نہیں کیے جا سکتے۔
سائنس ہمیں دیکھنا سکھاتی ہے، مگر یہ سوال کہ یہ سب کیوں ہے، ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔
اور یہی سوچ انسان کو محض مادّے سے آگے، معنی اور سبب کی تلاش تک لے جاتی ہے۔
Book Reference:
The Evidence of God in an Expanding Universe by John Clover Monsma - Pp 31-36
یہ گفتگو “خدا کے ثبوت -40 سائنسدانوں کی گواہی ” سیریز کا چوتھا قسط ہے۔
اگر آپ ایسے سوالات میں دلچسپی رکھتے ہیں جو سائنس، فلسفہ اور انسانی شعور کے درمیان پل بناتے ہیں، تو اس سیریز کے اگلے Episodes ضرور دیکھیں۔
سوچ کو کھلا رکھیں، سوالات کو زندہ رکھیں—اور اس سفر میں ہمارے ساتھ رہیں۔


0 تبصرے