یہ ایک حیران کن حقیقت ہے کہ قرآن صرف مسلمانوں کے عقیدے اور عبادات ہی کا سرچشمہ نہیں بلکہ ان کی تہذیب، علم اور اخلاق کی بنیاد بھی ہے۔ یہاں ہم ول ڈیورانٹ(Will Durant)کے وہ خیالات پیش کر رہے ہیں جو انہوں نے قرآن کریم کے بارے میں بیان کیے، تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ ایک غیر مسلم مؤرخ بھی اس کتابِ الٰہی کے اثرات اور اس کی عظمت کو ماننے پر مجبور ہوا۔
مصنف کا تعارف
ولیم جیمز ڈورانٹ (William James Durant)، جو عموماً ول ڈورانٹ (Will Durant) کے نام سے جانے جاتے ہیں، ایک امریکی مورخ، فلسفی اور مصنف اور استاد تھے۔ ان کی پیدائش 5 نومبر 1885 کو میساچوسٹس، امریکہ میں ہوئی اور 7 نومبر 1981 کو کیلیفورنیا میں ان کا انتقال ہوا۔ ڈورانٹ کو بنیادی طور پر ان کی شہرہ آفاق تصنیف "The Story of Civilization" کے سبب شہرت حاصل ہوئی، جو انہوں نے اپنی اہلیہ آریل ڈورانٹ (Ariel Durant) کے ساتھ مل کر لکھی۔ یہ ضخیم سلسلہ انسانی تاریخ، فلسفہ، مذہب، سیاست اور تہذیب کے مختلف پہلوؤں پر مشتمل ہے۔
1968 میں انہیں "The Story of Civilization" کے ایک حصے پر پلٹزر انعام (Pulitzer Prize) دیا گیا، اور 1977 میں صدارتی تمغہ برائے آزادی (Presidential Medal of Freedom) سے نوازا گیا۔
قرآن مجید کے بارے میں غیر مسلم اسکالر ول ڈیورانٹ کے خیالات
"" قرآن مجید دنیا کی واحد کتاب ہے جس نے صدیوں تک نہ صرف مسلمانوں کے عقیدے اور عبادات کو منظم کیا بلکہ ان کی ساری تہذیب، ثقافت اور اجتماعی کردار کو ڈھالا۔ تیرہ سو برس سے زیادہ عرصے سے یہ مقدس کتاب کروڑوں انسانوں کی یادوں میں زندہ ہے، ان کے تخیل کو بیدار کرتی ہے، ان کی زندگیوں کی سمت طے کرتی ہے اور ان کے کردار کو مضبوط بناتی ہے۔ قرآن مجید وہ کتاب ہے جس سے ایک عام مسلمان نے پڑھنا سیکھا اور پھر یہی کتاب اس کی تعلیم و تربیت کا مرکز اور نقطۂ کمال بن گئی۔
قرآن نے سادہ دل انسانوں کو سب سے سادہ، غیر رسم پرست اور غیر مشرکانہ عقیدہ عطا کیا۔ اس کے پیغام نے نہ صرف اپنے ماننے والوں کی اخلاقی اور ثقافتی سطح کو بلند کیا بلکہ سماجی نظم و اتحاد کو فروغ دیا، صحت و صفائی کی تعلیم دی، توہم پرستی اور ظلم کو کم کیا، غلاموں کے حالات بہتر بنائے اور کمزور طبقات کو عزت و وقار عطا کیا۔ اسلامی معاشرے میں اعتدال، پرہیزگاری اور سنجیدگی کا جو معیار قائم ہوا وہ کسی اور تہذیب میں نظر نہیں آتا۔
قرآن نے انسان کو یہ سکھایا کہ زندگی کی مشکلات اور آزمائشوں کو صبر اور حوصلے سے قبول کرو، لیکن ساتھ ہی یہ بھی باور کرایا کہ دنیا میں ترقی، علم اور خدمتِ خلق کے دروازے کھلے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام کی تاریخ میں ہم سب سے حیران کن وسعت اور ترقی دیکھتے ہیں۔
قرآن مجید نے دین کو نہایت جامع انداز میں بیان کیا جسے ایک یہودی یا عیسائی بھی قبول کر سکتا ہے۔ سورۃ البقرہ کی آیت 177 میں فرمایا گیا:
"نیکی یہ نہیں کہ تم اپنے منہ مشرق یا مغرب کی طرف پھیر لو بلکہ اصل نیکی یہ ہے کہ اللہ پر ایمان لایا جائے، قیامت کے دن پر ایمان ہو، فرشتوں پر ایمان ہو، کتاب پر اور انبیاء پر ایمان ہو۔ اور اللہ کی محبت میں اپنا مال رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں، محتاجوں اور قیدیوں پر خرچ کرے۔ اور جو نماز قائم کرے، عہد کو پورا کرے، مصیبت اور سختی میں صبر کرے، اور لڑائی کے وقت ثابت قدم رہے۔ یہی لوگ سچے ایمان والے ہیں اور یہی رب کے نزدیک نیکوکار ہیں۔""
Reference: (The Story Of Civilization by Will Durant. Pp 183-184)
ضرور پڑھیں:
( اس بلاگ پوسٹ میں دیے گئے اقتباسات اور حوالہ جات غیر مسلم مصنف کی کتاب یا تحریر سے لیے گئے ہیں۔ ہم نے صرف وہ حصے پیش کیے ہیں جن میں مصنف نے انصاف اور ایمانداری کے ساتھ قرآن کے بارے میں مثبت اور سچائی پر مبنی رائے دی ہے۔ ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ان کتابوں یا مصنفین کی تحریروں میں کئی مقامات پر تعصب، غلط فہمیاں اور اسلام مخالف خیالات بھی پائے جاتے ہیں، جنہیں ہم بحیثیت مسلمان نہ تسلیم کرتے ہیں اور نہ ہی ان کی تائید کرتے ہیں۔)
اگر آپ قرآن کے بارے میں مزید غیر مسلم اسکالرز کے خیالات اور تاریخ کے مستند حوالوں کو جاننا چاہتے ہیں تو ہمارے بلاگ کے ساتھ جڑے رہیں۔ یہاں آپ کو تحقیق پر مبنی، مستند اور بامقصد مواد ملے گا جو نہ صرف علم میں اضافہ کرے گا بلکہ آپ کو ایک وسیع فکری تناظر بھی دے گا۔
مزید پڑھیں:





0 تبصرے