Non Muslim Scholar W. Montgomery Watt on Prophet Muhammad’s Leadership

 کیا آپ جانتے ہیں کہ اسلام اور سیرتِ نبوی ﷺ پر مغرب میں سب سے زیادہ اثر ڈالنے والا اسکالر ایک اسکاٹش محقق (W. Montgomery Watt) ولیم مونٹگمری واٹ تھے۔جن کی کتب نے اسلام کو مغربی دنیا میں نئے زاویے سے روشناس کرایا اور آج بھی اسلامیات کے طلبہ کے لیے بنیادی ماخذ ہیں۔

Historical reference of non-Muslim scholar Watt on Prophet Muhammad’s role in Islam


مصنف کا تعارف


ولیم مونٹگمری واٹ (W. Montgomery Watt) ‏(14 مارچ 1909 )  اسکاٹ لینڈ کے معروف مستشرق، مؤرخ اور مفکر تھے۔ واٹ برطانیہ میں اسلام کے موضوع پر بیسویں صدی کے سب سے بڑے محققین میں شمار کیے جاتے ہیں۔

واٹ نے ایڈنبرا یونیورسٹی سے فلسفہ، الٰہیات اور عربی زبان میں تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں آکسفورڈ یونیورسٹی سے مزید اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ واٹ نے اپنی عملی زندگی زیادہ تر تدریس اور تحقیق میں گزاری۔ وہ ایڈنبرا یونیورسٹی میں عربی اور اسلامیات کے پروفیسر رہے اور کئی سال تک "ہیڈ آف دی ڈپارٹمنٹ آف عربک اینڈ اسلامک اسٹڈیز" کے عہدے پر فائز رہے۔ واٹ نے متعدد کتب لکھیں جو اسلامی تاریخ کے حوالے سے بنیادی ماخذ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان کی کتب میں پیغمبر اسلام ﷺ کی زندگی کو تاریخی اور سوشیالوجیکل زاویے سے بیان کیا گیا ہے اور وہ مغربی دنیا میں اسلام کو تعارف کرانے میں ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ وہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ مغرب کو اسلام کو صحیح طور پر سمجھنا چاہیے اور تعصبات سے بالاتر ہو کر اس کا مطالعہ کرنا چاہیے۔

واٹ کی تحقیقات اور تحریریں آج بھی اسلامیات اور مستشرقین کے علمی ذخیرے میں ایک بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان کی کتب مغربی جامعات میں اسلام پر تحقیق کے لیے نصاب کا حصہ ہیں اور دنیا بھر میں اسلام اور سیرت النبی ﷺ کے مطالعے کے حوالے سے کثرت سے حوالہ دی جاتی ہیں۔ولیم مونٹگمری واٹ 24 اکتوبر 2006میں اسکاٹ لینڈ میں انتقال کر گئے


 اسلام کی بنیادیں اور عظمت کے عوامل


"" اسلام کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ وقت اور حالات نے پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کی جدوجہد کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ مکہ اور مدینہ میں سماجی بے چینی، توحید کی طرف بڑھتا ہوا رجحان، شام اور مصر میں ہیلینزم (یونانی اثرات) کے خلاف ردِعمل، ایران و روم (ساسانی اور بازنطینی سلطنتوں) کا زوال، اور صحرائی عرب قبائل کا قریب کے شہروں پر قبضے اور مالِ غنیمت کے مواقع دیکھنا—یہ سب عوامل اسلام کے پھیلاؤ کے پس منظر میں موجود تھے۔

Historical reference of non-Muslim scholar Watt on Prophet Muhammad’s role in Islam


لیکن یہ عوامل اکیلے اسلام کے قیام اور ایک عظیم سلطنت—اموی خلافت—کے ظہور کی وضاحت نہیں کرسکتے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام کا عالمی مذہب بننا کوئی خودکار یا لازمی عمل نہیں تھا۔ اگر حضرت محمد ﷺ کی غیرمعمولی شخصیت اور قیادت نہ ہوتی، تو عرب قبائل کی عسکری طاقت چند وقتی چھاپوں اور لوٹ مار تک محدود رہ جاتی، اور تاریخ پر کوئی دیرپا اثر نہ ڈال پاتی۔


اسلام کی بنیاد رکھنے اور اسے ایک عالمگیر پیغام بنانے میں حضور اکرم ﷺ کی خصوصیات کو تین اہم پہلوؤں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔


1. پیغمبرانہ بصیرت


سب سے پہلی خصوصیت حضور اکرم ﷺ کی پیغمبرانہ بصیرت ہے۔ آپ ﷺ کے ذریعے—یا جیسا کہ اسلامی عقیدہ ہے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی وحی کے ذریعے—عرب دنیا کو ایک نیا فکری اور روحانی ڈھانچہ ملا۔ یہ ڈھانچہ اس وقت کے سماجی مسائل کے حل کا ذریعہ بنا۔


یہ کارنامہ صرف گہری بصیرت ہی نہیں بلکہ اس کو ایسے الفاظ اور انداز میں بیان کرنے کی صلاحیت بھی چاہتا تھا جو سامع کے دل کو گہرائی سے متاثر کرے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآنِ کریم، اگرچہ یورپی قاری کو شاید مشکل محسوس ہو، اپنے وقت کے حالات کے عین مطابق تھا اور لوگوں کے دلوں کو بدلنے والا پیغام بن گیا۔


2. ریاستی حکمت و دانائی


حضرت محمد ﷺ کی دوسری نمایاں خصوصیت آپ ﷺ کی ریاستی حکمت و دانائی ہے۔ قرآنِ کریم میں دیا گیا فکری ڈھانچہ صرف ایک بنیاد تھا۔ اس بنیاد پر عملی پالیسیوں اور پائیدار اداروں کی عمارت کھڑی کرنا ضروری تھا۔


حضور اکرم ﷺ کی سیاسی بصیرت اور سماجی اصلاحات کا ذکر تاریخ کے ہر باب میں ملتا ہے۔ آپ ﷺ نے نہ صرف دور اندیش حکمتِ عملی اپنائی بلکہ ایسے اقدامات کیے جنہوں نے ایک چھوٹی سی ریاست کو آپ ﷺ کی وفات کے بعد چند ہی برسوں میں ایک عظیم سلطنت میں بدل دیا۔ یہ ادارے اور اصلاحات مختلف معاشروں اور خطوں میں اپنائے گئے اور تیرہ صدیوں تک قائم رہے، جو آپ ﷺ کی غیر معمولی دانش کا ثبوت ہیں۔


3. انتظامی صلاحیت اور قائدانہ مہارت


حضرت محمد ﷺ کی تیسری نمایاں خصوصیت آپ ﷺ کی انتظامی مہارت اور بہترین قیادت تھی۔ بہترین پالیسیاں اور مضبوط ادارے اسی وقت کامیاب ہوسکتے ہیں جب ان پر عمل درآمد مؤثر ہو۔ حضور ﷺ نے نہ صرف خود بہترین انتظامی صلاحیت دکھائی بلکہ ایسے قابل اور باصلاحیت افراد کا انتخاب کیا جنہیں اہم ذمہ داریاں سونپی جا سکیں۔


آپ ﷺ کے وصال کے وقت اسلامی ریاست ایک مضبوط اور فعال نظام پر کھڑی تھی۔ یہ ایسا نظام تھا جو آپ ﷺ کی غیر موجودگی میں بھی قائم رہا، اور ابتدائی جھٹکوں کے بعد حیرت انگیز تیزی کے ساتھ پھیلتا گیا۔


جب ہم حضرت محمد ﷺ اور ابتدائی اسلامی تاریخ پر غور کرتے ہیں تو آپ ﷺ کی عظیم کامیابیوں پر حیرت ہوتی ہے۔ حالات نے آپ ﷺ کو ایک منفرد موقع دیا، مگر اصل عظمت اس بات میں ہے کہ آپ ﷺ نے اس موقع کو کس طرح کامیابی سے استعمال کیا۔


اگر آپ ﷺ کے اندر پیغمبرانہ بصیرت، ریاستی حکمت، انتظامی مہارت اور اس سب کے پیچھے اللہ تعالیٰ پر کامل ایمان نہ ہوتا، تو انسانیت کی تاریخ کا یہ عظیم باب کبھی نہ لکھا جاتا۔""


References: (Muhammad Prophet and Statesman

by Watt, W. Montgomery. Pp, 236 -237)


ضرور پڑھیں:

[ اس بلاگ پوسٹ میں دیے گئے اقتباسات اور حوالہ جات غیر مسلم مصنف کی کتاب یا تحریر سے لیے گئے ہیں۔ ہم نے صرف وہ حصے پیش کیے ہیں جن میں مصنف نے انصاف اور ایمانداری کے ساتھ اسلام، قرآن مجید اور نبی کریم حضرت محمد ﷺ کے بارے میں مثبت اور سچائی پر مبنی رائے دی ہے۔ ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ان کتابوں یا مصنفین کی تحریروں میں کئی مقامات پر تعصب، غلط فہمیاں اور اسلام مخالف خیالات بھی پائے جاتے ہیں، جنہیں ہم بحیثیت مسلمان نہ تسلیم کرتے ہیں اور نہ ہی ان کی تائید کرتے ہیں۔

ہمارا مقصد صرف یہ ہے کہ دنیا کے سامنے وہ حقائق رکھے جائیں جہاں غیر مسلم قلم کاروں نے سچائی اور انصاف کے ساتھ اسلام کو بیان کیا ہے۔]


کیا آپ جانتے تھے کہ غیر مسلم اسکالرز نے بھی حضرت محمد ﷺ کی قیادت کو تسلیم کیا ہے؟ اپنی رائے نیچے کمنٹس میں شیئر کریں اور مزید قارئین کو سچائی تک پہنچنے میں مدد دیں!”


مزید پڑھیں:حضرت محمدﷺ غیر مسلم اسکالرز کی نظر میں 


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے