ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک بچہ رہتا تھا جس کا نام علی تھا۔ علی بہت چنچل اور شرارتی تھا۔ کھیل کود میں وہ سب سے آگے رہتا لیکن اس کی ایک بری عادت تھی۔ علی اکثر جھوٹ بولتا۔ کبھی کہتا کہ اس کے بستے کو کسی نے چرا لیا ہے، حالانکہ بستہ گھر پر رکھا ہوتا۔ کبھی کہتا کہ اسکول کے امتحان میں سب سے زیادہ نمبر اس نے لیے ہیں، لیکن اصل میں ایسا نہیں ہوتا۔ شروع میں دوست اس کی باتوں پر یقین کرتے تھے، مگر جب بار بار حقیقت سامنے آتی تو وہ سب ہنسنے لگتے۔
علی جھوٹ بول کر دوسروں کو پریشان کرنے میں مزہ لیتا تھا۔ ایک دن اس نے گاؤں کے بچوں کو کہا: "آج میں نے جنگل میں ایک شیر دیکھا!" سب بچے ڈر گئے اور گھبراہٹ میں بھاگنے لگے۔ لیکن جب پتہ چلا کہ وہاں کوئی شیر نہیں تھا تو سب نے علی کو جھوٹا کہا۔ اس کی ماں نے اسے سمجھایا: "بیٹا! جھوٹ بولنے والا کبھی عزت نہیں پاتا۔ اللہ جھوٹ کو پسند نہیں کرتا، اور لوگ بھی ایسے شخص پر اعتماد نہیں کرتے۔" مگر علی نے امی کی بات کو سنجیدگی سے نہ لیا اور اپنی پرانی عادت پر قائم رہا۔
وقت گزرتا گیا اور علی کی جھوٹی باتیں سب کو عادی بنا گئیں۔ ایک دن وہ کھیتوں میں کھیل رہا تھا۔ اچانک گھاس میں سے ایک زہریلا سانپ نکلا اور اس کے قریب آنے لگا۔ علی کا رنگ اڑ گیا۔ وہ زور زور سے چیخنے لگا: "بچاؤ! بچاؤ! یہاں سانپ ہے!" اس کی آواز پورے گاؤں تک پہنچی۔ لیکن گاؤں کے لوگ ہنسنے لگے۔ وہ سمجھے کہ یہ پھر کوئی نیا جھوٹ ہے اور سب نے کہا: "یہ تو ہمیشہ جھوٹ بولتا ہے، آج بھی ضرور مذاق کر رہا ہوگا۔"
سانپ آہستہ آہستہ قریب آنے لگا اور علی کے قدم لرزنے لگے۔ وہ رونے لگا اور دوبارہ چلایا: "سچ کہہ رہا ہوں، مجھے بچاؤ!" مگر اس بار بھی کسی نے یقین نہ کیا۔ کچھ دیر بعد ایک کسان وہاں پہنچا اور اس نے اپنی لاٹھی سے سانپ کو بھگا دیا۔ علی کانپ رہا تھا۔ کسان نے سخت لہجے میں کہا: "بیٹا! اگر تم ہمیشہ سچ بولتے تو آج لوگ تمہاری بات پر یقین کرتے۔ جھوٹ بولنے والا جب سچ بولے تب بھی کوئی نہیں مانتا۔
علی کے دل پر یہ بات تیر کی طرح لگی۔ اس نے سب کے سامنے روتے ہوئے معافی مانگی۔ دوستوں سے کہا: "میں نے تم سب کو بار بار دھوکہ دیا۔ اب میں وعدہ کرتا ہوں کہ کبھی جھوٹ نہیں بولوں گا۔" اس کے گھر والے خوش ہوئے کہ علی نے آخرکار سبق سیکھ لیا۔ اس دن کے بعد علی ہمیشہ سچ بولنے لگا۔ رفتہ رفتہ سب نے اس پر دوبارہ اعتماد کرنا شروع کیا اور گاؤں میں اس کی عزت بڑھ گئی۔
اخلاقی پیغام
سچائی روشنی ہے، جھوٹ اندھیرا ہے۔ جھوٹ بولنے کا نقصان یہ ہے کہ لوگ آپ کی بات پر یقین کرنا چھوڑ دیتے ہیں، اور مشکل وقت میں کوئی مدد کے لئے نہیں آتا۔ ہمیشہ سچ بولنا چاہیے تاکہ اللہ بھی راضی ہو اور لوگ بھی عزت دیں۔
“کیا آپ کے بچوں کو یہ کہانی پسند آئی؟ نیچے کمنٹس میں ہمیں بتائیں اور اپنے بچوں کو مزید سبق آموز اردو کہانیاں پڑھنے کے لئے ہمارا بلاگ ضرور وزٹ کریں!”
مزید پڑھیں:بچوں کی اخلاقی کہانیاں


0 تبصرے