Top 20 Hazrat Salman Farsi Quotes | Hazrat Salman Farsi Kay Aqwal

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ تلاشِ حق کا عظیم مسافر  

Best Sayings of Hazrat Salman Farsi


حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ وہ عظیم صحابی ہیں جنہوں نے فارس کی آگ پرستی چھوڑی، مسیحیت کے راہبوں سے علم حاصل کیا، غلامی کی ذلت برداشت کی اور آخر کار مدینہ میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ مبارک پر ایمان لایا۔  .وہ پہلے غیر عرب صحابی تھے جنہیں رسول اللہ ﷺ نے "اہل بیت" میں شمار فرمایا


حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ_تعارف

حضرت سلمان فارسی (وفات: 35 ہجری/656ء یا 36 ہجری/657ء)، جن کی کنیت ابو عبد اللہ تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معروف صحابی، اہل بیت میں شامل غیر عرب صحابی، اور اسلامی تاریخ کے اہم راویوں اور زاہدین میں سے ایک تھے۔ وہ ایران (فارس) کے شہر جے (موجودہ رام ہرمز یا اصفہان کے قریب) میں ایک زرتشتی گھرانے میں پیدا ہوئے اور حقیقت کی تلاش میں متعدد مراحل طے کرنے کے بعد مدینہ منورہ پہنچ کر اسلام لائے۔

سلمان فارسی ایک امیر زرتشتی سردار کے بیٹے تھے۔ جوانی میں آگ پرستی سے دل اچاٹ ہوا تو گھر چھوڑ کر شام، موصل، نسيبين اور عموریہ کے مسیحی راہبوں کے پاس رہے۔ آخری راہب نے انہیں آنے والے آخری نبی کی نشانیاں بتائیں اور عرب کی طرف ہجرت کرنے کا مشورہ دیا۔ بنو کلاب کے ایک قافلے کے ساتھ سفر کرتے ہوئے انہیں غلام بنا لیا گیا اور بالآخر مدینہ میں ایک یہودی (اموی بن قیس) کے ہاتھ بیچ دیا گیا۔

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے مدینہ ہجرت فرما کر تشریف لائے تو سلمان نے آپ میں وہ تمام نشانیاں پائیں جو راہبوں نے بتائی تھیں، خصوصاً:

- مہرِ نبوت

- صدقہ نہ کھانا، ہدیہ قبول کرنا

- کھانا کھلانے کی عادت

سلمان نے اپنی آزادی کے لیے اپنے مالک سے 300 کھجور کے درخت لگانے اور 40 اوقیہ سونا ادا کرنے کا معاہدہ کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود درخت لگائے جو معجزاتی طور پر اگ گئے اور صحابہ نے سونا ادا کیا۔ اس طرح سلمان آزاد ہوئے اور مواخات میں رسول اللہ نے انہیں اپنا بھائی قرار دیا۔

   سلمان فارسی نے ایرانی فوج کے طریقہ کار سے واقفیت کی وجہ سے خندق کھودنے کا مشورہ دیا جو جنگ کی کامیابی کا سبب بنا۔ اس موقع پر مہاجرین اور انصار نے ایک دوسرے پر فخر کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  

   "سلمان منا أهل البيت"   (سلمان ہم اہل بیت میں سے ہیں)

   خلافتِ عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں قادسیہ اور نہاوند کی لڑائیوں میں حصہ لیا۔ خلیفہ عمر نے انہیں مدائن (تیسفون) کا گورنر مقرر کیا۔مدائن کی گورنری کے باوجود سلمان فارسی انتہائی سادہ زندگی گزارتے تھے۔

سلمان فارسی کی وفات 35 یا 36 ہجری میں مدائن میں ہوئی۔  معتبر روایات ان کی عمر 80 سے 88 سال کے قریب قرار دیتی ہیں۔ ان کی قبر مدائن (سلمان پاک، عراق) میں ہے جو شیعہ اور سنی دونوں کے لیے زیارت گاہ ہے۔


حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے 20 بہترین اقوال 


1. "تمہارے رب کا تم پر حق ہے، تمہاری جان کا تم پر حق ہے اور

 تمہارے گھر والوں کا تم پر حق ہے۔"**  

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ ایک عظیم صحابی تھے جو فارس سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ زرتشتی مذہب میں پیدا ہوئے اور حقیقت کی تلاش میں مسیحیت اختیار کی۔ پھر وہ غلام بن کر مدینہ پہنچے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچان کر اسلام لائے۔ وہ رسول اللہ کے گھرانے کا حصہ سمجھے جاتے تھے۔ ان کی زندگی توازن اور اعتدال کی مثال ہے۔ وہ حضرت ابو درداء کو نصیحت کرتے ہوئے زندگی کے مختلف حقوق کی یاد دلاتے تھے۔ ان کی یہ بات زندگی میں توازن کی اہمیت سکھاتی ہے۔


2. "میں سلمان ہوں، اسلام کا بیٹا، آدم کی اولاد سے۔"**  

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی پیدائش ایران کے ایک امیر گھرانے میں ہوئی۔ وہ آگ کی پرستش کرنے والے تھے لیکن حقیقت کی تلاش میں گھر چھوڑ دیا۔ وہ مختلف ممالک میں گھومتے رہے اور مسیحی راہبوں سے سیکھا۔ آخر کار وہ عرب آئے اور غلام بن گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آزادی کا بندوبست کیا۔ وہ اپنی اصلیت کو اسلام سے جوڑتے تھے۔ ان کی یہ بات اسلام کی عالمگیریت کو ظاہر کرتی ہے۔

20 Timeless Hazrat Salman Farsi Quotes That Will Deeply Inspire You”


3.  "تمہیں چاہئے کہ قبل اس کے جھگڑا ہو جائے کنارہ کشی اختیار کرلو۔"**  

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے زندگی بھر علم اور حکمت کی تلاش کی۔ وہ فارس سے نکل کر شام اور عراق گئے۔ وہاں انہوں نے مختلف مذاہب کا مطالعہ کیا۔ مدینہ میں وہ کھجور کے باغ میں کام کرتے تھے۔ وہ رسول اللہ کی نشانیاں پہچان کر مسلمان ہوئے۔ ان کی یہ نصیحت تنازعات سے بچنے کی اہمیت بتاتی ہے۔ وہ ہمیشہ امن اور صلح کی بات کرتے تھے۔


4.  "اچھے کام پہلے پہل دل کو ناگوار گزرتے ہیں مگر پھر وہ اسے اچھے لگنے لگتے ہیں اور برے کام پہلے پہل دل کو اچھے لگتے ہیں مگر پھر وہ اسے ناگوار گزرنے لگتے ہیں۔"**  

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ جنگ خندق میں خندق کھودنے کا مشورہ دیا۔ یہ ایرانی طریقہ تھا جو مسلمانوں نے اپنایا۔ وہ رسول اللہ کے قریب ترین ساتھیوں میں سے تھے۔ انہوں نے قرآن کا فارسی ترجمہ کیا۔ وہ پہلے غیر عربی زبان میں قرآن ترجمہ کرنے والے تھے۔ ان کی یہ بات نیکی اور برائی کی فطرت بیان کرتی ہے۔ وہ زندگی میں صبر کی تلقین کرتے تھے۔


5. "دنیا مومن کے لیے قید خانہ ہے اور کافر کے لیے جنت۔"**  

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ مدائن کے گورنر بنے۔ وہاں انہوں نے عدل و انصاف قائم کیا۔ وہ سادگی سے رہتے تھے اور ٹوکریاں بنا کر کماتے تھے۔ ان کی تنخواہ کا زیادہ حصہ صدقہ کر دیتے تھے۔ وہ رسول اللہ کے بعد حضرت علی کے قریب رہے۔ ان کی یہ بات دنیا کی حقیقت بیان کرتی ہے۔ وہ آخرت پر توجہ دلاتے تھے۔


6.  "جو شخص اپنے پیٹ کو دنیا میں سب سے زیادہ بھرتا ہے وہ آخرت میں سب سے زیادہ بھوکا ہوگا۔"**  

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے اپنے باپ کے گھر سے بھاگ کر حقیقت تلاش کی۔ وہ مسیحی راہب کے پاس رہے اور موت کے وقت نبی کی نشانیاں سیکھیں۔ وہ عرب آتے ہوئے دھوکے سے غلام بنے۔ مدینہ میں رسول اللہ کو دیکھ کر ایمان لائے۔ انہوں نے کھجوروں سے رسول اللہ کا امتحان لیا۔ ان کی یہ نصیحت اعتدال کی اہمیت بتاتی ہے۔ وہ ہمیشہ زہد کی زندگی گزارتے تھے۔


7.  "اللہ جب کسی کو ذلیل کرنا چاہے تو اس سے شرم چھین لیتا ہے۔"**  

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ شیعہ روایات میں چار عظیم صحابیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ ابوذر، عمار اور مقداد کے ساتھ تھے۔ انہوں نے فارس کی فتح میں حصہ لیا۔ وہ دریائے دجلہ پار کرنے کا دعا کیا۔ فوج بغیر ڈوبے پار ہوئی۔ ان کی یہ بات اخلاقی اقدار کی حفاظت سکھاتی ہے۔ وہ علم اور عمل کے امتزاج تھے۔


8.  "تورات میں پڑھا کہ کھانے کی برکت اس سے پہلے ہاتھ دھونا ہے۔"**  

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن عباس کو تفیسر سکھایا۔ وہ زرتشتی، مسیحی اور اسلامی علوم کے ماہر تھے۔ انہوں نے وضو کے بارے میں احادیث بیان کیں۔ وہ چمڑے کے جرابوں پر مسح کرنے کی اجازت بتاتے تھے۔ رسول اللہ نے انہیں لوکمان حکیم کہا۔ ان کی یہ بات صفائی کی اہمیت بیان کرتی ہے۔ وہ مذہبی روایات کو جوڑتے تھے۔


9.  "اسلام خوش نصیبی پیدا کرتا ہے۔"**  

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی قبر مدائن میں ہے۔ وہ 652 یا 656 میں وفات پائے۔ ان کی عمر 88 سال تھی۔ وہ صوفی سلسلوں میں تیسرے مقام پر ہیں۔ وہ عوویسی شاہ مقصود میں شامل ہیں۔ ان کی یہ بات اسلام کی برکت بیان کرتی ہے۔ وہ زندگی بھر اسلام کی خدمت کرتے رہے۔


10.  "اگر ایمان ثریا پر بھی ہو تو فارس کے لوگ اسے حاصل کریں گے۔"**  

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ پہلے ایرانی مسلمان تھے۔ رسول اللہ نے ان کے بارے میں آیت کا حوالہ دیا۔ وہ مہاجرین اور انصار کے درمیان جھگڑے میں اہل بیت قرار پائے۔ انہوں نے رسول اللہ کے بال کاٹے۔ وہ بہائی مذہب میں بھی معتبر ہیں۔ ان کی یہ بات ایمان کی تلاش سکھاتی ہے۔ وہ قوم کی اہمیت بیان کرتے تھے۔


11. "میں اللہ کی طرف جا رہا ہوں، ناکافی دل اور مناسب توشے کے بغیر۔"**  

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے خلیفہ عمر کے دور میں مدینہ کا دورہ کیا۔ لوگوں نے ان کا استقبال کیا۔ وہ سادگی سے رہتے تھے۔ انہوں نے ایک چادر پہنی اور درخت کے نیچے سوتے تھے۔ وہ اپنی موت کے وقت یہ شعر کہا۔ ان کی یہ بات آخرت کی تیاری کی یاد دلاتی ہے۔ وہ زاہد اور عابد تھے۔

20 Timeless Hazrat Salman Farsi Quotes That Will Deeply Inspire You”


12.  "اچھے خاصے نوجوان سستی کرتے ہیں، محنت سے جی چراتے ہیں۔"**  

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے غلامی میں بھی صبر کیا۔ وہ کھجور کے درخت پر کام کرتے تھے۔ رسول اللہ نے 300 درخت لگا کر انہیں آزاد کیا۔ وہ معجزاتی طور پر درخت زندہ ہوئے۔ ان کی یہ نصیحت محنت کی اہمیت بتاتی ہے۔ وہ نوجوانوں کو کام کی تلقین کرتے تھے۔ وہ خود کماتے اور کھاتے تھے۔


13. "اپنے ہاتھ کی کمائی کھانا بہتر ہے۔"**  

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے فارس کی فتح کے بعد لوگوں کو اسلام، جزیہ یا جنگ کا اختیار دیا۔ وہ عدل سے حکومت کرتے تھے۔ ان کے پاس 30 ہزار فوج تھی۔ وہ صدقہ دیتے اور سادگی اختیار کرتے تھے۔ ان کی یہ بات خودداری سکھاتی ہے۔ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتے تھے۔ وہ ٹوکریاں بنا کر بیچتے تھے۔


14. "حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبوت کی مہر دیکھ کر ایمان لایا۔"**  

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ کی پیٹھ پر مہر نبوت دیکھی۔ یہ مسیحی راہب کی بتائی نشانی تھی۔ وہ صدقہ اور ہدیہ سے امتحان لیا۔ رسول اللہ نے صدقہ نہ کھایا۔ ان کی یہ بات ایمان کی تصدیق بیان کرتی ہے۔ وہ نشانیوں پر یقین رکھتے تھے۔ وہ علم کی بنیاد پر اسلام لائے۔


15. "جنت ان کی عاشق اور مشتاق تھی۔"**  

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ نے جنت کے پھل کھلائے۔ وہ دنیا میں جنت کے مشتاق تھے۔ رسول اللہ انہیں بہت عزیز رکھتے تھے۔ وہ چار صحابیوں میں سے تھے جنہیں اللہ نے حکم دیا کہ علی سے محبت کریں۔ ان کی یہ بات جنت کی آرزو بیان کرتی ہے۔ وہ آخرت پر مرکوز تھے۔ وہ زہد کی زندگی گزارتے تھے۔


16. "کھیتوں کی دیکھ بھال تمہارے ذمے ہے۔"**  

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ غلامی میں بھی ذمہ داری نبھاتے تھے۔ وہ یہودی مالک کے لیے کام کرتے تھے۔ ایک دن مالک نے انہیں کھیتوں کی نگرانی سونپی۔ وہ وہاں رسول اللہ کے بارے میں سنا۔ ان کی یہ بات ذمہ داری کی اہمیت بتاتی ہے۔ وہ ہر حال میں وفادار تھے۔ وہ اسلام لانے سے پہلے بھی ایماندار تھے۔


17. "سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے مجھے اپنا واقعہ بیان کیا۔"

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن عباس کو اپنی کہانی سنائی۔ وہ تلاش حق کا سفر بیان کرتے تھے۔ وہ فارس سے نکل کر مختلف راہبوں کے پاس گئے۔ آخر کار اسلام پایا۔ ان کی یہ بات تلاش کی اہمیت سکھاتی ہے۔ وہ زندگی کا سفر بیان کرتے تھے۔ وہ دوسروں کو سبق دیتے تھے۔


18. "حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو عبداللہ تھی۔"

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ نے آزاد کرایا۔ وہ رام ہرمز کے رہنے والے تھے۔ ان کی عمر طویل تھی۔ وہ فارس کے شہر سے تھے۔ ان کی یہ بات شناخت بیان کرتی ہے۔ وہ اسلام کی بنیاد پر پہچانے جاتے تھے۔ وہ صحابیوں میں ممتاز تھے۔


19.  "سلمان! جاؤ اور گڑھے کھودو۔"

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے خندق میں پتھر توڑنے کی کوشش کی۔ رسول اللہ نے پتھر توڑا اور چنگاریاں نکلیں۔ انہوں نے یمن، شام اور مشرق کی فتح دیکھی۔ یہ معجزہ تھا۔ ان کی یہ بات فتح کی بشارت بیان کرتی ہے۔ وہ جنگ میں فعال تھے۔ وہ ایرانی حکمت استعمال کرتے تھے۔


20. "حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اپنے بھائی کو لے کر گھر گئے۔"

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ حضرت ابوالدرداء کے بھائی تھے۔ وہ انہیں توازن سکھاتے تھے۔ وہ گھر میں دیکھا کہ وہ روزہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کھانا کھلایا اور نماز کی رات گزارنے دی۔ ان کی یہ بات بھائی چارے کی اہمیت بتاتی ہے۔ وہ صحابیوں کے درمیان رہنمائی کرتے تھے۔ وہ زندگی کے اصول سکھاتے تھے۔


اس تحریر کو شیئر کریں تاکہ ایمان کی یہ روشنی دوسروں تک   بھی پہنچے۔

● کمنٹ میں لکھیں: کون سا قول آپ کے دل کو سب سے زیادہ چھو گیا؟

● مزید اسلامی شخصیات کے اقوال، کہانیاں، اور سیرت کے موتی پڑھنے کے لیے لنک پر کریں۔ 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے