دنیا کی تاریخ میں بے شمار عظیم رہنما گزرے، لیکن حضرت محمد ﷺ اپنی سچائی، انکساری اور اعلیٰ کردار کے باعث سب سے منفرد مقام رکھتے ہیں۔ حیرت انگیز طور پر معروف مستشرق اسٹینلی لین پول (Stanley Lane-Poole) ہیں جنہوں نے اپنی کتاب “The Speeches & Table-Talk of the Prophet Muhammad” میں رسولِ اکرم ﷺ کی عاجزی، شفقت اور سادگی کو نہایت دلنشین انداز میں پیش کیا ہے۔ یہ حقیقت اس بات کا ثبوت ہے کہ نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم محققین اور مصنفین بھی نبی کریم ﷺ کی عظمت اور اخلاقِ حسنہ سے گہرے طور پر متاثر ہوئے۔
مصنف کا تعارف
اسٹینلے لین پول(1854ء – 1931ء) انیسویں صدی کے مشہور برطانوی مستشرق، مؤرخ اور ماہرِ اسلامی تہذیب تھے۔ وہ 1854ء میں لندن میں پیدا ہوئے اور علمی ماحول میں پرورش پائی۔ لین پول عربی زبان و ادب، اسلامی تاریخ اور سیرتِ نبویؐ کے موضوعات پر اپنی گہری تحقیق اور عمدہ اسلوبِ تحریر کے باعث شہرت رکھتے ہیں۔ اپنی زندگی کے دوران انہوں نے مختلف موضوعات پر تحقیقی کام کیا، خاص طور پر اسلامی دنیا کی تاریخ، عرب معاشرت، فنونِ لطیفہ وغیرہ پر ان کی خدمات نمایاں ہیں۔
لین پول نے کئی اہم کتابیں لکھیں جن میں The Life of Mohammed، The Moors in Spain اور Medieval India جیسی تصانیف کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ ان کی تحریروں میں مشرقی تاریخ کو مغربی قاری کے لیے آسان اور دلکش انداز میں پیش کرنے کا خاص اہتمام ملتا ہے۔
اسٹینلے لین پول نے اپنی عملی زندگی کا ایک بڑا حصہ تدریس اور تحقیق میں گزارا۔ وہ ڈبلن یونیورسٹی، آئرلینڈ میں عربی زبان اور اسلامی تاریخ کے پروفیسر رہے۔ 1931ء میں ان کا انتقال ہوا مگر ان کی علمی خدمات ہمیشہ زندہ رہیں۔
محمدالرسول اللہ برطانوی مستشرق اسٹینلی لین پول کی نظر میں
"" حضرت محمد ﷺ کو عظیم تخیل کی قوت، بلند فکری، نازک مزاجی اور لطیف جذبات کی نعمت عطا کی گئی تھی۔ ان کی انکساری اور حیا اس حد تک تھی کہ لوگ انہیں دیکھ کر کہا کرتے تھے کہ وہ پردے میں بیٹھی کسی دوشیزہ سے بھی زیادہ باحیا ہیں۔ ان کے اخلاقی اوصاف بھی بے مثال تھے۔ وہ اپنے خادموں اور ماتحتوں کے ساتھ انتہائی نرمی اور شفقت سے پیش آتے اور کبھی کسی کو ڈانٹتے نہیں تھے۔ حضرت انسؓ روایت کرتے ہیں کہ میں نے دس برس تک ان کی خدمت کی مگر انہوں نے مجھے کبھی اُف تک نہ کہا۔
اہلِ خانہ اور بچوں سے ان کی محبت بھی بے حد نمایاں تھی۔ ان کا ایک بیٹا دودھ پلانے والی عورت کے کمرے میں ان کی آغوش میں وفات پا گیا، لیکن اس صدمے کو بھی انہوں نے صبر اور حوصلے سے برداشت کیا۔ وہ بچوں کو دیکھ کر رک جاتے اور ان کے سروں پر ہاتھ پھیرتے۔ اپنی پوری زندگی میں انہوں نے کبھی کسی کو ہاتھ نہیں اٹھایا۔ گفتگو کے دوران ان کی زبان سے سب سے سخت جملہ جو کبھی نکلا وہ یہ تھا کہ اسے کیا ہو گیا ہے، اس کی پیشانی مٹی سے بھر جائے۔ اگر کوئی ان سے کسی پر لعنت یا بددعا کرنے کی درخواست کرتا تو وہ جواب دیتے کہ میں لعنت کرنے کے لیے نہیں بھیجا گیا بلکہ انسانیت پر رحمت بن کر آیا ہوں۔
ان کی عملی زندگی میں بھی سادگی اور خود انحصاری نمایاں تھی۔ وہ بیماروں کی عیادت کرتے، جنازوں میں شریک ہوتے، غلام کی دعوت بھی قبول کر لیتے، اپنے کپڑے خود سی لیتے، بکریوں کا دودھ خود دوہتے اور اپنے ذاتی کام اپنے ہاتھ سے سرانجام دیتے۔ وہ دوسروں پر بوجھ ڈالنے کے بجائے زیادہ تر اپنے کام خود ہی انجام دیتے۔ ان کی پوری زندگی سادہ مگر عظیم اقدار سے مزین تھی، جو انسانیت کے لیے ان کے کردار کو ایک زندہ مثال بنا دیتی ہے۔
وہ کبھی مصافحہ کرتے ہوئے سب سے پہلے ہاتھ نہیں کھینچتے تھے بلکہ ہمیشہ دوسرے شخص کے چھوڑنے تک اپنا ہاتھ تھامے رکھتے۔ جب بھی کسی سے ملتے تو رخ موڑنے میں بھی پہل نہیں کرتے تھے بلکہ انتظار کرتے کہ دوسرا پہلے رخ پھیرے۔ وہ اپنے زیرِ کفالت لوگوں کے سب سے وفادار محافظ تھے، ان کی گفتگو سب سے شیریں اور دل کو بھانے والی ہوتی تھی۔ جو بھی انہیں دیکھتا فوراً ان کے رعب و جلال سے متاثر ہو جاتا، اور جو قریب آتا وہ محبت میں کھنچ جاتا۔ جنہوں نے انہیں دیکھا وہ کہا کرتے کہ نہ ان سے پہلے کبھی ایسا شخص دیکھا اور نہ ان کے بعد۔ وہ عموماً خاموش رہنے والے تھے، لیکن جب گفتگو فرماتے تو انتہائی سنجیدگی اور ٹھہراؤ کے ساتھ بات کرتے۔ ان کی باتیں اتنی بامعنی ہوتیں کہ سننے والا کبھی نہ بھول پاتا۔ اس سب کے باوجود وہ نہایت حساس، بےچین اور بعض اوقات دل گرفتہ اور اداس ہو جاتے۔ مگر یہ کیفیت ہمیشہ باقی نہ رہتی۔ اچانک ان کا مزاج بدل جاتا اور وہ خوش طبع، باتونی اور شوخ ہو جاتے، خاص طور پر اپنے گھر والوں میں۔ اس وقت وہ دلچسپ کہانیاں سناتے، چھوٹی چھوٹی حکایات اور قصے بیان کرتے اور بچوں کے ساتھ کھیلتے، ان کے کھلونوں سے دل بہلاتے۔
ان کی گھریلو زندگی بھی نہایت سادہ تھی۔ وہ اپنی ازواج کے ساتھ چھوٹی چھوٹی جھونپڑیوں میں رہتے تھے جو کھجور کی شاخوں اور مٹی سے جوڑی گئی تھیں۔ گھریلو کاموں میں کسی پر بوجھ نہ ڈالتے، بلکہ آگ جلاتے، جھاڑو دیتے اور بکریوں کا دودھ اپنے ہاتھ سے دوہتے۔ ان کے پاس جو تھوڑا سا کھانا ہوتا وہ آنے والے مہمانوں کے ساتھ بانٹ لیتے۔ ان کے گھر کے باہر ایک چبوترہ تھا جس پر ہمیشہ کچھ غریب لوگ بیٹھے رہتے، جو مکمل طور پر انہی کی سخاوت پر گزارہ کرتے تھے۔ ان لوگوں کو "اصحاب صفہ" کہا جاتا تھا۔ ان کی عام خوراک کھجور اور پانی یا جو کی روٹی تھی۔ دودھ اور شہد انہیں پسند تھے، لیکن یہ نعمتیں بہت کم استعمال کرتے۔ حتیٰ کہ جب وہ پورے عرب کے حاکم بھی بنے تو ریگستانی زندگی کا وہی سادہ طرزِ خوراک ان کے زیادہ قریب رہا۔""
Reference:(The speeches & table-talk of the prophet Mohammad by Lane-Poole, Stanley (1854-1931) Pp. xxviii-xxx
ضرور پڑھیں:
اس بلاگ پوسٹ میں دیے گئے اقتباسات اور حوالہ جات غیر مسلم مصنف کی کتاب یا تحریر سے لیے گئے ہیں۔ ہم نے صرف وہ حصے پیش کیے ہیں جن میں مصنف نے انصاف اور ایمانداری کے ساتھ اسلام، قرآن مجید اور نبی کریم حضرت محمد ﷺ کے بارے میں مثبت اور سچائی پر مبنی رائے دی ہے۔ ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ان کتابوں یا مصنفین کی تحریروں میں کئی مقامات پر تعصب، غلط فہمیاں اور اسلام مخالف خیالات بھی پائے جاتے ہیں، جنہیں ہم بحیثیت مسلمان نہ تسلیم کرتے ہیں اور نہ ہی ان کی تائید کرتے ہیں۔ہمارا مقصد صرف یہ ہے کہ دنیا کے سامنے وہ حقائق رکھے جائیں جہاں غیر مسلم قلم کاروں نے سچائی اور انصاف کے ساتھ اسلام کو بیان کیا ہے۔
Conclusion:
آخرکار یہ بات واضح ہے کہ حضرت محمد ﷺ کی زندگی اور اخلاقی عظمت صرف مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ دنیا بھر کے غیر مسلم محققین کے لیے بھی مشعلِ راہ ہے۔ اسٹینلی لین پول جیسے اسکالرز نے اس حقیقت کو مانا کہ آپ ﷺ کی شفقت، انکساری اور سادگی انسانیت کے لیے ایک زندہ مثال ہیں۔ آج بھی اگر دنیا ان اصولوں کو اپنائے تو امن اور محبت کو فروغ مل سکتا ہے۔
“کیا آپ جانتے ہیں کہ اور کون سے غیر مسلم اسکالرز نے نبی ﷺ کی تعریف کی ہے؟ اپنی رائے کمنٹس میں شیئر کریں اور دوسروں کو متاثر کریں!”
مزید پڑھیں: حضرت محمد ﷺ غیر مسلموں کی نظر میں




0 تبصرے