Sultan Mahmood Ghaznavi Waqia |Islamic Story |Islami Waqiat


اسلامی تاریخ کے کئی واقعات دل کو چھو لینے والے اور روح کو جھنجھوڑ دینے والے ہیں، لیکن کچھ واقعات ایسے بھی ہیں جو نیت، عاجزی، اور عشقِ رسول ﷺ کا وہ حسین امتزاج دکھاتے ہیں جو صدیوں بعد بھی ایمان کو تازہ کر دیتے ہیں۔ ایسا ہی ایک واقعہ ہے سلطان محمود غزنوی اور مصر کے بادشاہ کا، جو مدینہ منورہ کی سرزمین پر پیش آیا۔

Illustration of Sultan Mahmud Ghaznavi in humble attire serving water in Madinah, alongside the King of Egypt in royal dress, both showing love for Prophet ﷺ."



تعارف 

سلطان محمود غزنوی (971ء – 1030ء) اسلامی تاریخ کے ایک عظیم فاتح، مدبر حکمران اور علم و فن کے سرپرست تھے۔ وہ تاریخ کے پہلے فرمانروا تھے جنہیں "سلطان" کا لقب دیا گیا، جو بعد میں اسلامی سلطنتوں میں عزت اور وقار کی علامت بن گیا۔ ان کا اصل نام یمین الدولہ محمود بن سبکتگین تھا اور وہ غزنوی سلطنت کے بانی سبکتگین کے بیٹے تھے۔ 998ء میں تخت سنبھالنے کے بعد انہوں نے 32 سال تک حکومت کی۔ ان کا دارالحکومت غزنی (موجودہ افغانستان) تھا اور ان کی سلطنت افغانستان، ایران، وسطی ایشیا اور برصغیر کے بڑے حصوں پر پھیلی ہوئی تھی۔ محمود غزنوی اپنی جنگی مہارت، حکمت عملی اور غیر معمولی ذہانت کی وجہ سے مشہور تھے۔ انہوں نے برصغیر میں 17 بڑے لشکری حملے کیے جن کا مقصد صرف فتوحات نہیں بلکہ بت پرستی کے مراکز کا خاتمہ اور اسلام کی اشاعت بھی تھا۔ وہ نہ صرف جنگجو تھے بلکہ علم و ادب کے شوقین بھی تھے۔ ان کے دربار میں اس دور کے عظیم علما، شعرا اور سائنسدان موجود رہتے تھے، جن میں مشہور فارسی شاعر فردوسی اور عظیم عالم البیرونی شامل ہیں۔ محمود غزنوی نے مساجد، مدارس اور کتب خانوں کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا۔ دنیاوی جاہ و جلال کے باوجود دین کے معاملے میں وہ نہایت عاجز اور متواضع تھے۔ ان کے دل میں رسولِ اکرم ﷺ سے بے پناہ محبت تھی اور کئی تاریخی واقعات اس محبت اور عاجزی کی گواہی دیتے ہیں، جیسے مدینہ منورہ میں فقیرانہ لباس پہن کر پانی پلانا۔ 30 اپریل 1030ء کو ان کا انتقال ہوا لیکن ان کی فتوحات، دینی خدمات اور علم و ادب کی سرپرستی انہیں ہمیشہ تاریخ میں زندہ رکھے گی۔

عاجزی اور عقیدت کا ایک ایمان افروز واقعہ

سلطان محمود غزنوی کا فقیرانہ حلیہ

جب سلطان محمود غزنوی، ہندوستان کے مشہور بادشاہ، مدینہ منورہ کی زیارت کے لیے حاضر ہوئے، تو انہوں نے اپنے شاہی لباس اور دنیاوی جاہ و جلال کو پیچھے چھوڑ دیا۔ اس عظیم ہستی نے عام فقیروں کی طرح سادہ اور پرانا لباس زیب تن کیا، اور کندھے پر پانی کی مشک رکھ کر مدینہ کی گلیوں میں اللہ کی مخلوق کو پانی پلانا شروع کر دیا۔

ان کا چہرہ عاجزی، محبت اور ادب سے چمک رہا تھا۔ وہ سمجھ چکے تھے کہ یہاں کسی کی حیثیت، اقتدار یا مال و دولت نہیں دیکھی جاتی — یہاں صرف دل کی حالت دیکھی جاتی ہے۔


Sultan Mahmood Ghaznavi Waqia |Islamic Story |Islami Waqiat


 ایک شخص کی حیرت

ایک مقامی شخص نے اُنہیں پہچان لیا اور حیرت سے سوال کیا:

"آپ تو ہندوستان کے شہنشاہ ہیں، پھر یہ فقیرانہ لباس اور سادگی کیوں؟"


سلطان محمود نے نہایت عاجزی اور محبت بھرے انداز میں جواب دیا:


"بادشاہ تو میں ہندوستان میں ہوں، لیکن یہاں، مدینہ کی گلیوں میں، رسولِ عربی ﷺ کے دربار میں تو شہنشاہ بھی فقیر بن کر حاضر ہوتے ہیں!"

یہ جملہ صرف ایک جواب نہیں تھا، یہ ایک عقیدت، عاجزی اور عشقِ مصطفیٰ ﷺ کا زندہ مظاہرہ تھا۔


 مصر کے بادشاہ کی شان و شوکت

وہی شخص تھوڑا آگے بڑھا تو اُسے ایک اور بادشاہ نظر آیا — مصر کا بادشاہ، جو نہایت شاندار شاہی لباس، تاج، اور باوقار انداز میں مدینہ میں داخل ہو رہا تھا۔ اس کا لباس نگینوں سے سجا ہوا، اور انداز مکمل طور پر شاہانہ تھا۔ منظر دیکھ کر وہی شخص حیران ہوا اور فوراً پوچھ بیٹھا:

"تمہاری یہ ہمت کیسے ہوئی کہ نبی کریم ﷺ کے در پر اتنی زبردست شان و شوکت کے ساتھ آؤ؟ کیا یہ دربار سادگی، عاجزی اور فقیری کا مقام نہیں؟"

 مصر کے بادشاہ کا غیرت ایمانی سے لبریز جواب

مصر کے بادشاہ نے نہایت فخر، ادب اور عشق سے لبریز لہجے میں جواب دیا:

"اے سوال کرنے والے! یہ تاج، یہ بادشاہی، یہ جاہ و جلال سب مجھے میرے آقائے دو جہاں ﷺ کے صدقے میں عطا ہوا ہے۔ میں شاہی لباس میں اس لیے حاضر ہوا ہوں کہ میرا آقا ﷺ دیکھے کہ اُس کے غلام کو اُس کی نسبت سے کیا مقام ملا۔ یہ شان میری نہیں، یہ شان اُس در کی عطا ہے۔"


 نتیجہ: نیت ہی اصل مقام ہے

وہ شخص دونوں بادشاہوں کے الفاظ، انداز اور نیت کو دیکھ کر دم بخود رہ گیا۔ ایک بادشاہ نے عاجزی میں شان تلاش کی، دوسرے نے شان میں عاجزی پیش کی — لیکن دونوں کی نیت خالص، عشقِ رسول ﷺ سے بھرپور اور سراسر اخلاص پر مبنی تھی۔

یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ دین میں لباس، منصب یا مقام نہیں، نیت دیکھی جاتی ہے عقیدت کے انداز مختلف ہو سکتے ہیں، مگر نیت خالص ہو تو دونوں قبول ہو سکتے ہیں۔ عاجزی بھی عبادت ہے، اور عقیدت بھی اظہار کی اجازت رکھتی ہے — بشرطِ نیت صاف ہو۔


مزید اقوال 

 


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے