Washington Irving on Prophet Muhammad | A Non-Muslim Scholar’s View

 اسلام کی تاریخ اور سیرتِ رسول ﷺ پر بے شمار مسلم اور غیر مسلم محققین نے قلم اٹھایا ہے۔ ان میں ایک مشہور non Muslim scholar Washington Irving بھی شامل ہیں جنہوں نے اپنی مشہور book “Life of Mahomet” میں رسول اکرم ﷺ کی سیرت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ اگرچہ ان کی تحریروں میں بعض اوقات مغربی نقطہ نظر کی جھلک ملتی ہے، لیکن کئی مقامات پر وہ نبی کریم ﷺ کی عظمت، قیادت اور غیر معمولی کردار کو بھی تسلیم کرتے ہیں۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ کا پیغام اتنا طاقتور اور حقیقت پر مبنی ہے کہ غیر مسلم مفکرین بھی اس کی گواہی دینے پر مجبور ہوئے۔

Non-Muslim author Washington Irving on Prophet Muhammad


مصنف کا تعارف: واشنگٹن اِروِنگ (Washington Irving)

واشنگٹن اِروِنگ (1783–1859) ایک ممتاز امریکی ادیب، مؤرخ اور ڈپلومیٹ تھے جنہیں انیسویں صدی کے ابتدائی دور کے نمایاں ترین انگریزی نثر نگاروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ وہ نیو یارک میں پیدا ہوئے اور اپنی تخلیقات کے ذریعے بین الاقوامی شہرت حاصل کی۔
یورپ میں اپنے قیام کے دوران اِروِنگ نے اسلامی تاریخ اور مشرقی تہذیب پر گہرا مطالعہ کیا۔ اسی تحقیق کے نتیجے میں انہوں نے اپنی معروف کتاب “Mahomet and His Successors” تصنیف کی، جس میں انہوں نے نہایت احتیاط، سنجیدگی اور تحقیقی انداز کے ساتھ حضرت محمد ﷺ کی سیرت اور ابتدائی خلفاء کا ذکر کیا۔ اگرچہ وہ مسلمان نہ تھے، لیکن ان کی تحریر میں ایک حد تک غیر جانب داری اور احترام جھلکتا ہے۔


""حضرت محمد ﷺ کی شخصیت وقار، ضبطِ نفس اور توازن سے مزین تھی۔ آپ کا عمومی انداز ہمیشہ پُرسکون اور سنجیدہ رہتا تھا اور آپ کبھی غصے یا جذبات میں انتہا کو نہیں پہنچتے تھے۔ کبھی کبھی آپ ہلکی سی خوش طبعی کا اظہار بھی فرما دیتے تھے لیکن زیادہ تر آپ سنجیدہ، سوچنے والے اور متین رہتے۔ آپ کے ساتھی کہتے ہیں کہ آپ کی مسکراہٹ نہایت دلکش اور دل جیت لینے والی تھی، جو اخلاص اور گرمجوشی سے بھری ہوتی تھی۔ آپ کی رنگت عام عربوں کے مقابلے میں کچھ زیادہ صاف اور ہلکی سرخی مائل تھی۔ جب بھی آپ روحانی جذب و شوق میں ڈوبتے تو آپ کا چہرہ نورانی چمک سے دمکنے لگتا، جسے آپ کے ماننے والے اللہ کی طرف سے عطا کردہ روشنی تصور کرتے تھے۔

Historical view of Prophet Muhammad ﷺ by Washington Irving


عقل و دانش کے اعتبار سے رسولِ اکرم ﷺ عام انسانوں سے کہیں بڑھ کر تھے۔ آپ کی ذہانت تیز تھی، حافظہ قوی تھا اور بات کرنے کا انداز فطری طور پر پراثر تھا۔ آپ کی تخیل کی قوت جاندار مگر متوازن تھی، اور آپ کی یہ صلاحیت کہ آپ گہری باتوں کو نہایت سادہ الفاظ میں بیان کرتے، آپ کی حکمت و بصیرت کی علامت تھی۔ رسمی تعلیم حاصل نہ کرنے کے باوجود آپ نے غور و فکر اور باریک بینی سے مشاہدہ کرکے اپنے علم کو وسیع کیا۔ آپ نے پچھلی قوموں کے حالات، مختلف مذاہب کی تعلیمات اور عربوں کی زبانی روایتوں سے دانائی حاصل کی۔ آپ کے الفاظ ہمیشہ مختصر مگر بامعنی ہوتے، جن میں گہرائی اور رہنمائی پائی جاتی۔ آپ کی بہت سی باتیں مختصر مگر پراثر کہاوتوں اور تمثیلوں کی شکل میں ہوتیں، جو لوگوں کے دلوں پر اثر ڈالتی تھیں۔ جب آپ بڑے مجمع سے خطاب فرماتے تو آپ کا بیان بلند اور شاندار ہوجاتا، جس میں وضاحت، قوت اور حسن جھلکتا تھا۔ آپ کی آواز نہایت خوش آہنگ اور دل نشین تھی۔


ذاتی زندگی میں آپ ﷺ کی سادگی قابلِ ذکر تھی۔ آپ کا کھانا سادہ ہوتا اور آپ ہمیشہ اعتدال کو اختیار کرتے۔ آپ کثرت سے روزے رکھتے، صرف فرض کے طور پر نہیں بلکہ روحانی تربیت کے لیے بھی۔ آپ کا لباس کبھی نمایاں اور فخر جتانے والا نہ ہوتا بلکہ عاجزی اور دنیاوی نمائش سے بے نیازی کو ظاہر کرتا۔ کبھی آپ اُونی کپڑے پہنتے اور کبھی یمن سے لایا گیا سوتی کپڑا۔ آپ کے کپڑے اکثر پیوند لگے ہوئے ہوتے، کیونکہ آپ کے نزدیک عزت و شرافت کا معیار کپڑوں کی نمود و نمائش نہ تھا۔ آپ عموماً عمامہ باندھتے اور فرماتے کہ فرشتے بھی عمامہ باندھتے ہیں۔ آپ کو یہ پسند تھا کہ عمامے کا ایک سرا پیچھے کندھوں کے درمیان لٹک جائے۔

Washington Irving biography and views on Islam


لباس کے بارے میں آپ ﷺ نے واضح ہدایات دیں: مردوں کے لیے خالص ریشمی کپڑوں کو منع فرمایا، البتہ ریشم اور سوتی کپڑے کا ملا جلا استعمال جائز رکھا۔ خالص سرخ کپڑوں سے بھی روکا اور مردوں کے لیے سونے کی انگوٹھی پہننے کو حرام قرار دیا۔ آپ خود چاندی کی ایک انگوٹھی پہنتے تھے جس پر کندہ تھا: "محمد رسول اللہ"۔ آپ اسے اس طرح پہنتے کہ نقش اندرونی جانب ہتھیلی کی طرف رہتا اور یہی انگوٹھی آپ کے خطوط اور دستاویزات پر مہر لگانے کے لیے استعمال ہوتی۔


صفائی ستھرائی آپ ﷺ کی زندگی کا بنیادی اصول تھا۔ آپ کثرت سے وضو فرماتے، مسواک کرتے اور جسم و لباس کو پاکیزہ رکھتے۔ یہ سب عادات صرف مذہبی اعمال ہی نہ تھے بلکہ آپ کے نظم و ضبط، صحت کی حفاظت اور دوسروں کے احترام کا بھی اظہار تھیں""۔

Reference: (Washington Irving, The Saracens  Mahomet and His Successors: pp 192 ,193)

حضرت محمد ﷺ کی زندگی، سادگی اور حکمت ہم سب کے لیے ایک لازوال نمونہ ہیں۔ ان کی شخصیت کا ہر پہلو انسانیت کو وقار، نظم و ضبط اور پاکیزگی کا پیغام دیتا ہے۔ واشنگٹن اِروِنگ جیسے غیر مسلم مؤرخ بھی آپ ﷺ کی عظمت اور اثر پذیری کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوئے۔ آج کی دنیا میں، جہاں لوگ سکون اور رہنمائی کے متلاشی ہیں، سیرتِ نبوی ﷺ سے بہتر کوئی ذریعہ نہیں۔

ضروری ہدایات:

اس بلاگ پوسٹ میں دیے گئے اقتباسات اور حوالہ جات غیر مسلم مصنف کی کتاب یا تحریر سے لیے گئے ہیں۔ ہم نے صرف وہ حصے پیش کیے ہیں جن میں مصنف نے انصاف اور ایمانداری کے ساتھ اسلام، قرآن مجید اور نبی کریم حضرت محمد ﷺ کے بارے میں مثبت اور سچائی پر مبنی رائے دی ہے۔ ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ان کتابوں یا مصنفین کی تحریروں میں کئی مقامات پر تعصب، غلط فہمیاں اور اسلام مخالف خیالات بھی پائے جاتے ہیں، جنہیں ہم بحیثیت مسلمان نہ تسلیم کرتے ہیں اور نہ ہی ان کی تائید کرتے ہیں۔

ہمارا مقصد صرف یہ ہے کہ دنیا کے سامنے وہ حقائق رکھے جائیں جہاں غیر مسلم قلم کاروں نے سچائی اور انصاف کے ساتھ اسلام کو بیان کیا ہے۔

 اگر آپ سیرت النبی ﷺ کے مزید پہلوؤں اور اسلامی تاریخ کی مستند تحریروں سے آگاہ ہونا چاہتے ہیں تو ہمارے بلاگ کے دیگر مضامین بھی ضرور ملاحظہ کیجیے۔

 مزید پڑھیں

حضرت محمد غیر مسلموں کی نظر میں


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے