تاریخ کے اوراق میں کچھ ایسے واقعات ہیں جو صرف زمین نہیں بلکہ دلوں کو بھی فتح کرتے ہیں۔ فتح مکہ کی کہانی انہی سنہری صفحات میں شامل ہے۔ اکثر لوگ سوچتے ہیں کہ بڑی سلطنتیں اور عظیم فوجیں ہی دنیا کو جھکانے کی طاقت رکھتی ہیں، لیکن رسول اکرم ﷺ نے ثابت کیا کہ اصل طاقت رحمت، اخلاق اور برداشت میں چھپی ہے۔
یورپی مصنف آرتھر گل مین (Arthur Gilman) اپنی کتاب The Saracens میں بیان کرتے ہیں کہ کس طرح جنگ مؤتہ کے بعد مسلمانوں نے مشکلات کا سامنا کیا اور پھر حضرت خالد بن ولیدؓ کی قیادت میں ایک نئی عسکری حکمت عملی اپنائی۔ اس کے فوراً بعد پیش آیا وہ عظیم لمحہ جس نے اسلامی تاریخ کا رخ بدل دیا—یعنی فتح مکہ۔ یہ صرف ایک فوجی کامیابی نہ تھی، بلکہ ایک ایسا انقلاب تھا جس نے دنیا کو بتایا کہ اسلام کا مقصد خون ریزی نہیں بلکہ امن و انصاف ہے۔ آج بھی یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قیادت صرف تلوار سے نہیں بلکہ اعلیٰ اخلاق اور حکمت سے کی جاتی ہے۔
مصنف کا تعارف
ام القری کا فتح
رسول اکرم ﷺ نے اپنی زندگی کے مختلف ادوار میں متعددبادشاہوں اور حکمرانوں کو اسلام کی دعوت دینے کے لیے خطوط روانہ فرمائے۔ اگرچہ ابتدائی طور پر یہ خطوط زیادہ بارآور ثابت نہ ہوئے، لیکن یہ وقت قریب تھا جب اسلام اپنی قوت، پیغام اور اخلاقی اثر کے ذریعے دنیا کے گوشے گوشے تک پہنچنے والا تھا۔
مسلمانوں کی جنگ کا انداز اُس دور کی عام لڑائیوں سے بالکل مختلف تھا۔ عرب بدو قبائل وسیع صحراؤں میں کھلے میدانوں میں دشمن کا مقابلہ کرتے تھے، جہاں نہ قلعے ہوتے اور نہ ہی خندقوں کا سہارا۔ ہجرت کے آٹھویں سال تک مسلمان اسی انداز میں لڑتے رہے۔ رسول اللہ ﷺ کو رومیوں کی جنگی حکمت عملیوں اور اُن کے جدید ہتھیاروں کی تفصیلات زیادہ معلوم نہ تھیں، صرف یہ اندازہ تھا کہ وہ ایک عظیم اور طاقتور قوم ہے۔ اسی وجہ سے آپ ﷺ نے اُنہیں بھی اسلام کی طرف بلانے کے لیے پیغام بھیجا۔
انہی پیغامات میں سے ایک قاصد کو بصرہ کی جانب روانہ کیا گیا۔ بصرہ وہ جگہ تھی جو دمشق کے راستے اور فلسطین کی مشرقی سرحد کے قریب واقع تھی۔ رسول اللہ ﷺ اس خطے سے واقف تھے کیونکہ تجارتی سفر کے دوران آپ ﷺ وہاں سے گزر چکے تھے۔ اُس وقت شام رومی سلطنت کے زیرِ قبضہ تھا اور وہاں قانون و انصاف کی حالت زیادہ مضبوط نہ تھی۔
یہ قاصد اپنا فریضہ مکمل کر کے مدینہ واپس آ رہا تھا کہ راستے میں مُوتہ نامی مقام پر گرفتار کر لیا گیا اور شہید کر دیا گیا۔ مُوتہ یروشلم سے تین دن کی مسافت پر ہے۔ یہ حکم ایک عیسائی سردار نے دیا تھا جو غسانی قبیلے سے تعلق رکھتا تھا اور رومی بادشاہ ہرقل کا نمائندہ تھا۔
یہ گستاخی اور سفارتی بے ادبی کسی طور برداشت نہیں کی جا سکتی تھی۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے تین ہزار مجاہدین پر مشتمل ایک لشکر تیار فرمایا۔ اس لشکر کی قیادت اپنے محبوب صحابی حضرت زید بن حارثہؓ کے سپرد کی گئی۔ اُن کے ساتھ کئی جری اور دلیر سپاہی بھی تھے، جن میں مکہ کے نومسلم نوجوان بھی شامل تھے۔ یہ عظیم معرکہ سنہ 629ء (ستمبر) میں پیش آیا۔
مسلمانوں کی یہ چھوٹی سی مگر پُرعزم فوج بڑے جوش و خروش اور غیر معمولی اعتماد کے ساتھ مدینہ منورہ سے روانہ ہوئی۔ رسولِ اکرم ﷺ خود کچھ فاصلے تک اُن کے ساتھ تشریف لے گئے اور رخصت کرتے وقت محبت بھرے انداز میں فرمایا: "اللہ تعالیٰ تمہیں ہر نقصان سے محفوظ رکھے، سلامت واپس لائے اور تمہیں فتح و خوشی کے ساتھ مالِ غنیمت عطا فرمائے۔"
یہ کوئی خفیہ مہم نہ تھی۔ خبر جلد ہی فلسطین میں رومی حکمرانوں اور ہرقل کے نمائندوں تک پہنچ گئی کہ مسلمان لشکر کشی کے ارادے سے نکلے ہیں۔ اس سے پہلے رسول اللہ ﷺ کی چھوٹی چھوٹی مہمات نے علاقے کے مختلف قبائل اور عیسائی سرداروں کو آپس میں اتحاد پر مجبور کر دیا تھا تاکہ وہ کسی بڑے حملے کی صورت میں ایک ساتھ دفاع کر سکیں۔ اسی وجہ سے رومیوں کے لیے ایک بڑی فوج تیار کرنا مشکل ثابت نہ ہوا۔ بعض مؤرخین لکھتے ہیں کہ یہ لشکر ایک لاکھ افراد پر مشتمل تھا۔ کچھ کا کہنا ہے کہ ہرقل خود اس لشکر کی قیادت کر رہا تھا، لیکن زیادہ امکان یہی ہے کہ اس نے اپنی طرف سے ایک نمایندہ بھیجا ہو۔
جب حضرت زیدؓ اور اُن کے ساتھی فلسطین کی جنوب مشرقی سرحد پر پہنچے تو اُنہیں معلوم ہوا کہ رومی فوج نے بھرپور تیاری کر لی ہے۔ یہ خبر سن کر لشکر میں مشورہ کیا گیا۔ کچھ صحابہؓ نے رائے دی کہ بہتر ہے کہ مدینہ پیغام بھیجا جائے اور رسول اللہ ﷺ سے مزید ہدایات لی جائیں، کیونکہ دشمن بے پناہ طاقتور ہے۔
لیکن اسی دوران لشکر میں ایک بہادر شاعر کھڑا ہوا اور پُرعزم آواز میں کہنے لگا:
"ہم دینِ اسلام کے لیے لڑنے نکلے ہیں! اگر ہم اس راہ میں شہید ہو گئے تو جنت ہماری منتظر ہے۔ لہٰذا آگے بڑھو، یا تو فتح حاصل ہوگی یا شہادت!"
یہ ولولہ انگیز الفاظ سن کر تمام مجاہدین کے دل جوش و ایمان سے بھر گئے۔ سب یک زبان ہو کر پکارنے لگے:
"اللہ کی قسم! تم نے بالکل سچ کہا ہے۔ آگے بڑھو!"
چنانچہ لشکرِ اسلام جرات و اعتماد کے ساتھ آگے بڑھا۔ لیکن جیسے ہی انہوں نے دشمن کے لشکر کو قریب سے دیکھا تو اُن پر حیرت و دباؤ کی کیفیت طاری ہوگئی۔ رومی فوج کے سپاہی لوہے کی چمکتی ہوئی زرہیں پہنے ہوئے تھے اور ان کی تعداد مسلمان لشکر سے کئی گنا زیادہ تھی۔ اُن کی مضبوط اور منظم صفوں نے مسلمانوں کو سخت دباؤ میں لا کر پیچھے دھکیل دیا۔
حضرت زید بن حارثہؓ نے رسول اکرم ﷺ کا سفید جھنڈا تھاما اور پوری جرات اور ثابت قدمی کے ساتھ مسلمانوں کی قیادت کی۔ وہ دلیرانہ انداز میں لشکر کو آگے بڑھاتے رہے، یہاں تک کہ دشمن کے بے شمار نیزوں نے انہیں گھیر لیا اور وہ جامِ شہادت نوش کر گئے۔
زیدؓ کی شہادت کے بعد مسلمانوں نے ہمت نہ ہاری۔ ایک کے بعد ایک جان نثار کمانڈر آگے بڑھا اور علمِ اسلام کو بلند رکھا۔ لیکن دشمن کی تعداد اور اسلحہ بہت زیادہ تھا، اس لیے مسلمان آہستہ آہستہ دباؤ میں آ کر پیچھے ہٹنے لگے۔ اس نازک لمحے میں اللہ تعالیٰ نے اسلام کو ایک عظیم سپاہ سالار عطا کیا۔ یہ تھے حضرت خالد بن ولیدؓ، جنہیں بعد میں رسول اللہ ﷺ نے "سیف اللہ" یعنی "اللہ کی تلوار" کا لقب دیا۔
جنگ کے آغاز میں مسلمان پرجوش نعروں سے فضا گونج اٹھاتے تھے۔ وہ کہتے تھے:
"جنت! او جنت! تو کتنی حسین آرام گاہ ہے! تیرا پانی ٹھنڈا اور سایہ کتنا خوشگوار ہے! روم! اے روم! تیرا وقت قریب ہے!"
لیکن جب حالات بدلے اور دشمن کی بے پناہ طاقت سامنے آئی تو سب خوش تھے کہ اب لشکر ایک ماہر اور دانا کمانڈر کے زیرِ قیادت ہے۔ حضرت خالد بن ولیدؓ نے اپنی عسکری مہارت اور حکمتِ عملی سے مسلمانوں کو منظم کیا اور ایک ایسی پسپائی اختیار کی جو بظاہر پیچھے ہٹنا تھی لیکن حقیقت میں ایک بڑی تباہی سے بچنے کا ذریعہ بن گئی۔ یہ پسپائی شکست نہیں بلکہ ایک کامیاب تدبیر تھی۔
مدینہ منورہ میں جب مسلمانوں کے پسپا ہونے کی خبر پہنچی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "ٹھیک ہے، تم سب آزاد ہو!"
یعنی یہ پسپائی بزدلی نہیں بلکہ عقل مندی تھی، اور اللہ کے نزدیک وہ سب اپنی ذمہ داری پوری کر چکے تھے۔
اسی دوران ایک اور اہم واقعہ پیش آیا۔ جب ایک قاصد شام کی مہم کے بعد مدینہ پہنچا تو رسول اللہ ﷺ نے نہایت رازداری کے ساتھ ایک عظیم منصوبہ تیار کرنا شروع کیا۔ یہ منصوبہ تھا مکہ مکرمہ کی فتح۔ آپ ﷺ نے مدینہ کی تاریخ کا سب سے بڑا لشکر تیار کیا۔ یکم جنوری 630ء کو یہ لشکر مکہ کی جانب روانہ ہوا۔
نبی اکرم ﷺ نے دعا کی: "اے اللہ! دشمنوں کے جاسوسوں کو ہماری خبر نہ پہنچے۔ ان کی آنکھوں کو اندھا کر دے تاکہ میں اچانک ان پر پہنچوں اور انہیں بے خبری میں قابو کر لوں۔"
لیکن اس دوران مسلمانوں کی صفوں میں ایک کمزوری سامنے آئی۔ مسلمانوں میں سے ایک معزز شخص نے، جس کے اہل و عیال ابھی بھی مکہ میں تھے، گھریلو مجبوری کی بنا پر مکہ والوں کو ایک خط بھیج دیا۔ اس نے یہ خط ایک عورت "سارہ" کے ہاتھوں روانہ کیا، جو اس کام کے عوض دس اشرفیاں لینے پر تیار ہوئی۔
یہ عورت خط لے کر مکہ جا رہی تھی کہ راستے میں حضرت علیؓ نے اسے روک لیا۔ تلاش کرنے پر خط اُس کے بالوں میں چھپا ہوا ملا۔ جب وہ شخص رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کیا گیا تو اس نے کہا:
"یارسول اللہ! میں سچا مسلمان ہوں۔ لیکن میری بیوی اور بچے ابھی مکہ میں ہیں۔ مجھے اندیشہ ہوا کہ قریش اُنہیں نقصان پہنچائیں گے، اس لیے میں نے اُن کی حفاظت کے خیال سے یہ پیغام بھیجا تھا۔"
رحمت للعالمین ﷺ نے اُس کی نیت دیکھ کر اُسے معاف فرما دیا۔ مگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے سورۂ ممتحنہ (سورہ 60) کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں، جن میں مسلمانوں کو تنبیہ کی گئی کہ:
"اللہ اور اُس کے رسول کے دشمنوں کو اپنا دوست نہ بناؤ۔ جو کافروں کا ساتھ دے گا، وہ سیدھے راستے سے بھٹک جائے گا۔"
یہ واقعہ نہ صرف مسلمانوں کے لیے ایک سبق تھا بلکہ اس نے آنے والے عظیم واقعے، یعنی فتحِ مکہ کا راستہ بھی ہموار کر دیا۔
اسی دوران رسول اکرم ﷺ کے چچا حضرت عباسؓ، جو ابھی تک کھلے عام اسلام قبول نہیں کر پائے تھے، مکہ سے باہر نکلے۔ وہ خانہ کعبہ میں زمزم کے پانی کی خدمت اور تقسیم کے ذمہ دار تھے۔ عباسؓ نے جب دیکھا کہ حالات بدل رہے ہیں اور ان کے بھتیجے، خاتم النبیین ﷺ کو اب اللہ کی طرف سے عظیم طاقت اور غلبہ عطا ہو رہا ہے، تو اُن کے دل میں اطمینان پیدا ہوا اور انہوں نے اعلان کیا کہ دراصل وہ دل ہی دل میں پہلے ہی سے ایمان لا چکے تھے۔
حضرت عباسؓ قریش کے ایک معزز سردار کو اپنے ساتھ لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ نبی کریم ﷺ نے اپنے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ فرمایا:
"آخری نبی، آخری مہاجر کو خوش آمدید کہتا ہے!"
یہ الفاظ سن کر عباسؓ کے دل میں سکون اتر گیا، اور وہ جان گئے کہ اُن کی زندگی کا اصل فیصلہ کن لمحہ یہی ہے۔
جب مسلمان لشکر مکہ کے قریب پہنچا اور اونچی پہاڑیوں پر پڑاؤ ڈالا تو رسول اللہ ﷺ نے ایک غیر معمولی تدبیر اختیار کرنے کا حکم دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ دس ہزار کا لشکر الگ الگ جگہوں پر آگ روشن کرے تاکہ رات کی تاریکی میں مکہ کے لوگوں پر رعب طاری ہو۔ رات کے سناٹے میں جب ہزاروں آگیں جلیں تو مکہ کی وادی عجیب ہیبت ناک منظر پیش کرنے لگی۔ مکہ والوں نے پہلے کبھی ایسا منظر نہ دیکھا تھا۔
اسی رات قریش کا ایک بڑا سردار، جو ماضی میں رسول اللہ ﷺ کا سخت ترین دشمن اور انکار کرنے والوں میں پیش پیش تھا، حالات معلوم کرنے کے لیے نکلا۔ وہ اندھیرے میں چلتا ہوا عباسؓ سے جا ملا۔ حضرت عباسؓ دل ہی دل میں چاہتے تھے کہ مکہ کسی بڑے خون خرابے کے بغیر فتح ہو جائے۔ چنانچہ انہوں نے اس قریشی سردار کو اپنے ساتھ لے لیا اور لشکر کی آگیں دکھاتے ہوئے کہا:
"دیکھ! یہ محمد ﷺ ہیں جو دس ہزار کے عظیم لشکر کے ساتھ یہاں موجود ہیں۔ اب ایمان لے آ اور ہمارے ساتھ شامل ہو جا، ورنہ یاد رکھ! تیری ماں تیرے لیے روئے گی اور تیرا پورا قبیلہ برباد ہو جائے گا!"
یہ بات سن کر قریشی سردار کے قدموں تلے زمین نکل گئی۔ وہ ڈر اور گھبراہٹ میں عباسؓ کے ساتھ ہی رہا۔
صبح کے وقت اسے قید کر کے رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کیا گیا۔ اُس کے دل میں خوف اور لرزہ طاری تھا، اُسے یقین تھا کہ اب اُس کی زندگی ختم ہونے والی ہے۔ لیکن رحمت للعالمین ﷺ کا معاملہ ہی مختلف تھا۔ آپ ﷺ نے اس پر سختی نہ کی بلکہ اُسے کلمہ پڑھنے کی تلقین فرمائی۔ وہ قریشی سردار لرزتے ہوئے ایمان لے آیا اور اسلام قبول کر لیا۔
پھر نبی اکرم ﷺ نے اُسے واپس مکہ بھیجتے ہوئے یہ اعلان کرنے کا حکم دیا:
"جو شخص تیرے گھر میں داخل ہو جائے، وہ محفوظ ہوگا؛ جو اپنے گھر کا دروازہ بند کر کے بیٹھ جائے، وہ محفوظ ہوگا؛ اور جو کعبہ میں پناہ لے، وہ بھی محفوظ ہوگا۔"
یوں رسول اللہ ﷺ نے مکہ والوں کو یہ پیغام دیا کہ اسلام کا مقصد جنگ و خونریزی نہیں بلکہ امن و امان اور انسانیت کی حفاظت ہے۔
وہ قریشی سردار، جسے نبی اکرم ﷺ نے امان دے کر واپس مکہ بھیجا تھا، شہر میں داخل ہوا تو اُس نے بلند آواز سے قریش کو پکارا:
"اے قریش! محمد ﷺ ہمارے قریب آ پہنچے ہیں۔ آج جو شخص میرے گھر میں داخل ہو جائے گا، وہ محفوظ ہوگا۔ جو اپنے گھر کا دروازہ بند کر کے بیٹھ جائے گا، اُس پر کوئی ہاتھ نہیں ڈالے گا۔ اور جو کعبہ میں پناہ لے گا، وہ بھی امن میں ہوگا۔"
یہ اعلان پورے مکہ میں گونج گیا اور لوگ حیران رہ گئے کہ وہ نبی ﷺ جنہیں برسوں تک ستایا گیا، آج اتنی بڑی طاقت کے ساتھ واپس آرہے ہیں اور پھر بھی خونریزی کے بجائے امن کا پیغام دے رہے ہیں۔
اگلی صبح رسول اللہ ﷺ مکہ کی وادی میں داخل ہوئے۔ آپ ﷺ اُسی اونٹ پر سوار تھے جس نے کئی تاریخی مواقع پر آپ ﷺ کا ساتھ دیا تھا۔ جیسے ہی شہر کی گلیوں میں قدم رکھا تو آپ ﷺ کے دل میں شکر اور عاجزی کے جذبات موجزن ہو گئے۔ آپ ﷺ نے دیکھا کہ گلیاں سنسان ہیں اور لوگ گھروں میں محفوظ بیٹھے ہیں۔ یہ منظر اس بات کی علامت تھا کہ مکہ والے جنگ نہیں چاہتے اور پرامن انداز میں آپ ﷺ کا استقبال کرنے پر تیار ہیں۔
یہ آپ ﷺ کی عظمت کی سب سے بڑی دلیل تھی کہ اتنے مظالم سہنے کے باوجود آپ ﷺ نے اپنی فوج کو سختی سے حکم دیا کہ کسی بھی جگہ خون نہ بہایا جائے۔ صرف ایک مقام پر حضرت خالد بن ولیدؓ نے دشمن کے اکسانے پر کچھ لڑائی کی، لیکن رسول اکرم ﷺ نے فوراً انہیں روک دیا اور فرمایا کہ اسلام کا مقصد فتوحات کے نام پر خون بہانا نہیں بلکہ انسانیت کو امن دینا ہے۔
شہر میں داخل ہوتے ہی آپ ﷺ کا پہلا کام یہ تھا کہ اللہ کے گھر، خانہ کعبہ کو ہر طرح کی نجاست اور بت پرستی سے پاک کیا جائے۔ کعبہ کے گرد اُس وقت تین سو ساٹھ بت رکھے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں توڑ دیا اور اعلان فرمایا کہ آج سے یہ گھر صرف ایک اللہ کی عبادت کے لیے ہے۔
اس کے بعد آپ ﷺ نے اپنے پیارے مؤذن حضرت بلالؓ کو حکم دیا کہ کعبہ کی چھت پر چڑھ کر اذان دیں۔ یہ وہ لمحہ تھا جب اسلام کی صدا پہلی بار خانہ کعبہ کی بلندیوں سے گونجی۔ مکہ کی فضائیں "اللہ اکبر" کی آواز سے لرز اٹھیں۔ پھر آپ ﷺ نے منادی کو حکم دیا کہ گلیوں میں اعلان کرے کہ ہر شخص اپنے گھروں میں موجود بتوں کو بھی توڑ دے۔
یہ عظیم واقعہ جنوری 630ء میں پیش آیا، جس نے تاریخ کا رُخ بدل دیا۔
رسول اللہ ﷺ نے اس موقع پر انتقام کی کوئی خواہش نہ دکھائی۔ آپ ﷺ نے صرف دس بارہ ایسے لوگوں کی فہرست تیار کرائی جو حد سے زیادہ ظلم و زیادتی کے مرتکب ہوئے تھے۔ ان میں سے بھی صرف چار کو سزا دی گئی، باقی سب کو معاف کر دیا گیا۔ اگر اس فیصلے کا مقابلہ دنیا کی دوسری فتوحات سے کیا جائے تو یہ ایک انوکھی اور بے مثال رحمت تھی۔
تاریخ میں ایسے مواقع پر عموماً خون کی ندیاں بہائی جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر صلیبی جنگوں کے دوران 1099ء میں جب عیسائیوں نے یروشلم فتح کیا تو تقریباً ستر ہزار مسلمان مرد، عورتیں اور بچے بے رحمی سے قتل کر دیے گئے۔ اسی طرح 1874ء میں عیسائی فوج نے افریقہ کے ایک بڑے شہر کو جلا کر راکھ کر دیا۔ لیکن نبی اکرم ﷺ کی فتح کا انداز بالکل مختلف تھا۔ یہ فتح صرف زمین کی نہیں بلکہ دلوں کی تھی؛ یہ سیاست کی نہیں بلکہ دین اور اخلاق کی فتح تھی۔
رسول اکرم ﷺ نے ذاتی عزت افزائی کی تمام پیشکشوں کو رد کر دیا۔ نہ بادشاہی کا تاج قبول کیا اور نہ کوئی ذاتی انتقام لیا۔ جب قریش کے بڑے بڑے سردار آپ ﷺ کے سامنے لائے گئے تو آپ ﷺ نے اُن سے پوچھا:
"تمہیں مجھ سے کیا امید ہے؟"
وہ جو کل تک سب سے بڑے دشمن تھے، آج عاجزی کے ساتھ بولے:
"اے کریم بھائی! ہم آپ سے رحمت اور بخشش کی امید رکھتے ہیں۔"
اس پر رسول اکرم ﷺ نے وہ تاریخی الفاظ فرمائے جنہوں نے فتح مکہ کو رحمت و انسانیت کی سب سے عظیم مثال بنا دیا:
"" جاؤ! تم سب آزاد ہو!"
(Reference:Arthur Gillman, The Saracens pp.178..185)
:ضرور پڑھیں
اس بلاگ پوسٹ میں دیے گئے اقتباسات اور حوالہ جات غیر مسلم مصنف کی کتاب یا تحریر سے لیے گئے ہیں۔ ہم نے صرف وہ حصے پیش کیے ہیں جن میں مصنف نے انصاف اور ایمانداری کے ساتھ اسلام، قرآن مجید اور نبی کریم حضرت محمد ﷺ کے بارے میں مثبت اور سچائی پر مبنی رائے دی ہے۔ ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ان کتابوں یا مصنفین کی تحریروں میں کئی مقامات پر تعصب، غلط فہمیاں اور اسلام مخالف خیالات بھی پائے جاتے ہیں، جنہیں ہم بحیثیت مسلمان نہ تسلیم کرتے ہیں اور نہ ہی ان کی تائید کرتے ہیں۔
ہمارا مقصد صرف یہ ہے کہ دنیا کے سامنے وہ حقائق رکھے جائیں جہاں غیر مسلم قلم کاروں نے سچائی اور انصاف کے ساتھ اسلام کو بیان کیا ہے۔






0 تبصرے