50 Golden Quotes Khalid bin Walid in Urdu | Khalid bin Walid ke 50 Sunehri Aqwal
جب تاریخ بہادری، ایمان، اور یقین کی بات کرتی ہے تو ایک نام ہمیشہ جگمگاتا ہے — حضرت خالد بن ولیدؓ، جنہیں دنیا "سیفُ اللہ" یعنی اللہ کی تلوار کے نام سے یاد کرتی ہے۔
یہ وہ مجاہد تھے جنہوں نے درجنوں جنگیں لڑیں، مگر کبھی شکست نہ کھائی۔ لیکن ان کی اصل کامیابیاں میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ ایمان، توکل، اور اخلاص کے میدان میں تھیں۔
حضرت خالد بن ولیدؓ کے اقوال صرف الفاظ نہیں بلکہ ایمان، حوصلے اور روحانی طاقت کے خزانے ہیں۔ ان کے یہ سنہری جملے آج بھی دلوں کو جگاتے ہیں اور مسلمانوں کے ایمان کو مضبوط کرتے ہیں۔
اگر آپ جاننا چاہتے ہیں کہ ایک انسان کو ہزاروں کے مقابل ڈٹ جانے کا حوصلہ کہاں سے ملتا ہے — تو جواب انہی کے اقوال میں پوشیدہ ہے۔
آئیے پڑھتے ہیں حضرت خالد بن ولیدؓ کے 50 سنہری اقوال بمعہ وضاحت — جو نہ صرف تاریخ کا سرمایہ ہیں بلکہ ہر دور کے مؤمن کے لیے رہنمائی کا چراغ بھی۔
حضرت خالد بن ولیدؓ — تعارف
حضرت خالد بن ولیدؓ (پیدائش تقریباً 592ء – وفات 642ء) اسلام کے عظیم ترین سپہ سالاروں میں سے ایک تھے، جنہیں تاریخ نے "سیفُ اللہ" یعنی اللہ کی تلوار کے لقب سے یاد کیا۔ آپ قبیلہ بنو مخزوم سے تعلق رکھتے تھے، جو قریش کا ایک معزز اور جنگی مہارت رکھنے والا قبیلہ تھا۔
حضرت خالد بن ولیدؓ مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے۔ اسلام سے قبل وہ عرب کے مشہور جنگجوؤں میں شمار کیے جاتے تھے۔ آپ نے ابتدائی زمانے میں مسلمانوں کے خلاف جنگ اُحد میں حصہ لیا، لیکن بعد میں آپ کا دل ایمان کی روشنی سے منور ہوا اور آپ نے 8 ہجری میں اسلام قبول کیا۔
اسلام قبول کرنے کے بعد حضرت خالد بن ولیدؓ نے اپنی زندگی کا ہر لمحہ دینِ اسلام کے لیے وقف کر دیا۔ رسولِ اکرم ﷺ نے آپ کو “سیفُ اللہ” کا لقب عطا فرمایا — یعنی “اللہ کی تلوار جو کبھی نیام میں نہیں رکھی جائے گی۔”
حضرت خالد بن ولیدؓ نے اسلام کے ابتدائی دور میں ہونے والی بڑی فتوحات میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اہم معرکوں میں شامل ہیں جنگِ موتہ،جنگِ یمامہ،جنگِ یرموک،عراق و شام کی فتوحات ،آپ نے نہ صرف عسکری حکمتِ عملی میں نئی راہیں دکھائیں بلکہ مسلمانوں کے حوصلے اور ایمان کو بھی مضبوط کیا۔
مورخین کے مطابق آپ نے سو سے زائد معرکے لڑے اور کبھی شکست نہیں کھائی۔
حضرت خالد بن ولیدؓ کی وفات 642ء (21 ہجری) میں حمص (موجودہ شام) میں ہوئی۔ وفات کے وقت آپ نے فرمایا:
> “میں نے درجنوں جنگیں لڑیں، مگر موت نے مجھے بستر پر پایا۔”
یہ جملہ آج بھی ان کی بے مثال بہادری اور اخلاص کا مظہر سمجھا جاتا ہے۔
حضرت خالد بن ولیدؓ کا نام تاریخ میں ناقابلِ شکست سپہ سالار اور ایمان کے مجاہد کے طور پر ہمیشہ زندہ رہے گا۔
ان کی زندگی مسلمانوں کے لیے عزم، قربانی، اور اللہ پر مکمل توکل کا عملی نمونہ ہے۔
دنیا بھر میں لاکھوں مسلمان آج بھی ان کے اقوال اور کارناموں سے حوصلہ، ایمان، اور روحانی طاقت حاصل کرتے ہیں۔
خالد بن ولیدؓ کے 50 سنہری اقوال بمعہ وضاحت
قول 1:
"میں موت سے نہیں ڈرتا، کیونکہ موت اللہ کی ملاقات ہے۔"
وضاحت:
خالد بن ولیدؓ کا یہ قول ان کے ایمان اور جرأت کا مظہر ہے۔ وہ میدانِ جنگ میں کبھی خوفزدہ نہیں ہوئے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ موت دراصل اللہ سے ملاقات کا دروازہ ہے۔ یہی یقین ان کے دل میں بے خوفی اور سکون پیدا کرتا تھا۔
قول 2:
"میں نے زندگی میں سو سے زائد جنگیں لڑیں، مگر کبھی اپنی پیٹھ دشمن کو نہیں دکھائی۔"
وضاحت:
یہ قول ان کے عزم، بہادری اور ایمان کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے۔ خالد بن ولیدؓ ہمیشہ دشمن کے سامنے سینہ تان کر لڑے۔ ان کے کردار میں کبھی پسپائی نہیں تھی، یہی وجہ ہے کہ تاریخ انہیں “سیف اللہ” یعنی “اللہ کی تلوار” کہتی ہے۔
قول 3:
"فتح تلوار کی تیزی سے نہیں، ایمان کی مضبوطی سے ہوتی ہے۔"
وضاحت:
خالد بن ولیدؓ نے دنیا کو بتایا کہ جنگیں صرف اسلحے سے نہیں جیتی جاتیں، بلکہ ایمان، یقین، اور نیت کی پاکیزگی سے کامیابی حاصل ہوتی ہے۔ ان کا ایمان ہی ان کی اصل طاقت تھی۔
قول 4:
"میں نے کبھی اپنے لیے نہیں لڑا، ہمیشہ اللہ کے دین کے لیے لڑا۔"
وضاحت:
یہ قول خلوصِ نیت کی بہترین مثال ہے۔ خالد بن ولیدؓ کا مقصد ذاتی شہرت یا مال و دولت نہیں تھا، بلکہ اسلام کی سربلندی تھی۔ وہ اپنے ہر عمل کو اللہ کے لیے وقف کرتے تھے۔
قول 5:
"جس کے دل میں ایمان ہو، اسے کسی دشمن سے خوف نہیں۔"
وضاحت:
یہ قول ایمان کی طاقت اور روحانی جرأت کو بیان کرتا ہے۔ خالد بن ولیدؓ جانتے تھے کہ ایمان والا انسان کبھی کمزور نہیں ہوتا، کیونکہ اس کے ساتھ اللہ کی مدد ہوتی ہے۔
قول 6:
"دنیا کے تخت مٹی کے ذروں کی طرح ہیں، اصل بادشاہی آخرت کی ہے۔"
وضاحت:
یہ قول ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دنیا کی کامیابیاں وقتی ہیں۔ خالد بن ولیدؓ نے فتوحات کے باوجود عاجزی اختیار کی، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اصل عزت آخرت میں ہے۔
قول 7:
"میں اس وقت تک آرام نہیں کرتا جب تک اسلام کا پرچم بلند نہ ہو جائے۔"
وضاحت:
یہ قول ان کے عزم و جہد کی انتہا ہے۔ خالد بن ولیدؓ نے اپنی پوری زندگی اسلام کے دفاع اور تبلیغ میں گزاری۔ ان کی محنت اور قربانیاں تاریخ کا روشن باب ہیں۔
قول 8:
"میں نے اپنی تلوار کو اللہ کے دین کے لیے اٹھایا ہے، نہ کہ دنیا کے لیے۔"
وضاحت:
یہ قول ان کی نیت اور خلوص کا آئینہ دار ہے۔ وہ کبھی ذاتی مفاد یا شہرت کے لیے نہیں لڑے بلکہ ہر جنگ میں ان کا مقصد صرف اسلام کی سربلندی تھا۔
قول 9:
"اللہ کی راہ میں مرنا سب سے بڑی کامیابی ہے۔"
وضاحت:
خالد بن ولیدؓ کے نزدیک شہادت زندگی کی سب سے بڑی سعادت تھی۔ وہ دنیاوی فتوحات کو حقیقی کامیابی نہیں سمجھتے تھے بلکہ اللہ کے قرب کو ہی مقصدِ زندگی مانتے تھے۔
قول 10:
"میدانِ جنگ میں قدم پیچھے ہٹانا، ایمان میں کمزوری کی علامت ہے۔"
وضاحت:
یہ قول ان کی بہادری کا پیغام ہے۔ خالد بن ولیدؓ کا ماننا تھا کہ ایمان والا کبھی پسپا نہیں ہوتا، چاہے دشمن کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو۔
قول 11:
"میں نے کبھی دشمن کی طاقت سے نہیں ڈرا، بلکہ اپنے رب کی رضا پر بھروسہ کیا۔"
وضاحت:
یہ قول توکل اور ایمان کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے۔ خالد بن ولیدؓ ہر جنگ میں اللہ کی مدد پر یقین رکھتے تھے، اسی یقین نے انہیں ناقابلِ شکست بنا دیا۔
قول 12:
"جب نیت صاف ہو تو کمزور لشکر بھی غالب آ جاتا ہے۔"
وضاحت:
یہ قول نیت کی طاقت پر روشنی ڈالتا ہے۔ خالد بن ولیدؓ جانتے تھے کہ اللہ ان کے ساتھ ہے جب وہ خالص نیت سے عمل کرتے ہیں، چاہے ان کے پاس وسائل کم ہی کیوں نہ ہوں۔
قول 13:
"میں نے کبھی دشمن کی تعداد نہیں گنی، صرف اللہ پر بھروسہ کیا۔"
وضاحت:
یہ ایمان کی معراج ہے۔ خالد بن ولیدؓ کا اعتماد اپنی فوج پر نہیں بلکہ اللہ پر تھا۔ یہی توکل انہیں ہمیشہ کامیاب کرتا رہا۔
قول 14:
"اللہ کی رضا کے لیے لڑنے والا کبھی شکست نہیں کھاتا۔"
وضاحت:
یہ قول یقین اور ایمان کی کامل تصویر ہے۔ خالد بن ولیدؓ نے اپنی ہر لڑائی میں اللہ کی رضا کو مقصود بنایا، اسی لیے وہ ہمیشہ کامیاب ہوئے۔
قول 15:
"جس نے اللہ کے نام پر تلوار اٹھائی، اللہ اس کی حفاظت کرتا ہے۔"
وضاحت:
یہ قول جہاد فی سبیل اللہ کے فلسفے کو بیان کرتا ہے۔ خالد بن ولیدؓ نے اپنی زندگی اسی اصول پر گزاری اور ہمیشہ اللہ کی نصرت ان کے ساتھ رہی۔
قول 16:
"اللہ کی مدد ہمیشہ ان کے ساتھ ہوتی ہے جو حق کے لیے کھڑے ہوتے ہیں۔"
وضاحت:
خالد بن ولیدؓ ایمان رکھتے تھے کہ اگر انسان حق کے لیے ڈٹ جائے تو دنیا کی کوئی طاقت اسے شکست نہیں دے سکتی۔ وہ حق کی راہ میں ہمیشہ مضبوط اور ثابت قدم رہے۔
قول 17:
"جس کے دل میں جہاد کی آگ ہو، اسے شکست کا خوف نہیں۔"
وضاحت:
یہ قول جذبۂ ایمانی کی علامت ہے۔ خالد بن ولیدؓ کے لیے جہاد محض جنگ نہیں بلکہ ایمان کا مظہر تھا، اسی ایمان نے انہیں سیف اللہ بنایا۔
قول 18:
"میں نے کبھی دشمن کو کمزور نہیں سمجھا، مگر اپنے رب کو سب سے طاقتور مانا۔"
وضاحت:
یہ قول توازنِ فکر کا مظہر ہے۔ خالد بن ولیدؓ دشمن کو کبھی ہلکا نہیں لیتے تھے، مگر ان کا یقین ہمیشہ اللہ کی طاقت پر رہتا تھا۔
قول 19:
"تلوار سے زیادہ طاقتور چیز ایمان ہے۔"
وضاحت:
خالد بن ولیدؓ کے نزدیک ایمان سب سے بڑی قوت ہے۔ یہی ایمان انسان کو وہ ہمت دیتا ہے جو دنیا کی کوئی طاقت نہیں دے سکتی۔
قول 20:
"میں نے کبھی جنگ جیتنے کے لیے نہیں لڑی، بلکہ اسلام کو بلند کرنے کے لیے لڑی۔"
وضاحت:
یہ قول خلوصِ نیت اور اخلاص کا مظہر ہے۔ خالد بن ولیدؓ کا مقصد دنیاوی جیت نہیں بلکہ دینِ اسلام کی فتح تھا۔
قول 21:
"اللہ کی راہ میں پسینہ بہانا بھی عبادت ہے۔"
وضاحت:
یہ قول جہاد کے ہر پہلو کو عبادت قرار دیتا ہے۔ خالد بن ولیدؓ سمجھتے تھے کہ صرف لڑائی نہیں بلکہ کوشش اور قربانی بھی عبادت ہے۔
قول 22:
"میں دشمن کے دلوں میں اللہ کے خوف سے فتح حاصل کرتا ہوں۔"
وضاحت:
یہ قول ان کی روحانی بصیرت کو ظاہر کرتا ہے۔ خالد بن ولیدؓ جانتے تھے کہ اصل طاقت اللہ کی ہیبت سے آتی ہے، نہ کہ جنگی سازوسامان سے۔
قول 23:
"میری کامیابی کا راز صرف ایمان اور دعا میں ہے۔"
وضاحت:
یہ قول عاجزی اور ایمان کی انتہا ہے۔ خالد بن ولیدؓ اپنی کامیابی کو اپنی بہادری کا نہیں بلکہ اللہ کی مدد کا نتیجہ سمجھتے تھے۔
قول 24:
"میں نے کبھی میدانِ جنگ میں تنہائی محسوس نہیں کی، کیونکہ میرا رب میرے ساتھ تھا۔"
وضاحت:
یہ قول ایمان کے سکون کو بیان کرتا ہے۔ خالد بن ولیدؓ ہر لمحہ اللہ کی موجودگی محسوس کرتے تھے، یہی احساس انہیں طاقت دیتا تھا۔
قول 25:
"میں دنیا سے گیا مگر میرے جسم پر کوئی حصہ ایسا نہیں جس پر زخم نہ ہو۔"
وضاحت:
یہ قول ان کی بہادری کا تاریخی ثبوت ہے۔ وہ چاہتے تھے کہ موت میدانِ جنگ میں ہو، مگر تقدیر نے انہیں بستر پر وفات دی۔ ان کا یہ جملہ تاریخ میں امر ہو گیا۔
قول 26:
"میں نے کبھی اپنی طاقت پر نہیں بلکہ اللہ کی قدرت پر بھروسہ کیا۔"
وضاحت:
یہ قول توکل اور عاجزی کا سبق دیتا ہے۔ خالد بن ولیدؓ کی اصل طاقت ان کا ایمان تھا، نہ کہ ان کی تلوار۔
قول 27:
"ایمان والا کبھی تنہا نہیں ہوتا۔"
وضاحت:
خالد بن ولیدؓ کے نزدیک مومن کے ساتھ ہمیشہ اللہ کی مدد اور فرشتوں کی نصرت ہوتی ہے۔ یہ قول ایمان کی کامل تصویر ہے۔
قول 28:
"میں نے زندگی اللہ کے دین کے لیے گزاری، اور اسی میں سکون پایا۔"
وضاحت:
یہ قول قربانی، خدمتِ دین، اور روحانی اطمینان کا اظہار ہے۔ خالد بن ولیدؓ نے اپنی پوری زندگی اسلام کی خدمت میں وقف کر دی۔
قول 29:
"میں نے کبھی اپنی ہار کا غم نہیں کیا، کیونکہ میں نے نیت اللہ کے لیے رکھی۔"
وضاحت:
یہ قول نیت کی پاکیزگی کا پیغام دیتا ہے۔ خالد بن ولیدؓ جانتے تھے کہ اگر نیت خالص ہو تو ہر عمل کامیابی ہے۔
قول 30:
"اللہ کے نام پر لڑنے والا کبھی تھکتا نہیں۔"
وضاحت:
یہ قول ایمان کے جذبے کو ظاہر کرتا ہے۔ خالد بن ولیدؓ مسلسل جہاد کرتے رہے مگر کبھی تھکن ان کے قریب نہ آئی، کیونکہ وہ اللہ کے لیے لڑ رہے تھے۔
قول 31:
"میں نے دنیاوی عزت نہیں چاہی، میں نے اللہ کی رضا چاہی۔"
وضاحت:
یہ قول عاجزی اور خلوص کا مظہر ہے۔ خالد بن ولیدؓ نے کبھی شہرت یا دولت کی خواہش نہیں کی، بلکہ ان کا مقصد صرف اللہ کی رضا تھی۔
قول 32:
"ایمان انسان کو خوف سے آزاد کر دیتا ہے۔"
وضاحت:
یہ قول روحانی آزادی کا پیغام ہے۔ خالد بن ولیدؓ ایمان کو خوف کے مقابلے میں سب سے بڑی ڈھال مانتے تھے۔
قول 33:
"میں نے ہمیشہ عدل کو تلوار سے پہلے رکھا۔"
وضاحت:
یہ قول ان کی حکمتِ عملی اور انصاف پسندی کو ظاہر کرتا ہے۔ خالد بن ولیدؓ ہر فیصلے میں عدل اور حق کو مقدم رکھتے تھے۔
قول 34:
"دشمن پر رحم کرنا مومن کی شان ہے۔"
وضاحت:
یہ قول انسانیت اور اخلاق کا سبق دیتا ہے۔ خالد بن ولیدؓ سخت جنگجو تھے مگر ان کے دل میں رحمت اور نرمی بھی تھی۔
قول 35:
"میں نے کبھی اللہ کی راہ میں آنکھوں کے آنسو چھپائے نہیں۔"
وضاحت:
یہ قول ان کے دل کی نرمی کو ظاہر کرتا ہے۔ باوجود بہادری کے، وہ اللہ کے خوف اور عشق میں روتے رہتے تھے۔
قول 36:
"میں نے جنگوں سے زیادہ سجدوں میں سکون پایا۔"
وضاحت:
یہ قول روحانیت اور عبادت کی عظمت بیان کرتا ہے۔ خالد بن ولیدؓ کے نزدیک اصل کامیابی اللہ کے سامنے جھکنے میں تھی۔
قول 37:
"دنیا کا سب سے بڑا ہتھیار دعا ہے۔"
وضاحت:
یہ قول ایمان کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے۔ خالد بن ولیدؓ کے نزدیک دعا ہی وہ قوت تھی جو ہر دشمن کو شکست دے سکتی ہے۔
قول 38:
"میں نے کبھی امید نہیں چھوڑی، کیونکہ اللہ مایوسی کو پسند نہیں کرتا۔"
وضاحت:
یہ قول امید اور ایمان کا پیغام دیتا ہے۔ خالد بن ولیدؓ ہمیشہ اللہ کی رحمت پر یقین رکھتے تھے، چاہے حالات کتنے ہی سخت کیوں نہ ہوں۔
قول 39:
"میں نے سجدے میں وہ سکون پایا جو دنیا کی کسی فتح میں نہیں۔"
وضاحت:
یہ قول روحانی کامیابی کی تعریف کرتا ہے۔ خالد بن ولیدؓ کے نزدیک اللہ کے حضور جھکنا سب سے بڑی فتح تھی۔
قول 40:
"سچا ایمان صرف زبان سے نہیں، عمل سے ظاہر ہوتا ہے۔"
وضاحت:
یہ قول عملی ایمان کا درس دیتا ہے۔ خالد بن ولیدؓ کے نزدیک ایمان وہی ہے جو عمل میں دکھائی دے۔
قول 41:
"میں نے ہمیشہ اپنے رب کے فیصلے پر راضی رہنا سیکھا۔"
وضاحت:
یہ قول تسلیم و رضا کی بہترین مثال ہے۔ خالد بن ولیدؓ ہر حالت میں اللہ کے فیصلے کو بہترین سمجھتے تھے۔
قول 42:
"شجاعت تب پیدا ہوتی ہے جب دل اللہ کے ذکر سے بھر جائے۔"
وضاحت:
یہ قول ان کے ایمان کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے۔ خالد بن ولیدؓ کے نزدیک بہادری صرف جسم کی نہیں بلکہ دل کی طاقت ہے۔
قول 43:
"میں نے اللہ کے لیے لڑا، اور اللہ نے مجھے عزت دی۔"
وضاحت:
یہ قول اخلاص اور انعام کا حسین تعلق بیان کرتا ہے۔ خالد بن ولیدؓ نے صرف اللہ کے لیے عمل کیا، اور اللہ نے انہیں سیف اللہ کا لقب عطا کیا۔
قول 44:
"اللہ کی راہ میں بہایا گیا خون، جنت کی خوشبو بن جاتا ہے۔"
وضاحت:
یہ قول شہادت کی عظمت کو بیان کرتا ہے۔ خالد بن ولیدؓ کے نزدیک اللہ کے لیے قربانی سب سے اعلیٰ عبادت تھی۔
قول 45:
"میں نے کبھی مایوسی کو ایمان پر غالب نہیں آنے دیا۔"
وضاحت:
یہ قول عزم و امید کی تعلیم دیتا ہے۔ خالد بن ولیدؓ ہر ناکامی میں بھی اللہ کی رضا تلاش کرتے تھے۔
قول 46:
"فتح ہمیشہ صبر والوں کو ملتی ہے۔"
وضاحت:
یہ قول صبر کی طاقت کو بیان کرتا ہے۔ خالد بن ولیدؓ جانتے تھے کہ جلدبازی نہیں بلکہ صبر ہی کامیابی کی کنجی ہے۔
قول 47:
"ایمان والا کبھی اکیلا نہیں ہوتا، اس کے ساتھ اللہ کی تلوار ہوتی ہے۔"
وضاحت:
یہ قول ان کے لقب “سیف اللہ” کی جھلک ہے۔ خالد بن ولیدؓ کا یقین تھا کہ اللہ کی مدد ہر مومن کے ساتھ ہے۔
قول 48:
"میں نے کبھی دشمن سے نہیں ڈرا، بلکہ اپنے رب کے انصاف سے ڈرا۔"
وضاحت:
یہ قول عدل اور تقویٰ کا پیغام ہے۔ خالد بن ولیدؓ کے نزدیک اصل خوف صرف اللہ کا ہونا چاہیے۔
قول 49:
"دنیا کی سب سے بڑی کامیابی ایمان کے ساتھ مرنا ہے۔"
وضاحت:
یہ قول ایمانِ کامل کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ خالد بن ولیدؓ کے نزدیک موت ایمان کے ساتھ ہو تو وہ سب سے بڑی جیت ہے۔
قول 50:
"میں نے کبھی دنیا سے محبت نہیں کی، میں نے صرف اللہ سے محبت کی۔"
وضاحت:
یہ قول ان کی روحانی زندگی کا خلاصہ ہے۔ خالد بن ولیدؓ نے دنیا کی آسائشوں کو ٹھکرا کر صرف اللہ کی رضا کو اپنا مقصد بنایا۔
خلاصہ :
خالد بن ولیدؓ کی زندگی ایمان، بہادری، اور خلوص کی روشن مثال ہے۔ ان کے اقوال ہمیں سکھاتے ہیں کہ سچا مومن وہ ہے جو خوف کے بجائے یقین، اور دنیا کے بجائے آخرت کو ترجیح دے۔ اگر آج کے مسلمان ان کے اقوال پر عمل کریں تو دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی یقینی ہے۔
اس تحریر کو شیئر کریں تاکہ ایمان کی یہ روشنی دوسروں تک بھی پہنچے۔
● کمنٹ میں لکھیں: کون سا قول آپ کے دل کو سب سے زیادہ چھو گیا؟
● مزید اسلامی شخصیات کے اقوال، کہانیاں، اور سیرت کے موتی پڑھنے کے لیے لنک پر کریں۔



0 تبصرے