Unmatched Personality of Prophet Muhammad ﷺ| Diwan Chand Sharma’s About the Prophet

 حضرت محمد ﷺ کی ذات ایک ایسی عظیم اور بے مثال شخصیت ہے جس کے اخلاق، کردار اور تعلیمات نے دنیا کی تاریخ کو بدل دیا۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان عظیم اوصاف کا اعتراف صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ غیر مسلم مصنفین اور محققین نے بھی کیا ہے۔ انہی میں ایک نام دیوان چند شرما کا ہے، جو ایک بھارتی سیاستدان، پروفیسر اور مصنف تھے۔


مصنف کا تعارف 

دیوان چند شرما (Diwan Chand Sharma) ایک معروف بھارتی سیاستدان، پروفیسر اور مصنف تھے جنہوں نے تعلیم، سیاست اور ادب کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دیں۔

دیوان چند شرما 8 مارچ 1896 کو دولت نگر، ضلع گجرات (موجودہ پاکستان) میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم لاہور کے ڈی اے وی ہائی اسکول سے حاصل کی، پھر لاہور کے ڈی اے وی کالج اور کلکتہ کے پریزیڈنسی کالج سے مزید تعلیم حاصل کی۔ وہ پنجاب یونیورسٹی، چندی گڑھ میں انگریزی کے پروفیسر اور شعبہ انگریزی کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔

دیوان چند شرما نے 1952 میں ہاشی پور لوک سبھا سیٹ سے پہلی بار لوک سبھا کے رکن کے طور پر انتخاب جیتا۔ بعد ازاں، 1957 سے 1968 تک وہ گرداسپور حلقہ سے مسلسل منتخب ہوتے رہے۔ وہ بھارتی نیشنل کانگریس کے رکن تھے اور جواہر لال نہرو، گُلزاری لال نندا، لال بہادر شاستری اور اندرا گاندھی کے زیر قیادت کام کرتے رہے۔  دیوان چند شرما نے متعدد کتابیں لکھیں جن میں "ہندو ہیروز اینڈ ہیروئنز" اور "The Prophetof the East" شامل ہیں۔ دیوان چند شرما 23 دسمبر 1969 کو دہلی میں انتقال کر گئے۔ان کی زندگی اور خدمات نے تعلیم، سیاست اور ادب کے شعبوں میں ایک نمایاں مقام حاصل کیا ہے، اور وہ آج بھی اپنے کاموں کے ذریعے یاد کیے جاتے ہیں۔

Prophet Muhammad ﷺ unmatched personality highlighted by Indian author Diwan Chand Sharma in The Prophet of the East"



حضرت محمدﷺ  کی بے مثال شخصیت دیوان چند شرما کا اعتراف


"" حضرت محمدﷺ کا تعلق قریش قبیلے سے تھا جو مکہ کے سب سے طاقتور قبائل میں شمار ہوتا تھا۔ قریش کو حضرت اسماعیلؑ کی نسل مانا جاتا تھا، جیسے یہودی حضرت اسحاقؑ کی نسل سمجھے جاتے ہیں۔

قریش قبیلہ اپنے شاندار ماضی اور بڑے سرداروں پر فخر کرتا تھا۔ انہی میں قصی ایک نمایاں شخصیت تھے۔ وہ امن کے دنوں میں بھی رہنمائی کرتے اور جنگ کے وقت بہادری سے قیادت سنبھالتے۔ انہیں قبیلے کا جھنڈا دیا گیا اور مجلسِ مشاورت میں وہی صدر کی حیثیت رکھتے۔ ان کی سخاوت کا یہ حال تھا کہ مکہ آنے والے حاجیوں کے لیے مہمان نوازی کا انتظام کرتے اور تین دن تک انہیں بلا معاوضہ کھانا پینے کو دیا جاتا۔ ان کے اثر کی وجہ سے سب ان کے فیصلے مانتے۔ ان کے پوتے ہاشم بھی اپنے دادا کی طرح مشہور ہوئے۔ ہاشم نے سخاوت اور دولت کے بل پر قریش کے دل جیتے۔ ایک قحط میں انہوں نے شام سے غلہ منگوا کر لوگوں میں تقسیم کیا، جس پر سب نے انہیں عزت دی۔ ہاشم نے قریش کے لیے تجارت کے نئے راستے بنائے۔ انہوں نے روم، فارس اور حبشہ کے بادشاہوں کے ساتھ معاہدے کیے اور عرب قبائل سے اتحاد قائم کیا تاکہ قریش آزادی سے تجارت کر سکیں۔ اپنی زندگی کے آخری دنوں میں وہ مدینہ گئے اور سلمیٰ نامی عورت سے شادی کی۔ کچھ ہی عرصے بعد ایک سفر پر وہ وفات پا گئے۔ ان کے بعد سلمیٰ کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا جس کا نام عبدالمطلب رکھا گیا۔ یہی عبدالمطلب نبی اکرم ﷺ کے دادا تھے۔


عبدالمطلب جوان ہو کر مکہ کے سردار بن گئے۔ ان کی عقل، بہادری اور فیصلوں نے سب کو متاثر کیا۔ انہی کے زمانے میں زمزم کا پرانا کنواں دوبارہ نکالا گیا جو مٹی سے بھرا ہوا تھا۔ عبدالمطلب نے اسے صاف کرایا اور اس کا پانی پھر سے جاری ہوا۔ لوگ دور دور سے آ کر اس پانی کو پیتے اور عبدالمطلب کو دعائیں دیتے۔ ان کی عزت اتنی بڑھی کہ کچھ لوگ حسد کرنے لگے، لیکن وہ ہمیشہ دانائی سے کام لیتے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ انہیں دس بیٹے دے تاکہ وہ اور طاقتور ہوں۔ اللہ نے ان کی دعا قبول کی اور ان کے بیٹوں میں سب سے چھوٹے عبداللہ تھے، جو نبی اکرم ﷺ کے والد بنے۔


عبداللہ نے آمنہ سے شادی کی۔ آمنہ نہایت نیک اور شریف خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔ شادی کے تھوڑے عرصے بعد عبداللہ کا انتقال ہو گیا۔ ان کی وفات کے چند ماہ بعد، 20 اپریل 571ء کو مکہ میں حضرت محمد ﷺ کی پیدائش ہوئی۔ یہ خبر سن کر عبدالمطلب بہت خوش ہوئے۔ وہ قبیلے کے معزز لوگوں کو ساتھ لے کر پوتے کو دیکھنے گئے۔ انہوں نے بچے کو گود میں اٹھایا، کعبہ لے گئے اور اس کی لمبی عمر اور برکت کی دعا کی۔ بچے کا نام محمد رکھا گیا اور آمنہ انہیں احمد بھی کہتی تھیں۔ دونوں ناموں کا مطلب ہے "تعریف کے لائق"۔


اس وقت مکہ کی رواجی زندگی یہ تھی کہ شریف عورتیں اپنے بچوں کو دودھ نہیں پلاتی تھیں بلکہ دایہ کے سپرد کر دیتی تھیں۔ شروع میں نبی ﷺ کو سویبہ نے دودھ پلایا جو ابو لہب کی لونڈی تھی۔ آپ ﷺ نے ہمیشہ اس کے ساتھ محبت اور عزت کا برتاؤ کیا اور زندگی بھر اس کی مدد کرتے رہے۔ اس کے بعد آپ ﷺ کو بنی سعد کی حلیمہ کے حوالے کیا گیا۔ حلیمہ نے شروع میں یتیم ہونے کی وجہ سے ہچکچاہٹ دکھائی، مگر پھر آپ ﷺ کو لے لیا۔ انہوں نے بے پناہ محبت اور شفقت دی۔ اسی ماحول میں آپ ﷺ صحت مند اور مضبوط ہو کر بڑے ہوئے۔ وہاں آپ نے فصیح عربی سیکھی اور زبان پر خاص مہارت حاصل کی۔ جب کسی نے ان سے ان کی فصاحت کا راز پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ بنی سعد کے درمیان پرورش پانے کی وجہ سے ہے کیونکہ وہ اپنی زبان اور شاعری کے ماہر تھے۔

Prophet Muhammad ﷺ unmatched personality highlighted by Indian author Diwan Chand Sharma in The Prophet of the East"


نبی ﷺ چھ برس تک حلیمہ کے پاس رہے اور ان کی محبت کو ہمیشہ یاد رکھا۔ مشکل وقت میں ان کی مدد کی۔ ایک قحط کے زمانے میں آپ ﷺ نے انہیں اونٹ، بکریاں اور کھانے کی چیزیں دیں۔ آپ ﷺ انہیں اپنی ماں کی طرح چاہتے تھے۔ جب وہ مدینہ میں آپ ﷺ سے ملنے آئیں تو آپ ﷺ رونے لگے اور فرمایا: "میری ماں، میری ماں۔" چھ برس کی عمر میں آپ ﷺ اپنی والدہ آمنہ کے پاس واپس آ گئے۔ کچھ ہی عرصے بعد آمنہ اپنے شوہر کی قبر کی زیارت کے لیے مدینہ گئیں اور بیٹے کو ساتھ لے گئیں۔ مگر واپسی پر بیمار ہو کر انتقال کر گئیں۔ یوں نبی ﷺ چھ برس کی عمر میں یتیم ہو گئے۔ بعد میں جب آپ ﷺ نے اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی تو بہت غمگین ہوئے اور آنسو بہا دیے۔


اپنی والدہ کے انتقال کے بعد نبی کریم ﷺ اپنے دادا عبدالمطلب کی کفالت میں آگئے۔ عبدالمطلب آپ ﷺ سے بے پناہ محبت کرتے اور ان کی پرورش میں بڑی توجہ دیتے تھے۔ لیکن وہ اس وقت بوڑھے تھے اور دو سال بعد ان کا بھی انتقال ہوگیا۔ اس کے بعد آپ ﷺ اپنے چچا ابو طالب کے پاس آ گئے۔ ابو طالب نیک دل اور مہربان انسان تھے۔ وہ اپنے بھتیجے پر بہت فخر کرتے اور ہر وقت ان کی حفاظت اور خیال رکھتے۔


بچپن اور جوانی کے ابتدائی دنوں میں نبی کریم ﷺ اپنی عمر کے لڑکوں سے مختلف تھے۔ وہ صحراؤں اور پہاڑوں کو پسند کرتے اور بکریاں چراتے، لیکن کھیلوں اور عام مشغولیات میں بھی شریک رہتے۔ اس سب کے باوجود وہ نرم مزاج، خوش اخلاق اور سادہ زندگی گزارنے والے تھے۔ ان کی باتوں میں سچائی اور ان کے رویے میں عاجزی اور انکساری نمایاں تھی۔ انہی اوصاف نے سب کے دل جیت لیے۔


بارہ برس کی عمر میں آپ ﷺ کو پہلی بار سفر کا موقع ملا۔ آپ کے چچا ابو طالب شام جا رہے تھے۔ ابتدا میں ابو طالب نے آپ ﷺ کو ساتھ لے جانے سے انکار کیا کہ یہ سفر بچے کے لیے سخت ہے، لیکن آپ ﷺ کے اصرار پر راضی ہو گئے۔ یہ سفر آپ ﷺ کے لیے بہت خوشی کا باعث تھا۔ اس میں آپ ﷺ نے نئی زمینیں دیکھیں، مختلف لوگوں کو جانا اور قافلے کے ساتھیوں سے دلچسپ باتیں سنیں۔


اسی سفر کے دوران شام میں ایک راہب "بحیرا" سے ملاقات ہوئی۔ اس نے آپ ﷺ کی شخصیت کو غور سے دیکھا اور ابو طالب سے کہا کہ یہ بچہ آگے چل کر اپنی قوم کا رہنما اور نجات دہندہ بنے گا۔ اس نے ابو طالب کو نصیحت کی کہ اپنے بھتیجے کی حفاظت کریں۔


واپسی کے بعد نبی کریم ﷺ نے خاموش اور پرسکون زندگی گزاری۔ وہ اکثر تنہائی میں بیٹھ کر سوچتے رہتے اور غوروفکر کرتے۔ یہی عادت بعد میں ان کی زندگی میں بہت فائدہ مند ثابت ہوئی۔


دادا کے انتقال کے بعد مکہ میں قیادت کمزور ہوگئی۔ طاقتور لوگ کمزوروں پر ظلم کرتے اور مسافروں کو لوٹ لیتے۔ ایسے میں چند نیک اور باشعور لوگوں نے، جن میں آپ ﷺ کے قریبی بھی شامل تھے، ایک معاہدہ کیا کہ وہ مظلوموں کا ساتھ دیں گے اور مسافروں کی حفاظت کریں گے۔ اگر کسی کا نقصان ہوتا تو اپنی جیب سے اس کا ازالہ کرتے۔ نبی کریم ﷺ کو یہ معاہدہ بہت پسند تھا، کیونکہ وہ ظلم اور ناانصافی کے سخت خلاف تھے۔


آپ ﷺ اپنے چچا ابو طالب کی خدمت کو سب سے بڑی ذمہ داری سمجھتے تھے۔ وہ ان کے مویشی اور بکریاں چراتے۔ یہ کام اگرچہ عام سمجھا جاتا تھا، لیکن اس نے آپ ﷺ کو تنہائی، سوچ اور صبر سکھایا۔ یہی عادت آگے چل کر آپ ﷺ کی زندگی میں بہت اہم بنی۔


قدرت کے قریب رہنا اور فطرت کے خوبصورت مناظر دیکھنا آپ ﷺ کی شخصیت کو مزید نکھارتا رہا۔ آپ ﷺ عام میلوں اور محفلوں میں کم جاتے، لیکن کبھی کبھار شرکت کرتے۔ وہاں شاعری اور تقریر کے مقابلے ہوتے، جو آپ ﷺ کو پسند تھے کیونکہ ان سے زبان اور علم کا شوق پورا ہوتا تھا۔


پچیس برس کی عمر تک پہنچتے پہنچتے نبی کریم ﷺ مکہ کے نوجوانوں سے بالکل الگ دکھائی دیتے تھے۔ اس زمانے کے زیادہ تر نوجوان شراب نوشی، جوا اور فضول کھیلوں میں لگے رہتے تھے، مگر آپ ﷺ کی زندگی سادہ، پاکیزہ اور اخلاق کی اعلیٰ مثال تھی۔ آپ ﷺ نہایت عاجز اور متواضع تھے، دوستوں کے وفادار اور دشمنوں کے لیے بھی نرم دل۔ ہر شخص سے نرمی سے ملتے، بچوں کے ساتھ محبت کرتے اور مشکلات کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے۔ آپ ﷺ کی دیانت داری اور سچے کردار کی وجہ سے مکہ کے لوگ انہیں "الامین" یعنی سب سے زیادہ امانت دار اور قابلِ اعتماد کے لقب سے یاد کرنے لگے۔

Prophet Muhammad ﷺ unmatched personality highlighted by Indian author Diwan Chand Sharma in The Prophet of the East"


نبی کریم ﷺ اپنی سیرت کی طرح ظاہری شکل و صورت میں بھی نمایاں اور دلکش تھے۔ آپ ﷺ کا چہرہ اور سر تناسب اور حسن کا بہترین نمونہ تھا۔ چوڑے کندھے، خم دار بھنویں، روشن اور گہری نظر والی آنکھیں، خوش شکل ناک، چمکتے سفید دانت اور گھنی داڑھی آپ ﷺ کی شخصیت کو مزید پر وقار بناتی تھی۔ آپ ﷺ ایک خوبصورت اور پرکشش نوجوان تھے جن کی ذہانت، سچائی اور پاکیزگی سب کو متاثر کرتی تھی۔


اس وقت تک آپ ﷺ نے اپنا ذاتی کاروبار شروع نہیں کیا تھا۔ چونکہ آپ ﷺ کے چچا کے کاروبار میں کمی آ گئی تھی، اس لیے آپ ﷺ کو روزگار کی تلاش تھی۔ انہی دنوں مکہ کی ایک معزز اور دولت مند بیوہ خاتون خدیجہؓ نے آپ ﷺ کو ملازمت کی پیشکش کی۔ خدیجہؓ کے والدین نے انہیں بڑا سرمایہ دیا تھا اور وہ خود بھی نہایت امیر اور شریف مزاج تھیں۔ وہ دو بار شادی کر چکی تھیں اور دونوں شوہر مالدار تھے، مگر ان کے انتقال کے بعد خدیجہؓ نے اپنی دولت کو بڑے سلیقے سے سنبھالا۔ ان کی پاکیزگی اور شرافت کے باعث لوگ انہیں "طاہرہ" کہا کرتے تھے۔ خدیجہؓ نوجوانوں کو اپنا سرمایہ دے کر تجارت کے لیے بھیجتیں اور نفع میں حصہ دیتیں۔


انہوں نے محمد ﷺ کو بھی اپنا مال دے کر شام کے شہر بُصرٰی بھیجا۔ وہاں آپ ﷺ نے اپنی سچائی، دیانت اور ذہانت کے ساتھ تجارت کی اور غیر معمولی منافع کمایا۔ واپسی پر جب خدیجہؓ نے آپ ﷺ کے کردار، سیدھے برتاؤ اور عمدہ اخلاق کو دیکھا تو بے حد متاثر ہوئیں۔ آہستہ آہستہ یہ تعلق محبت میں بدل گیا اور خدیجہؓ نے نکاح کی خواہش ظاہر کی۔ اگرچہ آپ ﷺ اور خدیجہؓ کی عمروں میں فرق تھا، مگر آپ ﷺ نے ان کی شرافت، پاکیزگی اور خوبیوں کی وجہ سے انہیں عزت دی اور شادی کر لی۔


یہ شادی خوشیوں اور سکون سے بھری ہوئی تھی۔ آپ ﷺ اور خدیجہؓ نے کئی برس ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور وفاداری میں گزارے۔ ان کے چھ بچے ہوئے جن میں دو بیٹے بھی تھے۔ شادی کے بعد خدیجہؓ کی دولت آپ ﷺ کے تصرف میں آئی اور آپ ﷺ نے اسے نہایت عقل مندی سے استعمال کیا۔ آپ ﷺ نے کاروبار کو ترقی دی اور اپنی دیانت و امانت کے باعث مکہ کے لوگوں کا دل جیت لیا۔ لوگ اپنے قیمتی مال اور سامان آپ ﷺ کے حوالے کر دیتے اور آپ ﷺ ہمیشہ اس اعتماد کو پورا کرتے۔


جب نبی کریم ﷺ کی عمر پینتیس سال ہوئی تو ایک بڑا واقعہ پیش آیا۔ بارشوں کے سبب کعبہ کی عمارت کو نقصان پہنچا تھا، اس لیے اہلِ مکہ نے اسے دوبارہ تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ کام سب کے نزدیک مقدس تھا اور ہر قبیلہ اس میں حصہ لے رہا تھا۔ لیکن جب دیواریں مکمل ہو گئیں اور چھت ڈالی گئی تو ایک جھگڑا کھڑا ہوگیا۔ تنازعہ یہ تھا کہ حجرِ اسود کو اپنی جگہ رکھنے کا شرف کس قبیلے کو ملے۔ ہر قبیلہ یہ اعزاز اپنے لیے چاہتا تھا اور بات جنگ تک پہنچ گئی۔ آخر فیصلہ ہوا کہ جو شخص سب سے پہلے حرم میں داخل ہوگا، وہی ثالث ہوگا۔ تقدیر سے سب سے پہلے محمد ﷺ داخل ہوئے اور سب نے انہیں منصف مان لیا۔


آپ ﷺ نے نہایت حکمت اور دانائی سے مسئلہ حل کیا۔ آپ ﷺ نے اپنی چادر بچھائی، اس پر حجرِ اسود رکھا اور ہر قبیلے کے سردار کو حکم دیا کہ وہ چادر کا ایک ایک کونا پکڑ کر اسے اٹھائیں۔ سب نے مل کر پتھر کو اس کی جگہ تک پہنچایا، پھر آپ ﷺ نے اپنے ہاتھوں سے حجرِ اسود کو اپنی جگہ پر رکھ دیا۔ اس طرح ایک خطرناک جھگڑا ختم ہوا اور سب کا وقار محفوظ رہا۔


خوشحال دنوں میں بھی نبی ﷺ اپنے مہربان چچا ابو طالب کو نہیں بھولے۔ حالات کی سختی اور قحط کی وجہ سے ابو طالب سب بچوں کی کفالت نہیں کر پاتے تھے۔ آپ ﷺ نے ان کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے ان کے بیٹے علیؓ کو اپنی پرورش میں لے لیا، جو بعد میں اسلام کے عظیم سپہ سالار بنے۔


رحمت اور شفقت نبی ﷺ کی فطرت کا حصہ تھی اور ان کے اخلاقی اثرات ہر ایک پر واضح تھے۔ انہی اثرات کے سائے میں ایک غلام زید آیا، جسے آپ کی اہلیہ خدیجہؓ نے خدمت کے لیے دیا۔ زید شام کا رہنے والا تھا جو ڈاکوؤں کے ہاتھوں پکڑا گیا اور غلام بنا دیا گیا۔ کئی ہاتھوں سے گزرتے ہوئے وہ آخرکار خدیجہؓ کے ذریعے نبی ﷺ کی خدمت میں آیا۔ آپ ﷺ کے حسنِ سلوک اور محبت نے زید کو اتنا متاثر کیا کہ آزادی کی پیشکش کے باوجود وہ ہمیشہ آپ ﷺ کے ساتھ رہنا چاہتا تھا۔


جب آپ ﷺ کی عمر چالیس برس پہنچی تو زندگی بظاہر سکون سے گزرتی تھی، مگر دل پر غم اور اداسی کا بوجھ تھا۔ مکہ کے حالات خراب ہو چکے تھے۔ ظلم، غربت اور ناانصافی عام ہو چکی تھی۔ طاقتور کمزور کو دباتے اور امیر لوگ غرور میں ڈوبے تھے۔ سب لوگ بتوں کے سامنے جھکتے اور خدا کی اصل عبادت بھول چکے تھے۔ یہ سب دیکھ کر آپ ﷺ کا دل بے چین رہتا۔ آپ چاہتے تھے کہ قوم کو تاریکی اور پستی سے نکالیں اور ایک خدا کی سچی عبادت کی طرف بلائیں۔ کئی راتیں اور دن غور و فکر میں گزاری تاکہ لوگ بہتر انسان بن سکیں، لیکن یہ راستہ آسان نہیں تھا۔ حقیقت کی روشنی بعد میں نزولِ وحی کے ذریعے ظاہر ہونا تھی۔


مکہ کے قریب پہاڑِ نور کی خاموش وادیوں میں غارِ حرا، نبی ﷺ کے لیے سکون اور غوروفکر کا مرکز تھا۔ یہاں وہ دنیاوی ہنگاموں سے الگ ہو کر زندگی، موت اور اپنی قوم کی پسماندگی پر سوچتے۔ غار کی ویران فضا انہیں باطن کی گہرائیوں میں جھانکنے کا موقع دیتی۔ اسی جگہ سے ان کی نبوت کی عظیم داستان کا آغاز ہوا۔


ایک دن جب وہ غار میں گہرے غور میں تھے تو اچانک ایک عجیب روشنی ظاہر ہوئی اور ایک زوردار آواز سنائی دی۔ یہ پیغام تھا کہ اللہ نے انہیں اپنی رسالت کے لیے منتخب کیا ہے۔ انہیں حکم ملا کہ لوگوں کو سکھائیں کہ صرف ایک خدا ہے، جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ یہ بھاری ذمہ داری تھی کیونکہ لوگ سخت مزاج اور بت پرست تھے۔ آپ ﷺ کو خدشہ تھا کہ انہیں جھٹلایا جائے گا، مذاق اڑایا جائے گا، یا جان سے مارنے کی سازشیں ہوں گی، لیکن یقین تھا کہ اللہ ان کا مددگار ہے۔


آپ ﷺ نے خاموشی اور حکمت کے ساتھ مشن کی ابتدا کی۔ سب سے پہلے اپنے قریبی رشتہ داروں اور دوستوں کو ایک خدا کی وحدانیت کی دعوت دی۔ فرمایا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہی سب پر مہربان، سب پر قادر، دنیا اور انسانوں کا مالک، حساب کے دن کا منصف اور حقیقی قادر مطلق ہے۔ نبی ﷺ نے بتایا کہ ابتدا میں انسان توحید پر تھا لیکن وقت کے ساتھ بھٹک گیا۔ ہر قوم میں انبیاء آئے مگر تعلیمات ضائع ہو گئیں۔ اب آپ ﷺ آخری نبی بنا کر بھیجے گئے تاکہ دنیا کو سیدھا راستہ دکھائیں۔


لوگوں کو بیدار کرنے کے لیے آپ ﷺ نے جنت اور دوزخ کے مناظر بیان کیے۔ جنت نیک لوگوں کا مسکن ہے، خوشبودار باغات اور انگور کی بیلیں ہوں گی۔ دوزخ گناہگاروں کی سزا کا ٹھکانا ہے، جہاں اُبلتا پانی اور دہکتی آگ ہڈیوں تک جلا دے گی۔


ابتدائی طور پر آپ ﷺ نے پیغام صرف قریبی لوگوں تک محدود رکھا۔ سب سے پہلے خدیجہؓ کو یہ راز بتایا، جنہوں نے فوراً ایمان قبول کیا اور اسلام لانے والی پہلی شخصیت بنیں۔ بعد میں علیؓ، نوجوان لڑکے، اور زیدؓ، جنہیں آپ ﷺ نے آزاد کیا، مسلمان ہوئے۔


اس دعوت کو خاندان کے ساتھ چند معزز شخصیات نے بھی قبول کیا۔ ابو بکرؓ، جو مکہ کے بردبار اور معزز تھے، ایمان لائے اور کہا: "اگر میرا دوست کہتا ہے تو یہ سچ ہوگا، کیونکہ وہ ہمیشہ سچ بولتا ہے۔" عثمانؓ، جو بعد میں نبی ﷺ کی بیٹی کے شوہر اور تیسرے خلیفہ بنے، اور سعدؓ، جو مستقبل میں فارس کے عظیم فاتح ثابت ہوئے، بھی مسلمان ہوئے۔ یوں اسلام کے ابتدائی قافلے کی بنیاد پڑی، جو بعد میں ایک عظیم تحریک بننے والا تھا۔


اسلام کے ابتدائی دور میں جو لوگ نبی ﷺ کے پیغام کو قبول کرتے تھے، وہ زیادہ تر عاجز اور کمزور لوگ تھے، جیسے غلام اور غریب کاریگر۔ نبی ﷺ انہیں خفیہ طور پر تعلیم دیتے، کبھی کسی چھوٹے مکان میں اور کبھی شہر کے قریب پہاڑ کے دامن میں۔ آپ ﷺ نے انہیں نماز کا طریقہ سکھایا اور قرآن پاک کی روح پرور آیات سنائیں، جنہوں نے ان کے دلوں کو ایمان اور خدا کی محبت سے بھر دیا اور پاکیزہ زندگی گزارنے کی ترغیب دی۔


ابتدائی طور پر یہ دعوت خفیہ رہی، لیکن کچھ عرصے بعد نبی ﷺ نے مکہ کے لوگوں کے سامنے کھل کر اسلام کی تعلیم دینا شروع کی۔ اس پر بہت سے لوگوں نے سخت مخالفت کی اور پیغام کو ختم کرنے کی کوشش کی۔ آپ ﷺ نے انہیں بتایا کہ بت پرستی بے فائدہ ہے اور یہ بت کسی کی مدد نہیں کر سکتے، جبکہ اللہ وہ ہستی ہے جو پیدا کرنے والا اور حفاظت فرمانے والا ہے۔ لیکن اہلِ مکہ نے نہ مانا اور دشمنی پر اتر آئے۔


اسلام کی مخالفت کی کئی وجوہات تھیں۔ یہ دین لوگوں کو گناہ چھوڑنے اور پاکیزہ زندگی اپنانے کی طرف بلاتا تھا، جبکہ وہ اپنی لذتوں اور برائیوں کو ترک کرنے پر تیار نہیں تھے۔ ساتھ ہی وہ محمد ﷺ کی بڑھتی ہوئی شہرت سے حسد کرنے لگے اور ڈرتے تھے کہ قیادت قریش کے کسی اور فرد کے ہاتھ میں چلی جائے گی۔ اسلام کا یہ اصول بھی انہیں پسند نہیں تھا کہ سب انسان برابر ہیں۔ وہ فخر سے کہتے، "ہم حکمرانی کے لیے پیدا ہوئے ہیں اور وہ خدمت کے لیے۔ ریگستان کی جھاڑی کھجور کے درخت کے برابر کیسے ہو سکتی ہے؟"


اسی غرور اور خوف کی وجہ سے مکہ کے سرداروں نے نبی ﷺ کے خلاف سازشیں شروع کیں۔ پہلے انہوں نے رشوت اور لالچ سے کام لینے کی کوشش کی، لیکن ناکام ہونے پر ظلم و جبر کا سہارا لیا۔ انہوں نے ابو طالب پر دباؤ ڈالا کہ اپنے بھتیجے کو تبلیغ سے روکیں، مگر ابو طالب نبی ﷺ کی سچائی اور اخلاص سے اتنے متاثر تھے کہ دباؤ میں نہ آئے۔


جب قریش کو یقین ہو گیا کہ محمد ﷺ اپنے مشن سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور لوگوں کو ایک خدا کی عبادت کی طرف بلاتے رہیں گے، تو انہوں نے مسلمانوں پر سخت ظلم شروع کر دیا۔ مکہ کی گلیوں میں مسلمانوں کا چلنا دشوار کر دیا گیا۔ راستے میں کانٹے بچھائے گئے، گڑھے کھودے گئے اور مختلف اذیتیں دی گئیں۔


یہ ظلم ہر طبقے پر ڈھایا گیا، لیکن غلام سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ انہیں مالکان مارتے پیٹتے، دہکتی کوئلوں پر لٹاتے اور جلتی ہوئی ریت پر گھسیٹتے۔ حضرت ابو بکرؓ اور حضرت خدیجہؓ نے کئی غلاموں کو آزادی دلانے کے لیے اپنا مال خرچ کیا۔ عورتیں بھی مظالم کا نشانہ بنیں؛ بعض کو پیٹ پیٹ کر قتل کیا گیا، بعض کی بینائی چھین لی گئی۔


ان سب سختیوں کے باوجود اہلِ ایمان اپنے دین سے نہ ہٹے۔ ایک غلام بلال حبشیؓ کو مکہ کی تپتی زمین پر گھسیٹا گیا اور کوڑے مارے گئے، مگر وہ بلند آواز میں دہراتے رہے: "اللہ ایک ہے، اللہ ایک ہے۔" مسلمانوں پر اتنا ظلم ہوا کہ انہوں نے حبشہ کی سرزمین کی طرف ہجرت کرنے کا فیصلہ کیا۔ مگر قریش کے سردار وہاں بھی ان کا پیچھا کرتے ہوئے پہنچ گئے اور حبشہ کے بادشاہ کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ یہ پناہ گزین اپنے ملک سے نکال دیے جائیں۔


اسلام کے ابتدائی دور میں مسلمانوں نے بہت مشکلات برداشت کیں۔ نجاشی کے دربار میں جب قریش کے نمائندے مسلمانوں کو واپس لانے پر زور دے رہے تھے، تو صحابۂ کرام نے انصاف اور سچائی کی بنیاد پر جواب دیا۔ حضرت جعفرؓ نے بادشاہ کو اسلام کی تعلیمات اور اس کے اثرات بیان کیے، کہ یہ دین انسان کے کردار کو سنوارتا ہے اور ظلم و جبر کے ماحول کو عدل و انصاف میں بدل دیتا ہے۔ نجاشی اتنا متاثر ہوا کہ مسلمانوں کو واپس کرنے سے انکار کر دیا اور انہیں اپنے ملک میں امن کے ساتھ رہنے کی اجازت دی۔


ادھر مکہ کے حالات بگڑتے جا رہے تھے۔ قریش اسلام کو ختم کرنے کے لیے سرگرم تھے، لیکن ناکام رہے کیونکہ دین اللہ کے پیغام کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں جگہ بنا رہا تھا۔ اسی دوران دو عظیم شخصیتیں، حضرت حمزہؓ اور حضرت عمرؓ، اسلام میں داخل ہوئے۔ خصوصاً حضرت عمرؓ، جو پہلے نبی ﷺ کے سخت دشمن تھے اور ان کے قتل کا ارادہ رکھتے تھے، قرآن کی تلاوت سن کر اور اپنی بہن کی ایمان داری دیکھ کر دل بدل لیا اور اسلام قبول کیا۔ ان کا مسلمان ہونا اسلام کے لیے ایک بہت بڑی طاقت اور نعمت ثابت ہوا۔


اسلام کے پھیلنے سے قریش کی دشمنی بڑھ گئی۔ انہوں نے مسلمانوں پر مکمل سماجی اور معاشی بائیکاٹ کا فیصلہ کیا۔ ایک معاہدہ لکھا گیا جس میں طے پایا کہ وہ مسلمانوں سے نہ شادی کریں گے، نہ تجارت کریں گے اور نہ کھانا بیچیں گے۔ اس معاہدے کو کعبہ میں لٹکا دیا گیا تاکہ اسے مذہبی حیثیت دی جائے۔


اس بائیکاٹ کے نتیجے میں نبی ﷺ اور صحابۂ کرام شدید مشکلات میں گرفتار ہوئے۔ وہ ابو طالب کے محلے میں محدود کر دیے گئے، جہاں بھوک اور قحط کے سبب لوگ درختوں کے پتے اور خشک چمڑے کھانے پر مجبور ہوگئے۔ اس اذیت ناک حالت میں بھی نبی ﷺ کے قدم نہ ڈگمگائے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: “اے چچا! اگر یہ لوگ میرے دائیں ہاتھ میں سورج اور بائیں ہاتھ میں چاند بھی رکھ دیں تاکہ میں اپنا مشن چھوڑ دوں، تب بھی میں اس کو نہیں چھوڑوں گا۔ میں یا تو کامیاب ہوں گا یا اپنی جان قربان کروں گا۔”


یہ کٹھن دور تین برس تک جاری رہا۔ آخرکار قریش کے کچھ نرم دل افراد کو احساس ہوا کہ یہ سزا حد سے زیادہ سخت ہے اور معاہدہ ختم کر دیا گیا۔ اس آزمائش نے مسلمانوں کے ایمان کو مزید مضبوط کیا اور ان میں اتحاد پیدا کیا۔


لیکن نبی ﷺ کی مشکلات ختم نہ ہوئیں۔ ان کے عظیم محافظ اور کفیل ابو طالب کا انتقال ہو گیا۔ اگرچہ وہ اسلام قبول نہ کر سکے تھے، مگر نبی ﷺ کے لیے ایک ڈھال اور سہارا تھے۔ ان کی وفات کے بعد نبی ﷺ کو زیادہ تنہائی اور شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، اور یہ دور آپ ﷺ کی زندگی کا نہایت کٹھن وقت ثابت ہوا۔



اسلام کی تاریخ کے اس اہم دور کو سمجھنا بہت ضروری ہے کیونکہ یہاں دکھ، صبر، ہجرت اور اللہ کی مدد کے روشن پہلو واضح ہوتے ہیں۔ نبی ﷺ نے مکہ میں سخت مشکلات اور اذیتیں برداشت کیں۔ سب سے زیادہ دکھ کی بات یہ تھی کہ آپ کی وفادار رفیقہ حضرت خدیجہؓ اور چچا حضرت ابو طالب کا انتقال ہو گیا، اسی لیے اس سال کو "عام الحزن" یعنی غم کا سال کہا گیا۔


طائف میں تبلیغ کے دوران بھی آپ ﷺ کو سخت مخالفت اور سنگ باری کا سامنا کرنا پڑا، لیکن اس کے باوجود آپ ﷺ نے صبر اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا۔ آپ کی شخصیت اور اخلاق اتنے عظیم تھے کہ ایک غیر مسلم غلام بھی اسلام لے آیا۔


مدینہ کے لوگ نبی ﷺ کی ایمان و وفاداری سے متاثر ہوئے اور انہوں نے جان، مال اور عزت کے ساتھ آپ ﷺ کا دفاع کرنے کا عہد کیا۔ اسی وقت ہجرت کا فیصلہ ہوا، جو مسلمانوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ اور اسلام کی بنیاد مضبوط کرنے والا ثابت ہوا۔ ہجرت کی رات نبی ﷺ کا محفوظ نکل جانا اور حضرت علیؓ کا بستر پر سونا، قربانی اور ایمان کی وہ عظیم مثال ہے جو تاریخ کبھی نہیں بھولے گی۔


قریش نے آپ ﷺ کا تعاقب جاری رکھا، اور ایک موقع پر آپ ﷺ اور حضرت ابوبکرؓ ایک غار میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ دشمن قریب آ گئے، لیکن اللہ تعالیٰ کی مدد سے وہ محفوظ رہے۔ نبی ﷺ نے حضرت ابوبکرؓ کو تسلی دی اور فرمایا: "غم نہ کرو، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔" دشمن قریب آ کر بغیر دیکھے واپس لوٹ گیا۔


تیرہ دن کی طویل مسافت کے بعد نبی ﷺ مدینہ پہنچے۔ مدینہ کے لوگ خوشی اور عقیدت کے ساتھ استقبال کے لیے آئے۔ عورتیں چھتوں سے سلام پیش کر رہی تھیں، بچے خوشی سے جھوم رہے تھے اور لوگ رنگین لباس پہن کر خوش آمدید کہہ رہے تھے۔ مدینہ کے وہ لوگ جنہوں نے اسلام قبول کیا تھا "انصار" کہلائے اور مکہ سے ہجرت کرنے والے مسلمانوں کو "مہاجرین" کہا گیا۔ اسی ہجرت سے اسلامی تاریخ کی بنیاد رکھی گئی۔


مدینہ میں نبی ﷺ کو قیادت دی گئی اور سب سے پہلا قدم مسجد کی تعمیر تھا تاکہ مسلمان باجماعت عبادت کر سکیں۔ مسجد کی دیواریں مٹی اور کچی اینٹوں سے بنائی گئیں اور چھت کھجور کی شاخوں سے ڈالی گئی۔ نبی ﷺ نے خود بھی کام کیا تاکہ محنت کا درس عملی طور پر سب کے لیے پیش کیا جا سکے۔


غزوۂ بدر کے بعد مسلمانوں کی فتح نے ان کے حوصلے بلند کیے اور اسلام کے لیے ایک مضبوط بنیاد رکھی، مگر اُحد کی جنگ میں حالات مختلف تھے۔ نبی ﷺ نے اپنے ساتھیوں کو دیکھا تو اللہ سے دعا کی: "اے اللہ! اگر مسلمان ختم ہو گئے تو زمین پر کون تیری عبادت کرے گا؟" آپ ﷺ نے لشکر کو حوصلہ دیا اور فرمایا کہ ثابت قدم رہیں، تیر چلائیں، فتح تمہارے لیے ہے۔


لڑائی کے آغاز میں قریش برتری حاصل کر گئے اور مسلمان تھوڑے بکھر گئے، لیکن نبی ﷺ کی دعاؤں اور ہمت افزائی نے انہیں دوبارہ منظم کیا۔ آپ ﷺ نے خاک کی مٹھی بھر اُڑائی اور کہا: "اے اللہ! قریش کے غرور کو توڑ دے۔" اس کے بعد مسلمانوں نے بھرپور حملہ کیا، قریش کو شکست دی اور کئی قیدی پکڑے، مگر نبی ﷺ نے قیدیوں کے ساتھ رحم اور انصاف سے پیش آئے۔""


Reference: ( Prophet of the East by Diwan Chand Sharma. pp. 87, 107 )


حضرت محمد ﷺ کی بے مثال شخصیت صرف مسلمانوں کے لیے ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دیوان چند شرما جیسے غیر مسلم مصنفین نے بھی ان کے اخلاق، تعلیمات اور انسانیت دوست کردار کو تسلیم کیا۔


ضرور پڑھیں: 

اس بلاگ پوسٹ میں دیے گئے اقتباسات اور حوالہ جات غیر مسلم مصنف کی کتاب یا تحریر سے لیے گئے ہیں۔ ہم نے صرف وہ حصے پیش کیے ہیں جن میں مصنف نے انصاف اور ایمانداری کے ساتھ اسلام، قرآن مجید اور نبی کریم حضرت محمد ﷺ کے بارے میں مثبت اور سچائی پر مبنی رائے دی ہے۔ ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ان کتابوں یا مصنفین کی تحریروں میں کئی مقامات پر تعصب، غلط فہمیاں اور اسلام مخالف خیالات بھی پائے جاتے ہیں، جنہیں ہم بحیثیت مسلمان نہ تسلیم کرتے ہیں اور نہ ہی ان کی تائید کرتے ہیں۔ ہمارا مقصد صرف یہ ہے کہ دنیا کے سامنے وہ حقائق رکھے جائیں جہاں غیر مسلم قلم کاروں نے سچائی اور انصاف کے ساتھ اسلام کو بیان کیا ہے۔


کیا آپ جانتے ہیں کہ مزید کون سے غیر مسلم مؤرخین نے نبی ﷺ کی تعریف کی ہے؟ 

 مزید پڑھیں:حضرت محمد غیر مسلموں کی نظر میں 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے