کیا کبھی آپ نے سوچا ہے کہ ہم کائنات کے بارے میں جتنا جانتے ہیں، اس سے کہیں زیادہ نہیں جانتے؟
ہم ستاروں کی کمیت ناپ سکتے ہیں، کہکشاؤں کی رفتار معلوم کر سکتے ہیں، ایٹم کے اندر جھانک سکتے ہیں — مگر جب سوال یہ اٹھتا ہے کہ "یہ سب کیوں ہے؟" تو سائنس کی زبان خاموش ہو جاتی ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں انسانی عقل ایک اور دروازہ کھٹکھٹاتی ہے — فلسفہ، منطق، اور بالآخر خدا کا تصور۔
کائنات کی وسعت، اس کی ترتیب، اس کی ابتدا اور اس کا انجام — یہ سب ایسے موضوعات ہیں جو محض فلکیات یا طبیعیات کا مسئلہ نہیں بلکہ انسانی شعور کے سب سے بڑے سوالات ہیں۔ اور انہی سوالات پر ایک سائنسدان نے نہایت جرات مندی سے قلم اٹھایا — ایک ایسا سائنسدان جو لیبارٹری اور ایمان کے درمیان دیوار کھڑی کرنے کے بجائے ان کے درمیان پل بنانا چاہتا تھا۔
مصنف کا تعارف: ایک سائنسدان جو صرف فارمولوں تک محدود نہ رہا
Donald Henry Porter محض ایک مذہبی مفکر نہیں تھے اور نہ ہی صرف ایک فلسفی۔ وہ بنیادی طور پر ایک تربیت یافتہ ریاضی دان اور طبیعیات دان تھے جن کی علمی شناخت خالص سائنسی میدان میں قائم تھی۔ انہوں نے ریاضی اور طبیعیات میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی، یونیورسٹی سطح پر تدریس کی، اور جدید ریاضیاتی تجزیے کے پیچیدہ موضوعات پر مہارت حاصل کی۔
ان کی علمی تربیت سخت سائنسی بنیادوں پر ہوئی:
بی۔ایس سی — Marion College
پی۔ایچ ڈی — Indiana University
جامعہ میں تدریسی فیلوشپ
ریاضی اور طبیعیات کے پروفیسر
وہ مذہبی جذبات سے متاثر ہو کر نہیں بلکہ ایک سائنسی ذہن کے ساتھ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر طبیعیات کے قوانین خود غیر ثابت شدہ مفروضات پر قائم ہیں، اگر کششِ ثقل کی اصل وجہ معلوم نہیں، اگر ایٹم کے اندر ہمیں نئے قوانین گھڑنے پڑتے ہیں، اگر کائنات کے آغاز کے بارے میں نظریات ایک دوسرے سے متضاد ہیں — تو پھر خدا کو غیر سائنسی کہہ کر نظر انداز کرنا کیسے معقول ہو سکتا ہے؟
پورٹر کی فکر کی بنیاد یہی ہے:
سائنس جتنی آگے بڑھتی ہے، اتنے ہی نئے سوال پیدا کرتی ہے — اور ہر سوال بالآخر ایک اعلیٰ سبب کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
● غیر حل شدہ سوالات اور سائنس کی حدود: کیا خدا کی گنجائش باقی ہے؟
سائنس نے انسان کو حیرت انگیز ترقی عطا کی ہے، مگر اس ترقی کے باوجود کائنات کے کئی بنیادی سوالات آج بھی تشنۂ جواب ہیں۔ طبیعیات کے قوانین ہمیں یہ تو بتاتے ہیں کہ مظاہرِ فطرت کیسے وقوع پذیر ہوتے ہیں، لیکن اکثر یہ نہیں بتاتے کہ وہ کیوں ہوتے ہیں۔ یہی خلا وہ مقام ہے جہاں فلسفہ اور مذہب اپنی جگہ بناتے ہیں۔
اگر خدا کے وجود کو اسی طرح ثابت کیا جا سکتا جیسا کہ ہم جیومیٹری میں فیثاغورث کا قضیہ ثابت کرتے ہیں، تو ایمان ایک لازمی نتیجہ بن جاتا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ سائنس کے اپنے بیشتر قوانین بھی آخری معنوں میں ثابت شدہ نہیں بلکہ تجرباتی بنیادوں پر قبول کیے گئے اصول ہیں۔ ہم انہیں اس لیے مانتے ہیں کہ وہ مشاہدات سے میل کھاتے ہیں، نہ کہ اس لیے کہ ان کی قطعی فلسفیانہ دلیل موجود ہے۔ ایسے میں مافوق الفطرت حقائق کے لیے سائنسی طرز کی لازمی دلیل کا مطالبہ خود سائنس کی روش کے خلاف محسوس ہوتا ہے۔
● “کیسے” کے جوابات اور “کیوں” کی خاموشی
نیوٹن کا قانونِ کششِ ثقل ہمیں بتاتا ہے کہ دو اجسام ایک دوسرے کو کس طرح کھینچتے ہیں۔ مگر یہ قانون اس بات کی وضاحت نہیں کرتا کہ کشش کی اصل وجہ کیا ہے۔ جدید نظریات میں بعض مفروضے یہ بھی پیش کرتے ہیں کہ انتہائی وسیع فاصلوں پر یہی قوت کشش کے بجائے دفع کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔ یعنی سائنس میں بھی ایسے مقامات ہیں جہاں یقینی علم کے بجائے نظریاتی قیاس آرائیاں موجود ہیں۔
برقی قوتوں کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ مثبت اور منفی چارجز کے درمیان کشش اور ہم جنس چارجز کے درمیان دفع کا قانون کلاسیکی سطح پر درست ہے۔ لیکن جب ہم ایٹم کے مرکزے کے نہایت چھوٹے پیمانے پر پہنچتے ہیں تو یہی قانون ناکام ہو جاتا ہے اور ہمیں ایک نئی قوت — نیوکلیائی فورس — کو ماننا پڑتا ہے۔ یہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ انسان کا بنایا ہوا سائنسی فریم ورک ہر سطح پر مکمل نہیں۔
● سائنسدان اور خدا کا سوال
کئی جدید مفکرین اور سائنسدان کائنات کی تشریح خدا کے بغیر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کچھ فلسفی اس بنیاد پر خدا کا انکار کرتے ہیں کہ “اگر ہر چیز کا خالق ہے تو خدا کو کس نے پیدا کیا؟” یہ سوال بظاہر منطقی معلوم ہوتا ہے، مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی نوعیت کے لامتناہی سوالات سائنس کے اندر بھی پیدا ہوتے ہیں — مثلاً کائنات کی ابتدا سے پہلے کیا تھا؟ مادہ کہاں سے آیا؟ قوانینِ فطرت خود کیسے وجود میں آئے؟
اگر ہم سائنس میں ان سوالات کے مکمل جواب کے بغیر بھی نظریات قبول کر لیتے ہیں، تو خدا کے تصور کو صرف اسی بنیاد پر رد کرنا غیر متوازن رویہ لگتا ہے۔ بہت سے اہلِ فکر کے نزدیک خدا کو کائناتی ترتیب، قوانین کی ہم آہنگی اور وجود کے مقصد کی وضاحت کے طور پر شامل کرنا زیادہ معقول محسوس ہوتا ہے۔
●کائنات کی وسعت اور انسانی حیرت
کاسمولوجی ہمیں بتاتی ہے کہ ہم ایک ایسی کائنات میں رہتے ہیں جو ناقابلِ تصور حد تک وسیع ہے۔ اربوں کہکشائیں، نوری سالوں پر پھیلا ہوا خلا، اور وہ روشنی جو ہم تک پہنچتے پہنچتے لاکھوں برس پرانی ہو جاتی ہے — یہ سب اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ہمارا علم اب بھی محدود ہے۔
●طیف بینی: روشنی میں چھپی پہچان
سپیکٹروسکوپی ایک ایسی سائنسی تکنیک ہے جس کے ذریعے ہم عناصر کی شناخت ان کی روشنی کے مخصوص نمونوں سے کرتے ہیں۔ ہر عنصر اپنی الگ شناخت رکھتا ہے، جیسے انگلیوں کے نشانات۔ اسی طریقے سے ہیلیم کو پہلے سورج میں دریافت کیا گیا اور بعد میں زمین پر پایا گیا۔ یہ سائنسی کامیابی اپنی جگہ حیرت انگیز ہے، مگر اس کے باوجود یہ سوال برقرار رہتا ہے کہ یہ قوانین اور ترتیب خود کیوں موجود ہیں؟
ذیل میں اسی سلسلۂ مضمون کو برقرار رکھتے ہوئے اگلا حصہ پیش کیا جا رہا ہے، جس میں کائنات کے پھیلاؤ، ریڈ شفٹ، اور جدید کاسمولوجی کے دو بڑے نظریات کو اردو میں ازسرِ نو اور مربوط انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
● کائنات کا پھیلاؤ اور ریڈ شفٹ: دو نظریات، ایک بنیادی سوال
روشنی کے طیف میں سرخ سمت کی طرف جھکاؤ کو "ریڈ شفٹ" کہا جاتا ہے۔ طبیعیات کی زبان میں اس کا مطلب یہ ہے کہ روشنی کا منبع ہم سے دور جا رہا ہے۔ جب ماہرینِ فلکیات نے دور دراز کہکشاؤں کی روشنی کا تجزیہ کیا تو تقریباً ہر جگہ یہی سرخ جھکاؤ پایا گیا۔ اس مشاہدے نے اس تصور کو جنم دیا کہ پوری کائنات پھیل رہی ہے اور کہکشائیں ایک دوسرے سے دور ہٹتی جا رہی ہیں۔
اسی پس منظر میں کاسمولوجی کے دو نمایاں نظریات سامنے آئے:
1. ارتقائی کائنات کا نظریہ (Alpher اور Gamow)
2. مستقل حالت یا مسلسل تخلیق کا نظریہ (Bondi، Gold اور Hoyle)
● ارتقائی کائنات: ایک عظیم دھماکے سے آغاز
پہلا نظریہ یہ بیان کرتا ہے کہ کائنات کا آغاز ایک انتہائی کثیف اور نہایت گرم حالت سے ہونے والے زبردست دھماکے سے ہوا۔ ابتدا میں مادہ صرف بنیادی ذرات — پروٹون، نیوٹران اور الیکٹران — پر مشتمل تھا، کیونکہ درجۂ حرارت اور دباؤ اتنا زیادہ تھا کہ کوئی مرکب وجود میں نہیں آ سکتا تھا۔
اس نظریے کے مطابق:
کائنات کے صرف پانچ منٹ بعد درجۂ حرارت تقریباً ایک ارب ڈگری تھا۔
پہلے آدھے گھنٹے میں ہلکے عناصر وجود میں آئے۔
بھاری عناصر بعد کے مراحل میں انہی ہلکے عناصر کے ملاپ سے بنے۔
تقریباً دس لاکھ سال بعد کششِ ثقل نے مادے کو مجتمع کر کے کہکشاؤں کی تشکیل شروع کی۔
آج کہکشاؤں کی بیرونی حرکت اسی ابتدائی دھماکے کا تسلسل ہے۔
یہ نظریہ ایک اور دلچسپ خیال بھی پیش کرتا ہے: ممکن ہے ہماری موجودہ کائنات کسی سابقہ کائنات کے مکمل انہدام اور شدید سکڑاؤ کے بعد پیدا ہوئی ہو۔ یعنی ایک کائناتی چکر — پھیلاؤ، سکڑاؤ، اور پھر نیا آغاز۔
اگر کوئی اس نظریے کو اختیار کرتا ہے تو بنیادی سوال فوراً پیدا ہوتا ہے: وہ ابتدائی ذرات اور توانائی کہاں سے آئی؟ یہاں بہت سے اہلِ فکر کے لیے خدا بطورِ خالق ایک ناگزیر وضاحت بن جاتا ہے — وہی ہستی جس نے مادے کی بنیاد رکھی اور توانائی کو جنم دیا۔
● مستقل حالت کا نظریہ: کائنات ہمیشہ سے ایسی ہی ہے؟
Bondi، Gold اور Hoyle کا پیش کردہ نظریہ اس خیال پر قائم ہے کہ کائنات اپنی مجموعی شکل میں ہمیشہ یکساں رہی ہے، اگرچہ وہ پھیل ضرور رہی ہے۔ چونکہ کہکشائیں دور جا کر ہماری نظروں سے اوجھل ہو جاتی ہیں، اس لیے خلا کو پُر رکھنے کے لیے نیا مادہ مسلسل تخلیق ہوتا رہتا ہے۔
اس نظریے کے اہم نکات:
کائنات وقت اور جگہ دونوں میں یکساں ہے۔
مادہ مسلسل پیدا ہوتا ہے تاکہ نئی کہکشائیں بنتی رہیں۔
یہ تخلیق کسی معلوم ذریعہ سے نہیں — بلکہ محض "ظاہر" ہو جاتی ہے۔
یہی نیا مادہ بیرونی دباؤ پیدا کرتا ہے جو کائنات کو پھیلائے رکھتا ہے۔
سائنسی اعتبار سے یہ نظریہ ریڈ شفٹ اور کہکشاؤں کے غائب ہونے کو ایک مختلف زاویے سے سمجھانے کی کوشش کرتا ہے، مگر ایک بنیادی خلا یہاں بھی باقی ہے: اگر مادہ خود بخود پیدا ہو رہا ہے، تو اس تخلیقی عمل کے پیچھے اصل قوت کیا ہے؟
اسی مقام پر دوبارہ وہی سوال ابھرتا ہے جو پہلے نظریے میں تھا — تخلیق کا منبع۔
● سائنسی نظریات اور الٰہی وضاحت
چاہے کائنات کو ایک ابتدائی دھماکے کا نتیجہ سمجھا جائے یا مسلسل تخلیق کا عمل قرار دیا جائے، دونوں صورتوں میں ایک بنیادی حقیقت مشترک ہے: سائنس ہمیں عمل کی وضاحت دیتی ہے، مگر اصل سبب کی نہیں۔
ایک سائنسی ذہن کے لیے بھی یہ خلا نظرانداز کرنا آسان نہیں۔ قوانین خود کیوں موجود ہیں؟ مادہ اور توانائی کا پہلا سرچشمہ کیا تھا؟ کائنات کا نظم کس بنیاد پر قائم ہے؟
ان سوالات کے سامنے بہت سے مفکرین کے لیے خدا محض مذہبی تصور نہیں بلکہ ایک عقلی تکمیل ہے۔ وہ ہستی جو نہ صرف ابتدا کا باعث ہے بلکہ ہر جاری عمل کے پیچھے اصل قوت بھی ہے۔
خلاصہ:
کائنات کے ہر نظریے، ہر سائنسی ماڈل، اور ہر نامکمل وضاحت کے پیچھے ایک ایسا مقام آتا ہے جہاں انسانی عقل رک جاتی ہے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں ایمان بولتا ہے۔ جہاں سائنس خاموش ہو جاتی ہے، وہاں خدا بطورِ جواب سامنے آتا ہے۔
اور شاید یہی سب سے بڑی حقیقت ہے:
غیر حل شدہ سوالات کا آخری جواب ایک اعلیٰ شعور — خدا — ہی ہو سکتا ہے۔


0 تبصرے