حضرت حسن بصری کے 25 اقوال زرین | Hasan Basri Best Quotes Urdu

 حضرت حسن بصری کے مشہور اقوال (Hazrat Hassan al Basri Quotes in Urdu)

Hazrat Hassan Basri Islamic Urdu Quotes


ایک تابعی جن کی ایک بات سن کر ظالم بادشاہ بھی کانپ جاتے تھے، گنہگار روتے ہوئے توبہ کر لیتے تھے،

اور عام آدمی زندگی بھر کے لیے بدل جاتا تھا۔

آج کے بے سکون دور میں وہی سنہری باتیں آپ کے سامنے ہیں،

جو نفس کو قابو میں لاتی ہیں، دنیا کی ہوس نکالتی ہیں،

اور اللہ سے سیدھا رشتہ جوڑ دیتی ہیں۔

25 منتخب، مستند اقوال، ہر ایک کے ساتھ مختصر تشریح۔

اگر آپ واقعی تبدیلی چاہتے ہیں تو اگلے چند منٹ آپ کی زندگی کا ٹرننگ پوائنٹ ہو سکتے ہیں۔ آئیے شروع کریں۔


حضرت حسن بصری _تعارف

حسن بصری (21–110 ہجری / 642–728 عیسوی)، جن کا مکمل نام ابو سعید الحسن بن ابی الحسن یسار البصری ہے، اسلامی تاریخ کے عظیم ترین تابعی، زاہد، واعظ، مفسرِ قرآن اور مجددِ قرنِ اوّل مانے جاتے ہیں۔ مدینہ منورہ میں 21 ہجری کو پیدا ہونے والے حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کی والدہ خیرہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی لونڈی تھیں، جس کی وجہ سے بچپن ہی سے آپ صحابہ کرام کے مبارک حلقوں میں پلے بڑھے۔ چودہ سال کی عمر میں بصرہ منتقل ہوئے جو اس وقت علم، زہد اور تقویٰ کا سب سے بڑا مرکز بن چکا تھا۔

حسن بصری رضی اللہ عنہ نے حضرت علی، حضرت عثمان، حضرت عائشہ، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہم اجمعین سمیت تقریباً ستر صحابہ کرام سے براہِ راست روایات سماعت کیں۔ آپ کی وعظ کی مجالس میں ہزاروں افراد جمع ہوتے تھے اور ایک جملہ سن کر لوگ روتے ہوئے توبہ کر لیتے تھے۔ اموی دور کے ظالم گورنر حجاج بن یوسف کے سامنے بھی آپ نے حق کھل کر بیان کیا اور کبھی جھکے نہیں۔

زہد و تقویٰ کے معاملے میں حسن بصری کی زندگی ایک روشن مثال ہے۔ دنیا سے بے رغبتی ایسی کہ فرمایا کرتے تھے: ”میں نے دنیا کو تین طلاقیں دے دی ہیں۔“ رات کا بڑا حصہ تہجد، قرآن کی تلاوت اور اللہ کے خوف میں آنسو بہاتے گزرتا۔ آپ کے مشہور اقوال آج بھی لاکھوں لوگوں کی زندگیوں میں انقلاب برپا کر رہے ہیں۔

10 رجب 110 ہجری کو 89 سال کی عمر میں بصرہ میں وفات پائی۔ جنازے میں لاکھوں افراد شریک ہوئے اور آپ کا مزار آج بھی زیارت گاہ ہے۔ 

حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی اور اقوال آج کے تناؤ، مادی حصاروں اور نفس کی جنگ کے دور میں اصلاحِ قلب، تزکیۂ نفس اور اللہ سے براہِ راست تعلق کے متلاشی ہر شخص کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ ان کی حکمتوں پر عمل آج بھی وہی سکون اور کامیابی عطا کرتا ہے جو چودہ صدیوں پہلے کرتا تھا۔

Hazrat Hassan Basri Islamic Urdu Quotes


حضرت حسن بصری کے 25 بہترین اقوال 


 قول 1: "یاد رکھو جو شریر لوگوں سے صحبت رکھے گا وہ اپنی شرارت نفس کے ماتحت ہوگا اور اگر اس میں بھلائی اور نیکی ہوگی تو وہ اخیار کے ساتھ ہی صحبت پسند کرے گا۔"


یہ اقوال حضرت حسن بصری رحمہ اللہ کی طرف سے صحبت کی اہمیت پر زور دیتا ہے، جو بتاتا ہے کہ بری صحبت انسان کو برائی کی طرف مائل کرتی ہے۔ اگر کوئی شخص برے لوگوں کے ساتھ رہے تو اس کا نفس شرارت کی طرف جھک جائے گا، جبکہ نیک طبیعت والا ہمیشہ اچھے لوگوں کی طرف راغب رہے گا۔ یہ حکمت ہمیں بتاتی ہے کہ اچھی صحبت سے ہی دل کی پاکیزگی برقرار رہتی ہے اور برائی سے بچاؤ ممکن ہوتا ہے۔  



 قول 2: "جو کام حکمت سے خالی ہے وہ آفت ہے، جو خاموشی سے خالی ہے وہ غفلت ہے، جو نظر حکمت سے خالی ہے وہ ذلت ہے۔"


حضرت حسن بصری رحمہ اللہ یہاں حکمت، خاموشی اور بصیرت کی اہمیت بیان کر رہے ہیں، جو زندگی کے ہر عمل میں ضروری ہیں۔  

بغیر سوچ سمجھے کیا گیا کام تباہی کا باعث بنتا ہے، جبکہ بغیر خاموشی کے بات چیت غفلت کو جنم دیتی ہے۔  

نظر اگر حکیمانہ نہ ہو تو انسان ذلت کا شکار ہو جاتا ہے، یہ اقوال روحانی اور عملی زندگی کی بنیاد رکھتا ہے۔  

اسے اپنانے سے انسان کی زندگی میں توازن آتا ہے اور وہ کامیابی کی طرف بڑھتا ہے۔


قول 3: "جھوٹا سب سے پہلے اپنے آپ کو نقصان پہنچاتا ہے۔"


یہ سادہ مگر گہرا قول حضرت حسن بصری رحمہ اللہ کی طرف سے جھوٹ کی تباہ کاریوں پر روشنی ڈالتا ہے۔  

جھوٹ بولنے والا سب سے پہلے اپنے ضمیر اور روح کو زخمی کرتا ہے، جو لمبے عرصے میں اس کی شخصیت کو کمزور کر دیتا ہے۔  

اسلامی اخلاقیات میں سچائی کو ایمان کی بنیاد قرار دیا گیا ہے، اور یہ قول اس اصول کی یاد دہانی ہے۔  

حضرت حسن بصری کے یہ الفاظ ہمیں بتاتے ہیں کہ جھوٹ سے حاصل ہونے والا فائدہ عارضی ہوتا ہے مگر نقصان مستقل۔  

آج کے سماج میں جہاں جھوٹ عام ہے، یہ اقوال اخلاقی اقدار کو بحال کرنے میں مدد کرتا ہے۔  

اسے اپنا کر انسان اپنے اندرونی سکون اور دوسروں کے اعتماد کو برقرار رکھ سکتا ہے۔


قول 4: "جسے خدا ذلیل کرنا چاہے وہ دولت کی تلاش میں لگ جاتا ہے۔"


حضرت حسن بصری رحمہ اللہ یہاں دنیاوی دولت کی لالچ اور اس کے نتائج پر تنبیہ کر رہے ہیں۔  

اللہ تعالیٰ جب کسی کو ذلیل کرنا چاہے تو اسے مال و دولت کی ہوس میں مبتلا کر دیتا ہے، جو روحانی موت کا باعث بنتی ہے۔  

یہ اقوال زہد اور قناعت کی تعلیم دیتا ہے، جو اسلامی فلسفے کا بنیادی حصہ ہے۔ حضرت حسن بصری کی زندگی خود زہد کی مثال تھی، اور یہ الفاظ ان کی تعلیمات کا خلاصہ ہیں۔ آج کے مادی پرست دور میں یہ اقوال ہمیں یاد دلاتا ہے کہ حقیقی دولت ایمان اور اچھے اعمال میں ہے۔ اس حکمت کو اپنانے سے انسان دنیا کی غلامی سے آزاد ہو کر اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔

Hazrat Hassan Basri Islamic Urdu Quotes


قول 5: "انسان کا سب سے بڑا دشمن خود اس کا نفس ہے۔"

یہ مشہور اقوال حضرت حسن بصری رحمہ اللہ کی طرف سے نفس کی جدوجہد پر مبنی ہے، جو جہاد اکبر کی یاد دلاتا ہے۔  

انسان کا سب سے بڑا دشمن بیرونی نہیں بلکہ اندرونی ہے، یعنی اس کا نفس جو برائی کی طرف مائل کرتا ہے۔ اسلام میں نفس کی اصلاح کو ترجیح دی جاتی ہے، اور یہ اقوال اسی کی ترغیب دیتا ہے۔ حضرت حسن بصری کے یہ الفاظ خود احتسابی اور تزکیہ نفس کی اہمیت بیان کرتے ہیں۔ آج کے نفسانی خواہشات سے بھرے معاشرے میں یہ حکمت خود کو کنٹرول کرنے کا درس دیتی ہے۔  

اسے سمجھ کر انسان اپنی کمزوریوں پر قابو پا کر روحانی بلندی حاصل کر سکتا ہے۔


 قول 6: "دنیا ایک گہرا سمندر ہے جس میں بہت سے لوگ ڈوب چکے ہیں، اس کی کشتی تقویٰ ہے۔"


حضرت حسن بصری رحمہ اللہ نے دنیا کو سمندر اور تقویٰ کو کشتی قرار دے کر بہت خوبصورت استعارہ استعمال کیا۔ جو شخص تقویٰ کو تھامے گا وہی دنیا کے طوفانوں سے محفوظ رہے گا، ورنہ ڈوبنا یقینی ہے۔ یہ اقوال ہمیں بتاتا ہے کہ دنیا کی محبت اور لالچ انسان کو غرق کر دیتی ہے۔ تقویٰ یعنی اللہ کا خوف دل میں رکھنا ہی واحد نجات کا ذریعہ ہے۔ آج کے مادی دور میں یہ نصیحت انتہائی اہم ہے کہ دنیا کو ذریعہ بناؤ، مقصد نہ بناؤ۔ اس حکمت کو اپنانے سے انسان دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب ہو جاتا ہے۔


قول 7: "جو شخص اللہ کے سوا کسی سے ڈرتا ہے، اللہ اسے اسی سے ڈراتا رہتا ہے۔"


یہ گہرا اقوال توحید اور توکل کی عظمت کو بیان کرتا ہے۔ جب انسان کا دل مخلوق کے خوف سے بھر جاتا ہے تو اللہ اسے اسی خوف میں مبتلا رکھتا ہے۔ مگر جو صرف اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ اس کے دل سے تمام خوف نکال دیتا ہے۔ حضرت حسن بصری رحمہ اللہ یہاں بتاتے ہیں کہ حقیقی بہادری اللہ پر توکل میں ہے۔ یہ بات آج بھی سچی ہے کہ لوگ نوکری، دولت، عزت اور لوگوں کے ڈر میں جیتے ہیں۔ اس اقوال پر عمل سے انسان کو دلی سکون اور عزتِ نفس نصیب ہوتی ہے۔


قول 8: "عملِ صالحہ کے بغیر دعویٰ ایمان کی کوئی حیثیت نہیں۔"


حضرت حسن بصری رحمہ اللہ نے ایمان اور عمل کے رشتے کو بہت واضح کیا۔ صرف زبان سے "میں مومن ہوں" کہنا کافی نہیں، اسے اعمال سے ثابت کرنا پڑتا ہے۔ نیک عمل ہی ایمان کی گواہی دیتے ہیں، ورنہ دعویٰ کھوکھلا ہے۔ یہ اقوال منافقوں اور سست مسلمانوں کے لیے سخت تنبیہ ہے۔ آج کے دور میں جب لوگ صرف باتوں کے مسلمان بنے ہیں، یہ نصیحت جگانے والی ہے۔  

اسے اپنانے سے انسان کا ایمان مضبوط اور زندگی پاکیزہ ہو جاتی ہے۔


قول 9: "جس نے اپنی آخرت کو بہتر بنانا ہو، اسے دنیا کی فکر چھوڑ دینی چاہیے۔"


حضرت حسن بصری رحمہ اللہ زہد کی ایسی بات کہتے تھے جو دل کو چھو لے۔ دنیا کی فکر اور حرص انسان کو آخرت سے غافل کر دیتی ہے۔ جو شخص آخرت کو مقدم رکھتا ہے، اللہ اس کی دنیا بھی سنوار دیتا ہے۔ یہ اقوال قناعت اور بے نیازی کا سبق دیتا ہے۔  

آج جب ہر طرف دولت کی دوڑ ہے، یہ حکمت انسان کو صحیح سمت دکھاتی ہے۔ اس پر عمل سے دل کو چین اور زندگی کو برکت ملتی ہے۔


قول 10: "تین چیزیں انسان کو تباہ کر دیتی ہیں: بخل، حسد اور کبر۔"


حضرت حسن بصری رحمہ اللہ نے تین بڑی روحانی بیماریوں کی نشاندہی کی۔ بخل دولت کو روکتا ہے، حسد سکون چھینتا ہے، اور کبر عزت برباد کرتا ہے۔ یہ تینوں برائیاں دل کو کالا کر دیتی ہیں اور آخرت تباہ کر دیتی ہیں۔ حضرت حسن بصری خود ان بیماریوں سے پاک زندگی گزارے، اس لیے ان کی بات میں وزن ہے۔  

آج کا معاشرہ انہی تین چیزوں سے بھرا پڑا ہے، یہ اقوال علاج ہیں۔  

ان سے بچ کر انسان دنیا و آخرت میں سرخرو ہو سکتا ہے۔


قول 11: "سب سے بڑی عبادت خاموشی سے اللہ کو یاد کرنا ہے۔"


حضرت حسن بصری رحمہ اللہ نے ذکرِ قلبی کو تمام عبادتوں کی ماں قرار دیا۔ زبان سے بلند آواز کا ذکر بھی اچھا ہے مگر دل کی خاموش تسبیح اللہ کے سب سے قریب کرتی ہے۔ یہ قول بتاتا ہے کہ عبادت کا اصل دارومدار نیت اور خلوص پر ہے۔ مصروف زندگی میں جب نماز اور تلاوت کا وقت نہ ملے، دل سے ذکر جاری رکھو۔  

حضرت حسن بصری خود گھنٹوں خاموشی سے اللہ کو یاد کرتے رہتے تھے۔ اس عمل سے دل روشن اور روح مطمئن ہوتی ہے، یہ اللہ والوں کا خاص وطیرہ ہے۔


قول 12: "جس نے موت کو یاد رکھا، اس کی دنیا اور آخرت دونوں سنور گئیں۔"


حضرت حسن بصری رحمہ اللہ موت کی یاد کو دنیا کی تمام لذتوں پر غالب سمجھتے تھے۔ موت کا یقینی علم انسان کو گناہ سے روکتا اور نیکی کی طرف لے جاتا ہے۔ جو موت کو بھول جائے وہ دنیا میں غرق ہو کر آخرت برباد کر لیتا ہے۔ یہ اقوال ہر لمحہ ہمیں بیدار رہنے کی تلقین کرتا ہے۔ حضرت حسن بصری فرماتے تھے کہ موت کی یاد دل میں ہو تو کوئی گناہ دل میں جگہ نہیں بنا سکتا۔ اس یاد سے زندگی سدھر جاتی ہے اور قبر و حشر دونوں آسان ہو جاتے ہیں۔


قول 13: "اللہ کی رحمت اس شخص کے قریب ہوتی ہے جو دوسروں کے عیب چھپاتا ہے۔"

حضرت حسن بصری رحمہ اللہ پردہ پوشی کو اللہ کی رحمت کھینچنے کا بہترین ذریعہ سمجھتے تھے۔ جو شخص دوسروں کے عیب دیکھ کر بھی چپ رہتا ہے، اللہ اس کے عیب دنیا و آخرت میں چھپاتا ہے۔ عیب جوئی اور غیبت دل کو کالا کرتی ہے جبکہ پردہ پوشی ایمان کی علامت ہے۔ آج کے دور میں جب سوشل میڈیا پر لوگوں کی برائیاں وائرل کی جاتی ہیں، یہ اقوال سخت تنبیہ ہے۔  

حضرت حسن بصری خود کسی کے عیب پر زبان کھولنے سے گریز کرتے تھے۔ اس صفت سے معاشرہ پاکیزہ اور دلوں میں محبت بڑھتی ہے۔


قول 14: "قرآن کی تلاوت کرو، کیونکہ یہ دل کے زنگ کو دور کرتا ہے۔"


حضرت حسن بصری رحمہ اللہ قرآن کو روح کی دوا اور دل کی صفائی کا بہترین ذریعہ قرار دیتے تھے۔ گناہوں اور غفلت سے دل پر زنگ لگ جاتا ہے، قرآن کی ت0وت اسے چمکا دیتی ہے۔ تلاوت نہ صرف ثواب کا باعث ہے بلکہ دل کو نورانی اور فکر کو صہ بناتی ہے۔  

حضرت حسن بصری خود راتوں کو قرآن پڑھ کر روتے تھے اور دل کی کثافت دور کرتے تھے۔ آج جب دلوں پر مادییت کا زنگ چڑھا ہوا ہے، یہ نصیحت ازحد ضروری ہے۔ روزانہ قرآن کی چند آیتیں بھی پڑھ لی جائیں تو زندگی بدل جاتی ہے۔


قول 15: "جھوٹ بولنے والے کا چراغ جلد بجھ جاتا ہے۔"

حضرت حسن بصری رحمہ اللہ جھوٹ کو ایمان اور عزت کا سب سے بڑا دشمن سمجھتے تھے۔ جھوٹا شخص تھوڑے دن چمکتا ہے، پھر اس کی ساکھ اور وقار ختم ہو جاتا ہے۔ سچائی ہی وہ روشنی ہے جو رات کے اندھیرے میں بھی راستہ دکھاتی ہے۔ یہ اقوال کاروبار، رشتوں اور معاشرتی زندگی سب کے لیے سبق ہے۔ حضرت حسن بصری فرماتے تھے کہ ایک جھوٹ دس جھوٹوں کو جنم دیتا ہے اور آخر کار تباہی لے آتا ہے۔ سچائی اپناؤ تو اللہ عزت اور برکت خود عطا فرماتا ہے۔


 قول 16: "جس نے اپنے رب سے شرم نہیں کی، وہ مخلوق سے کیسے شرم کرے گا؟"


حضرت حسن بصری رحمہ اللہ حیا کو ایمان کا حصہ قرار دیتے تھے۔  

جو شخص تنہائی میں گناہ کرتے ہوئے اللہ سے نہیں ڈرتا، وہ لوگوں کے سامنے بھی بے حیائی کرے گا۔ حقیقی حیا اللہ کی معرفت سے پیدا ہوتی ہے، مخلوق کا ڈر تو عارضی ہوتا ہے۔ یہ اقوال آج کے بے پردگی والے دور میں سب سے بڑی نصیحت ہے۔ حضرت حسن بصری خود اتنی حیا رکھتے تھے کہ رات کو چھت پر بھی سر ڈھانپ کر سو جاتے تھے۔ اس صفت سے انسان فرشتوں جیسا بن جاتا ہے اور اللہ اسے عزت دیتا ہے۔


قول 17: "نیکی کر کے اسے چھوٹا نہ سمجھو، کیونکہ پہاڑ بھی چھوٹے پتھروں سے بنتے ہیں۔"


حضرت حسن بصری رحمہ اللہ چھوٹی نیکیوں کی بڑی قدر بتاتے تھے۔ ایک مسکراہٹ، ایک درود، ایک گلاس پانی، یہ سب آخرت میں پہاڑ بن جاتے ہیں۔ لوگ بڑی نیکیوں کے انتظار میں چھوٹی نیکیاں چھوڑ دیتے ہیں، یہ شیطان کا دھوکہ ہے۔  

یہ قول ہمیں بتاتا ہے کہ اللہ چھوٹے عمل کو بھی بڑا ثواب دیتا ہے۔  

حضرت حسن بصری خود راستے سے کانٹا ہٹانے کو بھی صدقہ سمجھتے تھے۔ اس سوچ سے زندگی نیکیوں سے بھر جاتی ہے اور آخرت کا سرمایہ جمع ہوتا ہے۔


