عبد الملک بن مروان کی حکمرانی کی لازوال داستان
کیا آپ جانتے ہیں کہ عبدالملک بن مروان نہ صرف ایک خلیفہ تھے بلکہ اسلامی تاریخ کے اُن حکمرانوں میں سے تھے جنہوں نے ریاستی استحکام اور علمی ترقی میں گہری چھاپ چھوڑی؟ اس بلاگ پوسٹ میں، ہم عبدالملک بن مروان کی زندگی، قیادت اور اُن کے ایسے فیصلوں کا مطالعہ کریں گے جو تاریخ میں سنہری باب کی حیثیت رکھتے ہیں۔ آپ جانیں گے کہ کیسے اُن کی دور اندیشی، عدل پسندی اور عزم نے امتِ مسلمہ پر دیرپا اثرات مرتب کیے۔ یہ تحریر آپ کو ماضی کی حکمتوں سے جُڑنے اور آج کی دنیا میں ان سے سبق لینے کا موقع دے گی۔ آئیے، اُن کی زندگی کے روشن پہلوؤں میں قدم رکھتے ہیں۔
ایک لازوال حکایت
عامر شعبی کو شاہ روم کے پاس قاصد بنا کر بھیجنا
عبد الملک بن مروان خلیفہ بنو امیہ میں سے ایک نیک انتظامی اور سیاسی صلاحیتوں والا حکمران سمجھا جاتا ہے۔ اس نے عامر شعبی کو، جو علم و حکمت میں انتہائی علی مقام شخصیت تھے، شاہ روم کے پاس کسی سیاسی یا سفارتی مقصد کے لیے بھیجا، جو اس وقت کی عظیم تمدنی و سیاسی ریاستوں میں سے ایک تھی۔ شعبی نہ صرف علم و فضل کے میدان میں ممتاز تھے بلکہ ان کی گفتگو، اندازِ بیان، اور حکمت عملی بھی قابلِ تعریف تھی، اسی بنا پر انہیں ایک اہم سفارتی مشن پر
مامور کیا گیا۔
شاہ روم کا شعبی سے سوال
جب عامر شعبی شاہ روم کے دربار میں پہنچے تو انکا استقبال نہایت شان و شوکت سے کیا گیا، انکی ذہانت، علم، اور فصاحت کو وہاں سراہا گیا۔ اس دوران شاہ روم نے غالباً انکی شاندار شخصیت اور علم و حکمت کی بنیاد پر سوال کیا: "کیا آپ شاہی خاندان سے ہیں؟" شعبی نے انکساری سے جواب دیا: "نہیں"۔ یہ سوال شاہ کی حیرت کو ظاہر کرتا تھا کہ ایسی اعلیٰ شخصیت کوئی عام آدمی کیسے ہو سکتی ہے؟
رقعہ دینا اور اندرونی نیت
جب شعبی واپسی کی تیاری کررہے تھے تو شاہ روم نے ایک مختصر رقعہ ان کے حوالے کیا اور کہا کہ اسے خلیفہ کو ملاقات کے آخر میں پیش کرنا۔ اس رقعے میں دراصل ایک سیاسی چال اور نفسیاتی سازش چھپی ہوئی تھی۔ شاہ روم دراصل اس رقعے کے ذریعے خلیفہ عبد الملک کے دل میں شک، حسد اور بدگمانی پیدا کرنا چاہتا تھا تاکہ اس کے وزیروں اور اہل علم کے خلاف دشمنی کا بیج بویا جا سکے۔
رقعہ پیش کرنے کی بھول اور ایمانداری:
جب شعبی واپس خلیفہ کے دربار میں پہنچے اور ملاقات مکمل ہونے کے بعد جانے لگے تو رقعہ یاد آیا۔ وہ فوراً واپس آئے اور نہایت ادب سے عرض کیا کہ "اے امیر المؤمنین! ایک رقعہ پیش کرنا بھول گیا تھا، جو اب یاد آیا ہے۔" یہ ان کی امانتداری، فرض شناسی اور اخلاص کا مظہر تھا کہ انہوں نے ذاتی خطرہ مول لے کر بھی وہ پیغام وقت پر پہنچا دیا۔
عبد الملک کا ردِعمل اور رقعہ کا مطالعہ
خلیفہ عبد الملک بن مروان نے رقعہ کھولنے کا حکم دیا۔ جب اسے پڑھا گیا تو اس میں لکھا تھا: "قوم عرب پر مجھے تعجب ہے کہ اس شخص کے علاوہ کسی اور کو اپنا بادشاہ منتخب کر لیا۔" عبد الملک نے فوراً معاملے کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کی اور شعبی کو واپس بلا کر پوچھا کہ "کیا تم جانتے ہو اس میں کیا لکھا ہے؟"
رقعہ کی تفسیر اور سیاسی حکمت
شعبی نے جب انکار کیا تو خلیفہ نے خود وضاحت کی کہ شاہ روم کا مقصد یہ تھا کہ میرے دل میں تمہارے خلاف حسد پیدا ہو اور میں تمہیں اپنا حریف سمجھ کر قتل کر دوں۔ عبد الملک کی یہ سیاسی فہم و فراست اور نکتہ رسی نہایت قابلِ تحسین تھی۔ اس نے نہ صرف رقعہ کا مطلب سمجھا بلکہ دشمن کی نیت کو بھی بھانپ لیا۔
شعبی کا فرمان اور ان کی عظمت کی سفارش:
شعبی نے خلیفہ کی ذہانت پر فوراً یہ عرض کیا: "اگر وہ آپ کو دیکھ لیتا تو مجھے شاندار نہ سمجھتا۔" یعنی آپ کی شخصیت اور شان اس قدر بلند ہے کہ میرا ان کے ہاں قابلِ تعریف ہونا محض ظاہری ہے۔ یہ بات جب شاہ روم تک پہنچی تو وہ بھی حیران رہ گیا اور کہا: "واللہ! میں نے واقعی اسی مصلحت سے وہ کلمات لکھے تھے۔"
نتیجہ اور عبد الملک کی نکتہ رسی:
یہ واقعہ صرف ایک تاریخی قصہ نہیں بلکہ ایک عظیم حکمران کی فہم و بصیرت اور ایک عالم کی دیانت و وفاداری کی مثال ہے۔ عبد الملک بن مروان کی دور اندیشی اور سیاسی حکمت نے ایک بڑے فتنے کو جنم لینے سے روک دیا، جبکہ عامر شعبی کی وفاداری نے ان کی شخصیت کو مزید بلند کر دیا۔ اس واقعے سے ہمیں حکمت، دانش، اور دیانت جیسے اعلیٰ اوصاف کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔
ایک مظلوم عورت کی فریاد اور خلیفہ کا فیصلہ جو تاریخ بن گیا
ایک مظلوم عورت کی فریاد
ایک دن خلیفہ عبد الملک بن مروان کے دربار میں ایک بوڑھی مظلوم عورت داخل ہوئی۔ اس کے چہرے پر غم، درد، اور فریاد کی جھلک تھی۔ دربار میں موجود دربانوں نے روکنے کی کوشش کی، لیکن خلیفہ نے کہا:
اسے مت روکو، یہی لوگ ہمارا اصل امتحان ہیں.
عورت نے قریب آ کر کہا:
"اے امیر المؤمنین! آپ کا گورنر میری زمین زبردستی چھین کر، مجھے بے عزت کر کے گھر سے نکال چکا ہے۔ میں نے کئی بار اس سے فریاد کی، لیکن اس نے میری ایک نہ سنی۔"
خلیفہ کا فوری ردِعمل
عبد الملک بن مروان نے نہ غصہ کیا، نہ بہانے بنائے۔ انہوں نے بڑے سکون سے گورنر کا نام پوچھا، اور پھر حکم دیا:
"فوراً قاصد کو روانہ کیا جائے، اور اس گورنر کو دارالخلافہ میں حاضر کیا جائے۔ ساتھ ہی اس عورت کو بھی وہیں رکھا جائے، تاکہ میں خود ان کے درمیان فیصلہ کر سکوں۔"
یہ فیصلہ پورے دربار کے لیے حیرت کا باعث بنا، کیونکہ ایک خلیفہ کسی عام عورت کی فریاد پر ایک بااثر گورنر کو بلا رہا تھا۔
دربار میں انصاف کا دن
چند دن بعد گورنر دربار میں حاضر ہوا۔ خلیفہ نے دونوں فریقین کو سامنے بٹھایا اور کہا: "اب تم دونوں آزاد ہو کہ اپنی بات پوری تفصیل سے بیان کرو۔ میں خود انصاف کروں گا۔"
عورت نے دوبارہ اپنا موقف بیان کیا، اور بتایا کہ کیسے اس کی زمین ہتھیالی گئی، اور اسے دھمکایا گیا۔ گورنر نے انکار کیا اور کہا:
"یہ عورت جھوٹ بول رہی ہے، میرے پاس گواہ موجود ہیں۔"
خلیفہ نے کہا: "تو پھر گواہ پیش کرو۔"
لیکن گواہ یا دستاویزات کوئی بھی موجود نہ تھیں۔
فیصلہ اور سزا
گواہ نہ ہونے کے باعث خلیفہ نے عورت کی بات کو سچ مانا۔ اس کے بعد گورنر کی طرف دیکھا اور فرمایا:
"تو نے اپنے اختیار کا غلط استعمال کیا، اور ظلم کیا۔ یہ وہ جرم ہے جس پر نہ دنیا میں بخشش ہے، نہ آخرت میں!"
پھر گورنر کو اس کے عہدے سے برطرف کر دیا
مظلوم عورت کو اس کی زمین واپس دلوائی
اور اس کے لیے بیت المال سے کچھ معاوضہ بھی مقرر کیا گیا تاکہ وہ اپنی زندگی آرام سے گزار سکے
خلیفہ کا تاریخی جملہ
جب فیصلہ مکمل ہوا، تو خلیفہ عبد الملک بن مروان نے پورے دربار کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:
جس حکمران کے دروازے پر ایک مظلوم کی آہ پہنچے، اور وہ خاموش رہے، تو قیامت کے دن اس کا گریبان اللہ کے ہاتھ میں ہو گا!
یہ جملہ اتنا زوردار اور پراثر تھا کہ دربار میں سناٹا چھا گیا، اور سب کو احساس ہوا کہ عدل صرف عدالتوں میں نہیں بلکہ دلوں میں ہوتا ہے۔
اس واقعے سے سیکھا گیا سبق
1. عدل و انصاف: حکمران کا سب سے پہلا فرض عدل ہے، چاہے فریق کوئی بھی ہو۔
2. جوابدہی: ایک عام شہری بھی حکمران سے سوال کر سکتا ہے، اور حکمران جوابدہ ہے۔
3. اقتدار کا امتحان: اصل امتحان تب آتا ہے جب اختیار اور طاقت کے باوجود انسان حق کے ساتھ کھڑا ہو۔
4. اسلامی حکمرانی کا ماڈل: عبد الملک بن مروان کا طرز حکمرانی آج کے حکمرانوں کے لیے نمونہ ہے۔
سبق
1. عدل و انصاف: حکمران کا سب سے پہلا فرض عدل ہے، چاہے فریق کوئی بھی ہو۔
2. جوابدہی: ایک عام شہری بھی حکمران سے سوال کر سکتا ہے، اور حکمران جوابدہ ہے۔
3. اقتدار کا امتحان: اصل امتحان تب آتا ہے جب اختیار اور طاقت کے باوجود انسان حق کے ساتھ کھڑا ہو۔
4. اسلامی حکمرانی کا ماڈل: عبد الملک بن مروان کا طرز حکمرانی آج کے حکمرانوں کے لیے نمونہ ہے
۔یہ واقعہ صرف ایک تاریخی داستان نہیں، بلکہ ایک آئینہ ہے جو ہمیں دکھاتا ہے کہ جب انصاف، تقویٰ، اور خوفِ خدا کسی حکمران کے دل میں جاگزیں ہو، تو ظلم کا خاتمہ ممکن ہے۔ خلیفہ عبد الملک بن مروان کا عدل ہمیں یاد دلاتا ہے کہ خلافت صرف حکومت کا نام نہیں، بلکہ ایک ذمہ داری ہے، ایک امانت ہے، جو صرف وہی اٹھا سکتا ہے جو اللہ سے ڈرتا ہواور مخلوق کی خیر خواہی چاہتا ہو۔



0 تبصرے