امام بخاریؒ ( 13 شوال 194 ہجری / 810 عیسوی، بخارا) اسلام کے سب سے عظیم محدثین میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کا اصل نام محمد بن اسماعیل البخاری تھا۔ وہ اپنی مشہور کتاب الجامع الصحیح (صحیح بخاری) کی وجہ سے دنیا بھر میں جانے جاتے ہیں، جو قرآنِ مجید کے بعد سب سے معتبر اور صحیح ترین کتاب سمجھی جاتی ہے۔اس کے علاوہ التاریخ الکبیر اور الادب المفرد جیسی اہم کتابیں بھی تصنیف کیں۔
بچپن میں ہی امام بخاریؒ کو غیر معمولی ذہانت اور قوتِ حافظہ عطا ہوئی۔ روایت ہے کہ دس برس کی عمر میں ہی وہ ہزاروں احادیث حفظ کرچکے تھے۔ بغداد میں ایک امتحان کے دوران آپ نے سو احادیث کی تمام اسناد درست کر کے اپنی غیر معمولی قوتِ حافظہ اور علمی عظمت ثابت کی۔
امام بخاریؒ نے اپنی پوری زندگی احادیثِ نبویؐ کے جمع و تدوین میں صرف کی۔ ان کی محنت اور علمی دیانت کی وجہ سے انہیں امام المحدثین کہا جاتا ہے۔علم حدیث کی تلاش میں آپ نے مکہ، مدینہ، بغداد، بصرہ، کوفہ، شام اور مصر کا سفر کیا اور لاکھوں احادیث جمع کیں۔
امام بخاریؒ کو زندگی کے آخری ایام میں کچھ مخالفتوں اور آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ نیشاپور اور بخارا سے نکلنے پر مجبور ہوئے اور آخرکار خرتنگ (سمرقند کے قریب) میں سکونت اختیار کی۔ وہ 1 شوال 256 ہجری بمطابق 31 اگست 870 عیسوی کو وفات پاگئے۔ ان کی قبر آج بھی زیارت گاہ ہے۔
امام بخاریؒ کے مشہور اقوال اور ان کی وضاحت
قول 1:
"صحیح علم وہی ہے جو قرآن و سنت سے ماخوذ ہو۔"
وضاحت: امام بخاریؒ نے اپنی پوری زندگی قرآن و حدیث کی خدمت میں وقف کر دی۔ وہ ہمیشہ اس بات پر زور دیتے کہ حقیقی علم وہی ہے جو قرآن مجید اور سنتِ رسول ﷺ سے حاصل کیا جائے۔ اس قول کی روشنی میں ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی دینی اور دنیاوی زندگی کو قرآن و حدیث کی روشنی میں ڈھالیں، تاکہ علم صرف زبان تک نہ رہے بلکہ عمل کی صورت اختیار کرے۔
قول 2:
"علم نیت اور اخلاص کے بغیر فائدہ نہیں دیتا۔"
وضاحت: امام بخاریؒ نے اپنی کتاب "صحیح بخاری" کا آغاز بھی حدیثِ نیت سے کیا۔ ان کا ماننا تھا کہ اگر علم حاصل کرنے میں نیت خالص نہ ہو تو وہ علم بے فائدہ ہے۔ آج کے دور میں بھی یہ سبق ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے کہ چاہے ہم دینی تعلیم حاصل کریں یا دنیاوی، نیت صرف اللہ کی رضا ہونی چاہیے۔
قول 3:
"حدیث وہی قابل قبول ہے جس کی سند صحیح اور راوی ثقہ ہوں۔"
وضاحت: امام بخاریؒ نے احادیث جمع کرنے کے لیے ہزاروں میل کا سفر کیا۔ وہ اس بات پر بہت سختی کرتے کہ ہر حدیث کی سند (Chain of Narrators) مکمل اور معتبر ہو۔ یہی وجہ ہے کہ "صحیح بخاری" کو دنیا کی سب سے مستند کتاب مانا جاتا ہے۔ ان کے اس قول سے معلوم ہوتا ہے کہ دین میں بات کہنے کے لیے تحقیق اور سچائی لازمی ہے۔
قول 4:
"علم بغیر عمل کے بوجھ ہے۔"
وضاحت: امام بخاریؒ کے نزدیک صرف علم حاصل کرنا کافی نہیں بلکہ اس پر عمل کرنا بھی ضروری ہے۔ اگر انسان علم تو حاصل کرے لیکن اس پر عمل نہ کرے تو وہ صرف کتابوں کا بوجھ ہے۔ اس قول سے سبق ملتا ہے کہ ہمیں قرآن و حدیث کو پڑھنے کے ساتھ ساتھ اپنی زندگی میں اپنانا بھی ہے۔
قول 5:
"ہر مسلمان پر علم حاصل کرنا فرض ہے۔"
وضاحت: امام بخاریؒ نے اس قول کے ذریعے تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ وہ فرماتے ہیں کہ دین کی بنیادی سمجھ حاصل کرنا ہر مرد و عورت پر فرض ہے۔ یہ قول آج کے مسلمانوں کے لیے بھی رہنمائی ہے کہ وہ علم حاصل کرنے کو اپنی پہلی ترجیح بنائیں۔
قول 6:
"صحیح عقیدہ ہی علم کی بنیاد ہے۔"
وضاحت: امام بخاریؒ کا عقیدہ بالکل قرآن و سنت کے مطابق تھا۔ وہ فرماتے تھے کہ اگر عقیدہ درست نہ ہو تو علم اور عمل بھی بے فائدہ ہے۔ اس لیے سب سے پہلے ایک مسلمان کو اپنے ایمان اور عقیدے کو مضبوط کرنا چاہیے، پھر باقی علوم پر توجہ دینی چاہیے۔
قول 7:
"جو شخص سنتِ نبوی ﷺ کو چھوڑ دے، وہ گمراہی میں ہے۔"
وضاحت: امام بخاریؒ نے اپنی کتابوں اور تعلیمات میں سنت کی اہمیت پر زور دیا۔ وہ کہتے تھے کہ قرآن کے بعد سب سے بڑی رہنمائی سنتِ رسول ﷺ ہے۔ اگر کوئی شخص سنت کو ترک کرے تو وہ سیدھے راستے سے بھٹک جاتا ہے۔ اس قول کی روشنی میں ہمیں چاہیے کہ اپنی زندگی کے ہر معاملے میں سنت پر عمل کریں۔
قول 8:
"اللہ کی رضا علم و عمل کے بغیر حاصل نہیں ہوتی۔"
وضاحت: امام بخاریؒ نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ انسان کو اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے پہلے علم حاصل کرنا چاہیے، اور پھر اس پر عمل کرنا چاہیے۔ یہ دونوں چیزیں ساتھ ہوں گی تو ہی بندہ کامیاب ہوگا۔
قول 9:
"علم کو زینت نہ بناؤ، اسے ہدایت کا ذریعہ بناؤ۔"
وضاحت: آج کے دور میں اکثر لوگ علم کو شہرت یا دنیاوی فائدے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ امام بخاریؒ نے خبردار کیا کہ علم کا مقصد صرف ہدایت اور آخرت کی کامیابی ہونا چاہیے۔ اگر علم دکھاوے کے لیے استعمال ہو تو وہ بیکار ہے۔
قول 10:
"گناہ علم کے نور کو بجھا دیتا ہے۔"
وضاحت: امام بخاریؒ کے نزدیک گناہ کرنا انسان کے دل سے برکت اور نور ختم کر دیتا ہے۔ جو شخص علم رکھتا ہے لیکن گناہ بھی کرتا ہے، اس کا علم اثر کھو دیتا ہے۔ اس قول سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ علم کے ساتھ تقویٰ ضروری ہے۔
قول 11:
"حدیث بیان کرنے میں امانت داری لازم ہے۔"
وضاحت: امام بخاریؒ نے اپنی پوری زندگی میں لاکھوں احادیث کو پرکھا اور صرف وہی احادیث اپنی کتاب میں شامل کیں جو بالکل صحیح تھیں۔ وہ فرماتے تھے کہ دین میں جھوٹی روایت شامل کرنا سب سے بڑا جرم ہے۔ یہ قول ہمیں سکھاتا ہے کہ کسی بھی بات کو آگے بڑھانے سے پہلے اس کی تحقیق لازمی ہے۔
قول 12:
"علم حاصل کرنے والا شخص عاجزی اختیار کرے۔"
وضاحت: امام بخاریؒ نے فرمایا کہ جتنا زیادہ علم بڑھے گا، اتنی ہی عاجزی اور انکساری ہونی چاہیے۔ تکبر علم کو برباد کر دیتا ہے۔ ایک سچا عالم وہ ہے جو لوگوں کے سامنے جھک کر، نرمی اور محبت کے ساتھ بات کرے۔
قول 13:
"اللہ کی یاد دل کو سکون دیتی ہے۔"
وضاحت: امام بخاریؒ نے اپنی تعلیمات میں ہمیشہ ذکرِ الٰہی کی اہمیت بیان کی۔ وہ فرماتے تھے کہ جو شخص اپنے دل کو اللہ کی یاد سے آباد رکھے، اس کا دل سکون اور اطمینان پاتا ہے۔ یہ بات قرآن کی آیت "الا بذکر اللہ تطمئن القلوب" کے عین مطابق ہے۔
قول 14:
"علم بغیر تقویٰ بوجھ ہے، اور تقویٰ بغیر علم ادھورا ہے۔"
وضاحت : یہ قول امام بخاریؒ کی حکمت کو ظاہر کرتا ہے۔ وہ فرماتے تھے کہ صرف علم کافی نہیں بلکہ تقویٰ (پرہیزگاری) بھی لازمی ہے۔ اسی طرح اگر تقویٰ ہے لیکن علم نہیں تو یہ بھی مکمل نہیں۔ ایک مسلمان کو دونوں پہلوؤں کو ساتھ لے کر چلنا چاہیے۔
قول 15:
"مسلمان کا اصل سرمایہ اس کا دین ہے۔"
وضاحت: امام بخاریؒ نے فرمایا کہ دنیاوی مال و دولت فانی ہے، لیکن ایمان اور دین ہمیشہ باقی رہنے والا سرمایہ ہے۔ اگر مسلمان دین پر مضبوطی سے قائم ہو تو دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب ہو جاتا ہے۔
قول 16:
"صحیح علم کے بغیر عبادت کامل نہیں ہو سکتی۔"
وضاحت: امام بخاریؒ فرماتے تھے کہ عبادت کرنے سے پہلے علم ضروری ہے تاکہ انسان کو پتا ہو کہ کس طرح عبادت کرنی ہے۔ صرف ظاہری عبادت کافی نہیں جب تک وہ سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق نہ ہو۔ اس سے سبق ملتا ہے کہ نماز، روزہ، حج یا زکوٰۃ سب کا طریقہ قرآن و سنت کے مطابق سیکھنا لازمی ہے۔
قول 17:
"جو علم دین کو مضبوط نہ کرے، وہ دنیا کے فائدے تک محدود ہے۔"
وضاحت: امام بخاریؒ نے واضح کیا کہ دنیاوی علوم بھی اہم ہیں، مگر اصل مقصد دین کو سہارا دینا ہے۔ اگر علم انسان کو دین سے قریب نہ کرے تو وہ محض وقتی فائدہ دیتا ہے۔ اس قول سے پتا چلتا ہے کہ ہر علم کو اللہ کے دین کی خدمت کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔
قول 18:
"حدیث سیکھنے والا اللہ کے رسول ﷺ کی میراث کا وارث ہے۔"
وضاحت: امام بخاریؒ حدیث کو سب سے عظیم علم سمجھتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ جو شخص حدیث سیکھتا اور سکھاتا ہے، وہ نبی اکرم ﷺ کے مشن کو آگے بڑھاتا ہے۔ اس لیے محدثین کو دین کے خادمین کہا جاتا ہے۔
قول 19:
"جو شخص دنیا کے پیچھے دوڑے، وہ دین میں کمزور ہو جاتا ہے۔"
وضاحت: امام بخاریؒ نے اپنی زندگی میں دنیاوی آسائش کو کبھی ترجیح نہ دی۔ وہ فرماتے تھے کہ دنیا کی حرص اور لالچ انسان کو دین سے غافل کر دیتی ہے۔ یہ قول آج بھی ہمارے لیے نصیحت ہے کہ دین کو اولیت دیں، دنیا خود بخود پیچھے آئے گی۔
قول 20:
"اللہ کے نزدیک سب سے عزت والا وہ ہے جو تقویٰ میں سب سے آگے ہے۔"
وضاحت: یہ قول قرآن کی تعلیم کا عکاس ہے۔ امام بخاریؒ فرماتے تھے کہ اصل عزت کا معیار دولت یا عہدہ نہیں بلکہ تقویٰ ہے۔ اگر کوئی شخص گمنام ہو مگر متقی ہو تو وہ اللہ کے نزدیک سب سے بلند ہے۔
قول 21:
"حدیث سیکھنے والا صبر اور تحقیق کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتا۔"
وضاحت: امام بخاریؒ نے اپنی کتاب مرتب کرنے میں برسوں کا وقت لگایا اور ہزاروں میل سفر کیا۔ وہ کہتے تھے کہ طالبِ علم کو صبر اور تحقیق دونوں کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔ اس قول سے سیکھنے والے ہر شعبے کے طلبہ کو نصیحت ملتی ہے۔
قول 22:
"صحیح علم ہی ایمان کو مضبوط کرتا ہے۔"
وضاحت: امام بخاریؒ فرماتے تھے کہ علم کے بغیر ایمان کمزور ہوتا ہے۔ ایمان کو پختہ کرنے کے لیے قرآن و حدیث کا علم ضروری ہے۔ اس قول کا پیغام یہ ہے کہ صرف جذباتی عقیدت کافی نہیں، بلکہ علمی بنیاد پر ایمان کو مضبوط بنانا چاہیے۔
قول 23:
"علم انسان کو اللہ کے قریب کر دے تو وہ علم نافع ہے۔"
وضاحت: امام بخاریؒ نے واضح کیا کہ وہی علم فائدہ مند ہے جو انسان کو اللہ سے قریب کر دے۔ اگر علم انسان کو تکبر یا دنیاوی فائدے کی طرف لے جائے تو وہ نقصان دہ ہے۔
قول 24:
"علم حاصل کرو مگر اس کے ذریعے دنیا نہ کماؤ۔"
وضاحت: امام بخاریؒ کا یہ قول آج کے دور کے طلبہ کے لیے بھی سبق ہے۔ علم کو کاروبار یا دولت کمانے کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے بلکہ اللہ کی رضا اور مخلوق کی بھلائی کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔
قول 25:
"حدیث بیان کرنے والا اپنے آپ کو جھوٹ سے دور رکھے۔"
وضاحت : امام بخاریؒ نے فرمایا کہ محدث کا سب سے بڑا وصف سچائی ہے۔ اگر کوئی شخص جھوٹا ہے تو وہ حدیث کے امانت دار نہیں ہو سکتا۔ اس قول کی روشنی میں ہر مسلمان کو چاہیے کہ اپنی زبان اور قول میں ہمیشہ سچائی اختیار کرے۔
قول 26:
"دنیا کی حقیقت ایک عارضی سایہ ہے۔"
وضاحت: امام بخاریؒ فرماتے تھے کہ دنیا فانی ہے اور اس کی حقیقت ایک سایے کی طرح ہے جو چند لمحے رہ کر ختم ہو جاتا ہے۔ اصل زندگی آخرت کی ہے، اس لیے انسان کو ہمیشہ آخرت کی تیاری کرنی چاہیے۔
قول 27:
"طالب علم کو ہمیشہ عاجزی اختیار کرنی چاہیے۔"
وضاحت: امام بخاریؒ نے فرمایا کہ علم غرور نہیں بلکہ عاجزی سکھاتا ہے۔ جو طالب علم جتنا بڑا ہوگا، اتنا ہی عاجزی اختیار کرے گا۔ تکبر علم کو ضائع کر دیتا ہے۔
قول 28:
"حدیث میں جھوٹ گھڑنا جہنم کی آگ کا باعث ہے۔"
وضاحت: امام بخاریؒ نے سختی کے ساتھ کہا کہ جو شخص حدیثِ رسول ﷺ میں جھوٹ گھڑتا ہے، وہ جہنم کا ایندھن ہے۔ اسی وجہ سے آپ نے صرف صحیح اور معتبر احادیث اپنی کتاب میں شامل کیں۔
قول 29:
"مسلمان کی عزت اور آبرو کو پامال نہ کرو۔"
وضاحت: امام بخاریؒ فرماتے تھے کہ مسلمان کا خون، عزت اور مال دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔ یہ تعلیم ہمیں معاشرتی امن، بھائی چارے اور عدل و انصاف کی طرف بلاتی ہے۔
قول 30:
"اخلاص کے بغیر عبادت بے جان ہے۔"
وضاحت: امام بخاریؒ نے فرمایا کہ اگر عبادت دکھاوے کے لیے ہو تو وہ اللہ کے ہاں قبول نہیں۔ اصل عبادت وہی ہے جو خلوصِ نیت کے ساتھ صرف اللہ کے لیے کی جائے۔
قول 31:
"علم دل کو زندہ کرتا ہے جیسے بارش زمین کو زندہ کرتی ہے۔"
وضاحت:امام بخاریؒ نے علم کو دل کی زندگی قرار دیا۔ جس طرح بارش سوکھی زمین کو ہرا بھرا کرتی ہے، اسی طرح علم دل کو روشن اور زندہ کرتا ہے۔
قول 32:
"صحیح علم صبر، محنت اور اخلاص کے بغیر حاصل نہیں ہوتا۔"
وضاحت: امام بخاریؒ نے اپنی زندگی میں ہزاروں میل کا سفر کیا اور سخت محنت کے بعد احادیث جمع کیں۔ وہ فرماتے تھے کہ علم حاصل کرنے والا شخص صبر و محنت کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتا۔
قول 33:
"حدیث کے بغیر دین کی بنیاد مکمل نہیں ہو سکتی۔"
وضاحت: امام بخاریؒ کا ماننا تھا کہ قرآن کے ساتھ ساتھ سنتِ نبوی ﷺ بھی دین کی بنیاد ہے۔ اگر حدیث کو چھوڑ دیا جائے تو دین کی عمارت ادھوری رہ جاتی ہے۔
قول 34:
"علم انسان کو جتنا عاجز بنائے، وہ اتنا ہی کامل ہے۔"
وضاحت : امام بخاریؒ نے علم کی پہچان عاجزی کو قرار دیا۔ وہ فرماتے تھے کہ اگر علم انسان کو غرور میں ڈال دے تو وہ ناقص ہے۔
قول 35:
"دنیا کو دین پر ترجیح دینے والا نقصان میں ہے۔"
وضاحت: امام بخاریؒ نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص دنیاوی فائدے کے لیے دین کو پیچھے چھوڑ دے تو وہ ہمیشہ نقصان اٹھائے گا۔ کامیاب وہی ہے جو دین کو اپنی زندگی کی پہلی ترجیح بنائے۔
امام بخاریؒ کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQ)
امام بخاریؒ کون تھے؟
جواب: امام بخاریؒ (810–870 عیسوی) ایک عظیم اسلامی محدث تھے جنہوں نے لاکھوں احادیث کو جمع کیا اور ان میں سے صرف صحیح اور مستند احادیث کو اپنی کتاب الجامع الصحیح (صحیح بخاری) میں شامل کیا۔ یہ کتاب قرآن کے بعد سب سے معتبر کتاب سمجھی جاتی ہے۔
صحیح بخاری کی اہمیت کیا ہے؟
جواب: صحیح بخاری کو دنیا بھر کے مسلمان سب سے زیادہ مستند حدیث کی کتاب مانتے ہیں۔ امام بخاریؒ نے ہر حدیث کی سند اور راویوں کی تحقیق کے بعد اسے شامل کیا۔ یہی وجہ ہے کہ صحیح بخاری کو دینِ اسلام میں سب سے معتبر ماخذ قرار دیا جاتا ہے۔
امام بخاریؒ نے احادیث جمع کرنے کے لیے کتنا سفر کیا؟
جواب: امام بخاریؒ نے تقریباً 16 سال مختلف ممالک کے سفر کیے۔ انہوں نے مکہ، مدینہ، شام، مصر، عراق، اور دیگر شہروں کا سفر کر کے ہزاروں علماء سے احادیث جمع کیں۔
امام بخاریؒ کی سب سے مشہور کتاب کون سی ہے؟
جواب: امام بخاریؒ کی سب سے مشہور کتاب الجامع الصحیح ہے جسے عام طور پر "صحیح بخاری" کہا جاتا ہے۔ یہ کتاب 97 کتب (Chapters) پر مشتمل ہے اور ہزاروں مستند احادیث اس میں شامل ہیں۔“
امام بخاریؒ کے اقوال دراصل ہماری زندگی کے لیے روشن چراغ ہیں۔ ان میں علم، عمل، نیت اور تقویٰ کی وہ بنیادیں ہیں جو ایک مسلمان کو دنیا و آخرت میں کامیابی دلاتی ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ان سنہری باتوں کو اپنی عملی زندگی میں اپنائیں اور دین و دنیا دونوں میں فلاح حاصل کریں۔
کیا آپ کو امام بخاریؒ کے اقوال پسند آئے؟ کمنٹ میں بتائیں کہ کون سا قول آپ کی زندگی پر سب سے زیادہ اثر انداز ہوا۔”
مزید پڑھیں:امام ابوحنیفہ، امام شافعی، امام مالک، امام احمد بن حنبل کے اقوال



0 تبصرے