قول 18: "جس نے صبر نہ کیا، اس نے اپنا حصہ کھو دیا۔"


حضرت حسن بصری رحمہ اللہ صبر کو ایمان کا نصف قرار دیتے تھے۔ مصیبت میں گھبرانے والا اور نعمت میں اترانے والا دونوں نقصان میں رہتے ہیں۔ صبر کرنے والے کو اللہ اتنا بہتر بدلہ دیتا ہے کہ وہ بھول جاتا ہے کہ اس نے کتنا دکھ برداشت کیا۔  

یہ قول آج کے فوری نتائج مانگنے والے دور میں سب سے بڑا سبق ہے۔ حضرت حسن بصری خود بڑی بڑی مصیبتوں میں صبر سے ڈٹے رہے۔ صبر سے قسمت بھی بدل جاتی ہے اور درجات بھی بلند ہو جاتے ہیں۔


قول 19: "گناہ کے بعد سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ انسان اس سے توبہ نہ کرے۔"


حضرت حسن بصری رحمہ اللہ توبہ کو اللہ کی رحمت کا سب سے بڑا دروازہ سمجھتے تھے۔ گناہ تو انسان سے ہو جاتا ہے، لیکن توبہ نہ کرنا یہ اللہ کی رحمت سے مایوسی ہے۔ جو شخص سچے دل سے توبہ کر لیتا ہے، اللہ اس کے گناہ ایسے مٹا دیتا ہے جیسے کبھی ہوئے ہی نہ ہوں۔ یہ قول ہر گنہگار کے لیے امید کی کرن ہے۔  

حضرت حسن بصری خود راتوں کو رو رو کر توبہ کرتے تھے حالانکہ وہ تابعی اور ولی تھے۔ توبہ سے انسان دوبارہ پاک ہو جاتا ہے اور اللہ اس سے محبت کرنے لگتا ہے۔


قول 20: "بہترین انسان وہ ہے جو لوگوں کے لیے سب سے زیادہ نفع کا باعث ہو۔"


حضرت حسن بصری رحمہ اللہ دین کو دوسروں کے ساتھ بھلائی کرنے میں دیکھتے تھے۔  

نماز، روزہ، حج سب اپنی جگہ، مگر مخلوق کی خدمت سے بڑی کوئی عبادت نہیں۔ جو شخص لوگوں کے دکھ درد بانٹتا ہے، اللہ اس کے درجات بلند کرتا ہے۔  

یہ قول ہمیں بتاتا ہے کہ دین صرف اپنے لیے نہیں، دوسروں کے لیے ہے۔ حضرت حسن بصری خود بصرہ میں یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کی خدمت کرتے تھے۔ اس صفت سے معاشرہ جنت بن جاتا ہے اور اللہ کی رحمت برستی ہے۔


 قول 16: "جس نے اپنے رب سے شرم نہیں کی، وہ مخلوق سے کیسے شرم کرے گا؟"


حضرت حسن بصری رحمہ اللہ حیا کو ایمان کا حصہ قرار دیتے تھے۔  

جو شخص تنہائی میں گناہ کرتے ہوئے اللہ سے نہیں ڈرتا، وہ لوگوں کے سامنے بھی بے حیائی کرے گا۔ حقیقی حیا اللہ کی معرفت سے پیدا ہوتی ہے، مخلوق کا ڈر تو عارضی ہوتا ہے۔  

یہ قول آج کے بے پردگی والے دور میں سب سے بڑی نصیحت ہے۔  

حضرت حسن بصری خود اتنی حیا رکھتے تھے کہ رات کو چھت پر بھی سر ڈھانپ کر سو جاتے تھے۔ اس صفت سے انسان فرشتوں جیسا بن جاتا ہے اور اللہ اسے عزت دیتا ہے۔


قوال 17: "نیکی کر کے اسے چھوٹا نہ سمجھو، کیونکہ پہاڑ بھی چھوٹے پتھروں سے بنتے ہیں۔"


حضرت حسن بصری رحمہ اللہ چھوٹی نیکیوں کی بڑی قدر بتاتے تھے۔ ایک مسکراہٹ، ایک درود، ایک گلاس پانی، یہ سب آخرت میں پہاڑ بن جاتے ہیں۔ لوگ بڑی نیکیوں کے انتظار میں چھوٹی نیکیاں چھوڑ دیتے ہیں، یہ شیطان کا دھوکہ ہے۔  

یہ قول ہمیں بتاتا ہے کہ اللہ چھوٹے عمل کو بھی بڑا ثواب دیتا ہے۔  

حضرت حسن بصری خود راستے سے کانٹا ہٹانے کو بھی صدقہ سمجھتے تھے۔ اس سوچ سے زندگی نیکیوں سے بھر جاتی ہے اور آخرت کا سرمایہ جمع ہوتا ہے۔


قول 18: "جس نے صبر نہ کیا، اس نے اپنا حصہ کھو دیا۔"

حضرت حسن بصری رحمہ اللہ صبر کو ایمان کا نصف قرار دیتے تھے۔ مصیبت میں گھبرانے والا اور نعمت میں اترانے والا دونوں نقصان میں رہتے ہیں۔ صبر کرنے والے کو اللہ اتنا بہتر بدلہ دیتا ہے کہ وہ بھول جاتا ہے کہ اس نے کتنا دکھ برداشت کیا۔  

یہ قول آج کے فوری نتائج مانگنے والے دور میں سب سے بڑا سبق ہے۔ حضرت حسن بصری خود بڑی بڑی مصیبتوں میں صبر سے ڈٹے رہے۔ صبر سے قسمت بھی بدل جاتی ہے اور درجات بھی بلند ہو جاتے ہیں۔


قول 19: "گناہ کے بعد سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ انسان اس سے توبہ نہ کرے۔"


حضرت حسن بصری رحمہ اللہ توبہ کو اللہ کی رحمت کا سب سے بڑا دروازہ سمجھتے تھے۔ گناہ تو انسان سے ہو جاتا ہے، لیکن توبہ نہ کرنا یہ اللہ کی رحمت سے مایوسی ہے۔ جو شخص سچے دل سے توبہ کر لیتا ہے، اللہ اس کے گناہ ایسے مٹا دیتا ہے جیسے کبھی ہوئے ہی نہ ہوں۔  

یہ قول ہر گنہگار کے لیے امید کی کرن ہے۔ حضرت حسن بصری خود راتوں کو رو رو کر توبہ کرتے تھے حالانکہ وہ تابعی اور ولی تھے۔ توبہ سے انسان دوبارہ پاک ہو جاتا ہے اور اللہ اس سے محبت کرنے لگتا ہے۔


قول 20: "بہترین انسان وہ ہے جو لوگوں کے لیے سب سے زیادہ نفع کا باعث ہو۔"


حضرت حسن بصری رحمہ اللہ دین کو دوسروں کے ساتھ بھلائی کرنے میں دیکھتے تھے۔ نماز، روزہ، حج سب اپنی جگہ، مگر مخلوق کی خدمت سے بڑی کوئی عبادت نہیں۔ جو شخص لوگوں کے دکھ درد بانٹتا ہے، اللہ اس کے درجات بلند کرتا ہے۔  

یہ قول ہمیں بتاتا ہے کہ دین صرف اپنے لیے نہیں، دوسروں کے لیے ہے۔ حضرت حسن بصری خود بصرہ میں یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کی خدمت کرتے تھے۔ اس صفت سے معاشرہ جنت بن جاتا ہے اور اللہ کی رحمت برستی ہے۔


خلاصہ:

یہ 25 اقوال پڑھ لینا کافی نہیں، انہیں جینا شروع کر دیں۔

بس ایک قول آج سے اپنائیں، کل آپ خود کو بدلا ہوا پائیں گے۔

اللہ ہمیں حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کے نقشِ قدم پر چلائے، ان کی شفاعت نصیب فرمائے۔ آمین


اب کمنٹ میں اپنا پسندیدہ قول ضرور لکھیں،

صدقۂ جاریہ بن جائے گا۔

جزاک اللہ خیراً

مزید اسلامی شخصیات کے اقوال، کہانیاں، اور سیرت کے موتی پڑھنے کے لیے لنک پر کریں۔


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے