کیا یہ ممکن ہے کہ جدید سائنس، جسے اکثر مذہب کی ضد سمجھا جاتا ہے، خود خدا کے وجود کی طرف اشارہ کرے؟
کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ خردبین، دوربین، لیبارٹری اور ریاضیاتی قوانین، سب مل کر ایک ایسی حقیقت کی گواہی دیں جسے صدیوں سے مذاہب بیان کرتے آئے ہیں؟
یہ سوال محض عقیدے کا نہیں بلکہ عقل، مشاہدے اور دیانت دارانہ غور و فکر کا سوال ہے۔ آج کے دور میں جب مذہب اور سائنس کو دو مخالف کیمپوں میں کھڑا کر دیا گیا ہے، ایسے میں یہ سوال اور بھی زیادہ اہم ہو جاتا ہے کہ کیا واقعی سائنس خدا کی نفی کرتی ہے، یا ہم نے سائنس کو غلط سمجھ لیا ہے؟
اسی فکری الجھن کو سلجھانے کے لیے ہم ایک ایسے سائنس دان کی فکر کا جائزہ لیتے ہیں جو نہ واعظ تھا، نہ مذہبی خطیب، بلکہ ایک عمر سائنسی تحقیق میں گزارنے والا ماہرِ حیاتیات تھا۔
تعارف: ایک سائنس دان، نہ کہ مذہبی مبلغ
ایڈورڈ لوتھر کیسل (Edward Luther Kessel) بیسویں صدی کے ایک ممتاز سائنس دان تھے۔ وہ محض ایک عام محقق نہیں بلکہ حیاتیات، حشرات الارض (Entomology)، جنینیات (Embryology) اور ارتقائی حیاتیات کے ماہر سمجھے جاتے تھے۔ انہوں نے کیلیفورنیا یونیورسٹی سے ایم ایس سی اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کیں اور یونیورسٹی آف سان فرانسسکو میں پروفیسر اور شعبۂ حیاتیات کے چیئرمین کے طور پر خدمات انجام دیں۔
وہ کیلیفورنیا اکیڈمی آف سائنسز سے وابستہ رہے، سائنسی جرائد کے مدیر رہے اور زندگی بھر فطرت کے باریک ترین نظاموں کا مطالعہ کرتے رہے۔ خاص بات یہ ہے کہ وہ نہ کسی مذہبی ادارے کے نمائندہ تھے اور نہ ان کی تحریر کا مقصد تبلیغ تھا۔ ان کی بات کی اصل اہمیت یہی ہے کہ وہ سائنس کے اندر رہتے ہوئے خدا کے تصور تک پہنچے۔
غیر جانبداری کا دعویٰ
کیسل اپنی تحریر کی ابتدا ہی ایک واضح اعلان سے کرتے ہیں کہ وہ جذبات، تعصب یا مذہبی جوش سے بات نہیں کر رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص حقیقتاً کھلے ذہن کے ساتھ سائنسی شواہد کو دیکھے تو وہ خدا کے وجود کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔
یہ ایک غیر معمولی دعویٰ ہے، کیونکہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ سائنس دان مذہب سے دور ہوتے ہیں۔ لیکن یہاں ایک سائنس دان یہ کہہ رہا ہے کہ سائنس خود اس نتیجے کی طرف لے جاتی ہے۔
سائنس کا دائرہ کہاں ختم ہوتا ہے؟
کیسل سب سے پہلے ایک بنیادی غلط فہمی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ان کے مطابق سائنس کا کام یہ نہیں کہ وہ کائنات کی ابتدا پر فیصلہ صادر کرے۔ سائنس کا اصل کام فطرت کے قوانین کا مطالعہ کرنا ہے، یہ دیکھنا ہے کہ چیزیں کس طرح کام کرتی ہیں، نہ کہ یہ کہ وہ کیوں وجود میں آئیں۔
سائنس ایک مشین کی طرح ہے جو نظام کو سمجھتی ہے، لیکن یہ سوال کہ یہ مشین بنی کیسے، اس کا جواب سائنس کے دائرے سے باہر ہے۔ یہاں سے فلسفہ اور مابعد الطبیعیات کا میدان شروع ہوتا ہے۔
کائنات ہمیشہ سے موجود نہیں ہو سکتی
انسانی تاریخ میں کچھ فلسفیوں نے یہ خیال پیش کیا کہ کائنات ازل سے موجود ہے، اس کا کوئی آغاز نہیں۔ لیکن کیسل کے مطابق جدید سائنس نے اس خیال کو مکمل طور پر رد کر دیا ہے۔
وہ حرارت کے دوسرے قانون، یعنی قانونِ اینٹروپی کی مثال دیتے ہیں۔ یہ قانون بتاتا ہے کہ توانائی مسلسل بکھر رہی ہے اور کائنات آہستہ آہستہ ایسی حالت کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں کوئی مفید توانائی باقی نہیں رہے گی۔
اگر کائنات ہمیشہ سے موجود ہوتی تو یہ عمل کب کا مکمل ہو چکا ہوتا، زندگی ختم ہو چکی ہوتی اور ہر نظام ساکت ہو چکا ہوتا۔ لیکن چونکہ ایسا نہیں ہوا، اس کا مطلب صاف ہے کہ کائنات کی کوئی ابتدا ضرور ہے۔
ابتدا کا مطلب خالق
یہاں کیسل ایک منطقی نتیجہ اخذ کرتے ہیں۔ ان کے مطابق جو چیز وقت میں شروع ہوئی ہو، وہ خود کو وجود میں نہیں لا سکتی۔ ہر آغاز کے پیچھے کوئی سبب ہوتا ہے۔ اگر کائنات کا آغاز ہوا ہے تو اس کے پیچھے بھی کوئی سبب ہونا چاہیے۔
یہ سبب خود کائنات کا حصہ نہیں ہو سکتا، کیونکہ وہ کائنات سے پہلے موجود ہونا چاہیے۔ وہ وقت اور مادّے سے ماورا ہونا چاہیے۔ یہی وہ تصور ہے جسے فلسفے میں "اوّلین سبب" کہا جاتا ہے اور مذاہب اسے خدا کہتے ہیں۔
عظیم تخلیقی واقعہ
کیسل اس بات کی طرف بھی توجہ دلاتے ہیں کہ جدید سائنس کے مطابق کائنات کسی ایک عظیم واقعے کے نتیجے میں وجود میں آئی۔ وہ اسے محض ایک طبعی حادثہ نہیں سمجھتے بلکہ ایک ایسا تخلیقی لمحہ قرار دیتے ہیں جس میں قوانینِ فطرت خود وجود میں آئے۔
قوانینِ فطرت چونکہ خود کائنات کا حصہ ہیں، اس لیے وہ کائنات کو تخلیق نہیں کر سکتے۔ قوانین ہمیشہ کسی قانون ساز کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
ارتقاء: مسئلہ کہاں ہے؟
یہاں پہنچ کر کیسل ایک نہایت نازک مگر اہم موضوع چھیڑتے ہیں: ارتقاء۔ ان کے مطابق مسئلہ ارتقاء نہیں بلکہ مادّی ارتقاء کا فلسفہ ہے، جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ سب کچھ اندھے اتفاق سے ہوا۔
وہ اس کے برعکس تخلیقی ارتقاء کا تصور پیش کرتے ہیں، جس کے مطابق خدا نے مادّہ اور قوانین پیدا کیے، اور انہی قوانین کے ذریعے زندگی کو بتدریج ترقی دی۔
قدرتی انتخاب اور حدود
قدرتی انتخاب کے بارے میں کیسل واضح کرتے ہیں کہ یہ کوئی تخلیقی قوت نہیں۔ یہ صرف موجود تغیرات میں سے کچھ کو باقی رکھتا ہے اور کچھ کو ختم کر دیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ وہ تغیرات کہاں سے آتے ہیں؟
جدید تحقیق کے مطابق بہت سی جینیاتی تبدیلیاں مکمل طور پر بے ترتیب نہیں ہوتیں۔ کچھ تبدیلیاں مخصوص سمتوں میں ہوتی ہیں، کچھ بار بار ایک ہی نوعیت کی ہوتی ہیں۔ یہ سب کسی گہرے نظم اور ذہانت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
حیاتیات میں نظر آنے والا نظم
کیسل خاص طور پر جنینیات اور حشرات کی زندگی کی مثال دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جب ایک سائنس دان ان مراحل کو قریب سے دیکھتا ہے تو اسے محض کیمیائی عمل نہیں بلکہ ایک حیران کن منصوبہ بندی نظر آتی ہے۔
اعضاء کی نشوونما، وقت کی پابندی، نظام کی ہم آہنگی — یہ سب محض اتفاق نہیں لگتے بلکہ ایک ذہین ڈیزائن کی علامت محسوس ہوتے ہیں۔
مذہب اور سائنس کی جنگ: ایک غلط بیانیہ
کیسل کے مطابق مذہب اور سائنس کی جنگ ایک مصنوعی تصور ہے۔ اصل جنگ انتہاپسندی کی ہے۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جو ہر نئی سائنسی دریافت کو ایمان کے خلاف سمجھتے ہیں، اور دوسری طرف وہ جو ہر مذہبی تصور کو جہالت قرار دیتے ہیں۔
حقیقت ان دونوں کے درمیان ہے، جہاں عقل، سائنس اور ایمان ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔
نتیجہ:
آخر میں کیسل اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ اگر کوئی شخص واقعی کھلے ذہن کے ساتھ سائنس کا مطالعہ کرے تو وہ خدا کے تصور سے بچ نہیں سکتا۔ سائنس جتنا زیادہ آگے بڑھتی ہے، اتنا ہی یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کائنات ایک مقصد، ایک نظم اور ایک عقل کے تحت وجود میں آئی ہے۔


0 تبصرے