حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ ( Hazrat Shekh Abdul Qadir Jilani ) کے اقوال صرف الفاظ نہیں، بلکہ وہ روشنی ہیں جو اندھیروں میں راستہ دکھاتی ہے۔ صدیوں گزرنے کے باوجود ان کے روحانی اقوال آج بھی انسان کے دل کو سکون اور ایمان کی تازگی عطا کرتے ہیں۔
مصنف کا تعارف
شیخ عبدالقادر جیلانیؒ (1077ء – 1166ء) برصغیر، عرب اور اسلامی دنیا کی عظیم روحانی و علمی شخصیت ہیں جنہیں دنیا بھر میں غوث الاعظم، محی الدین اور سلطان الاولیاء کے القاب سے یاد کیا جاتا ہے۔ آپ سلسلۂ قادریہ کے بانی ہیں، جو دنیا کے سب سے وسیع صوفی سلسلوں میں سے ایک ہے۔
آپ کی ولادت 1 رمضان المبارک 470 ہجری کو ایران کے شہر جیلان (گیلان) میں ہوئی۔ آپ کے والد کا نام سید ابو صالح موسیٰ جنگی دوست اور والدہ کا نام امّ الخیر فاطمہؒ تھا۔ آپ کا نسب حسنی اور حسینی دونوں سلاسل سے ملتا ہے، یعنی آپ کا تعلق براہِ راست حضرت امام حسنؓ اور حضرت امام حسینؓ کے خاندان سے ہے۔
ابتدائی تعلیم جیلان میں حاصل کی اور پھر علم کی تلاش میں بغداد تشریف لے گئے۔ وہاں آپ نے فقہ، حدیث، تفسیر، نحو، اور تصوف کے مختلف علوم میں مہارت حاصل کی۔ آپ کے اساتذہ میں شیخ ابو سعید المخزومیؒ اور شیخ حماد دباسؒ جیسے جلیل القدر علما شامل تھے۔
بغداد میں آپ نے علم و روحانیت کی ایسی شمع روشن کی جس کی روشنی آج بھی دنیا بھر میں پھیلی ہوئی ہے۔ آپ نے صبر، توکل، تقویٰ، اور بندگی کے ذریعے انسان کو اللہ کے قریب ہونے کا راستہ بتایا۔ آپ کے وعظ و نصیحت کے اجتماعات میں ہزاروں لوگ شامل ہوتے تھے، جن میں علما، سلاطین، اور عوام سب شریک ہوتے۔
شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کا وصال 11 ربیع الثانی 561 ہجری (1166ء) کو بغداد میں ہوا۔ آپ کا مزار مبارک بغداد میں واقع ہے، جہاں ہر سال لاکھوں عقیدت مند حاضری دیتے ہیں۔
سلسلۂ قادریہ آج دنیا کے 80 سے زائد ممالک میں موجود ہے۔ آپ کی تعلیمات نے جنوبی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ، افریقہ، اور یورپ تک روحانیت کا پیغام پہنچایا۔
حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کے مشہور اقوال
قول 1:"جو اللہ کا ہو جاتا ہے، اللہ اُس کا ہو جاتا ہے۔"
وضاحت:
یہ قول اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ جب بندہ پوری دل سے اللہ تعالیٰ کی رضا میں راضی ہو جاتا ہے، تو اللہ بھی اس کے ہر معاملے میں مددگار بن جاتا ہے۔دنیاوی مشکلات اُس کے لیے آسان ہو جاتی ہیں، کیونکہ اُس کا یقین صرف رب پر ہوتا ہے۔یہی کامل ایمان کی پہچان ہے۔انسان جب خود کو اللہ کے حوالے کر دیتا ہے، تو سکون، رزق اور برکت خود بخود اُس کی زندگی میں آتی ہے۔یہ قول ہمیں توکل اور اخلاص کا درس دیتا ہے۔
قول 2:
"دل کو پاک کرو، کیونکہ اللہ ناپاک دل میں نہیں آتا۔"
وضاحت:
یہ قول روحانیت کی بنیاد سمجھاتا ہے۔
جب تک انسان کا دل حسد، کینہ اور دنیا کی محبت سے صاف نہیں ہوتا، وہ اللہ کی قربت حاصل نہیں کر سکتا۔
پاک دل عبادت کو مضبوط کرتا ہے اور دعا کو قبولیت کے قریب لاتا ہے۔
دل کی صفائی صرف نماز یا روزے سے نہیں، بلکہ دوسروں کے ساتھ خیرخواہی سے بھی ہوتی ہے۔
اللہ کی محبت صرف ان دلوں میں بسی ہے جو نفرت سے خالی ہیں۔
قول 3:
"دنیا کو ہاتھ میں رکھو، دل میں نہیں۔"
وضاحت:
یہ قول دنیاوی محبت کے خطرے سے آگاہ کرتا ہے۔
دنیا کی چیزیں انسان کے استعمال کے لیے ہیں، لیکن ان کی محبت دل میں بٹھانا روحانی تباہی ہے۔
جو شخص دنیا کا غلام بن جائے، وہ سکون اور ایمان کھو دیتا ہے۔
صوفیاء نے ہمیشہ سادہ زندگی اپنانے کی تعلیم دی تاکہ دل اللہ کے ذکر میں لگا رہے۔
یہ قول ہمیں زہد، قناعت اور شکر کا سبق دیتا ہے۔
قول 4:
"جس نے نفس کو پہچان لیا، اُس نے رب کو پہچان لیا۔".
وضاحت:
یہ قول انسان کے اندرونی جہاد کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
نفس سب سے بڑا دشمن ہے جو بندے کو گناہ کی طرف لے جاتا ہے۔
جب انسان اپنے نفس پر قابو پا لیتا ہے، تو اُس کا دل اللہ کی معرفت سے منور ہو جاتا ہے۔
خود شناسی دراصل خدا شناسی کی پہلی سیڑھی ہے۔
یہی صوفیانہ طریقت کا اصل پیغام ہے — اپنی ذات کو قابو میں لا کر رب کی طرف بڑھنا۔
قول 5:
"اللہ کی راہ میں صبر کرو، کیونکہ صبر ایمان کی جڑ ہے۔"
وضاحت:
حضرت جیلانیؒ فرماتے ہیں کہ صبر کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہوتا۔
زندگی میں آزمائشیں، دکھ اور تاخیر ایمان کی آزمائش ہوتی ہیں۔
جو بندہ صبر کرتا ہے، اللہ اسے بلند درجہ عطا کرتا ہے۔
صبر انسان کے دل کو مضبوط اور زبان کو شکر گزار بناتا ہے۔
یہ قول ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہر مشکل کے بعد آسانی ہے۔
قول 6:
"اللہ کے بندے بنو، دنیا کے غلام نہیں۔"
وضاحت:
یہ قول انسان کو یاد دلاتا ہے کہ اصل کامیابی اللہ کی بندگی میں ہے، نہ کہ دنیا کی چمک میں۔
دنیا کی غلامی انسان کو فانی چیزوں کا اسیر بنا دیتی ہے۔
جو بندہ اللہ کے حکم پر چلتا ہے، وہی حقیقی آزادی پاتا ہے۔
دنیا کے پیچھے بھاگنے والا کبھی سکون نہیں پاتا، مگر اللہ کے بندے کا دل مطمئن رہتا ہے۔
یہ قول ہمیں اللہ کے حکم کے تابع ہونے کا درس دیتا ہے۔
.
قول 7:
"نفس کو مارو، تاکہ دل زندہ ہو جائے۔"
وضاحت:
یہ قول روحانی زندگی کی اصل کنجی ہے۔
جب انسان اپنی خواہشات اور گناہوں کو قابو میں رکھتا ہے، اُس کا دل اللہ کے نور سے روشن ہو جاتا ہے۔
نفس کی پیروی دل کو اندھیرا کرتی ہے، اور نفس کی مخالفت دل کو زندہ کرتی ہے۔
سچا بندہ وہ ہے جو اپنی خواہشات کو اللہ کی رضا کے تابع کر دے۔
یہی تزکیۂ نفس کا حقیقی مفہوم ہے۔
قول 8:
"اللہ سے ڈرو، کیونکہ وہ تمہارے دل کے حال کو جانتا ہے۔"
وضاحت:
یہ قول ہمیں ظاہری عبادت سے آگے بڑھ کر دل کی نیت درست رکھنے کی تلقین کرتا ہے۔
اللہ صرف ہمارے عمل کو نہیں بلکہ نیت اور ارادے کو بھی دیکھتا ہے۔
اگر نیت پاک ہو، تو چھوٹا عمل بھی عظیم بن جاتا ہے۔
یہ خوفِ خدا انسان کو گناہوں سے بچاتا ہے اور دل کو نرم رکھتا ہے۔
ایمان کی اصل بنیاد تقویٰ ہے۔
قول 9:
"جو علم پر عمل نہیں کرتا، وہ اندھا ہے حالانکہ آنکھیں رکھتا ہے۔"
وضاحت:
یہ قول علم کی اہمیت اور عمل کی ضرورت کو بیان کرتا ہے۔
صرف علم حاصل کرنا کافی نہیں، بلکہ اُس پر عمل کرنا ہی اصل ایمان ہے۔
بے عمل عالم اندھے شخص کی مانند ہے جو راستہ جانتا ہے مگر چلتا نہیں۔
حضرت جیلانیؒ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ علم کا مقصد اللہ کی رضا حاصل کرنا ہے۔
یہ قول علمِ نافع کی پہچان سمجھاتا ہے۔
قول 10:
"اللہ کے ذکر سے دلوں کو سکون ملتا ہے، دنیا سے نہیں۔"
وضاحت:
یہ قول قرآن کی تعلیمات کی عکاسی کرتا ہے۔
دنیا کی رونقیں عارضی سکون دیتی ہیں، مگر ذکرِ الٰہی دائمی راحت عطا کرتا ہے۔
جو دل اللہ کو یاد کرتا ہے، وہ غموں سے آزاد رہتا ہے۔
ذکر دل کا علاج اور روح کی غذا ہے۔
یہ قول ہمیں دنیا سے نہیں بلکہ اللہ سے دل لگانے کا سبق د
قول 11:
"جو اپنی زبان کو قابو میں نہیں رکھتا، وہ دل کی پاکی کھو دیتا ہے۔"
وضاحت:
یہ قول اخلاق اور ضبطِ نفس کی تعلیم دیتا ہے۔
زبان کا غلط استعمال انسان کے دل اور ایمان کو نقصان پہنچاتا ہے۔
جو بندہ زبان پر قابو رکھتا ہے، وہ دوسروں کے لیے رحمت بن جاتا ہے۔ غیبت، جھوٹ، اور طنز دل کو سخت کرتے ہیں۔
یہ قول ہمیں نرم گفتار اور صبر سکھاتا ہے۔
قول 12:
"اللہ کی محبت وہ آگ ہے جو دل کے گناہ جلا دیتی ہے۔"
وضاحت:
یہ قول عشقِ الٰہی کی طاقت کو ظاہر کرتا ہے۔
جب دل میں اللہ کی محبت پیدا ہو جاتی ہے، تو گناہوں سے نفرت خود بخود جنم لیتی ہے۔
یہ محبت دل کو پاک اور روح کو مضبوط کرتی ہے۔
سچا عاشق وہ ہے جو اللہ کے حکم کے خلاف کچھ نہیں کرتا۔
یہ قول ایمان، محبت اور توبہ کا حسین امتزاج ہے۔
قول 13:
"توبہ دراصل گناہ کو چھوڑنا نہیں، بلکہ دل کو بدل دینا ہے۔"
وضاحت:
حضرت جیلانیؒ اس قول میں سچی توبہ کی حقیقت سمجھاتے ہیں۔ صرف زبانی توبہ کافی نہیں، بلکہ دل سے گناہ کی نیت ترک کرنا ضروری ہے۔ توبہ کا مطلب ہے کہ انسان اپنے گناہ پر نادم ہو اور دوبارہ اُس کی طرف نہ لوٹے۔جب دل بدل جائے تو زندگی بدل جاتی ہے۔
یہ قول ہمیں اندرونی اصلاح اور نیت کی پاکیزگی سکھاتا ہے۔
قول 14:
"جو شخص اللہ پر بھروسہ کرتا ہے، وہ کبھی رسوا نہیں ہوتا۔"
وضاحت:
یہ قول توکل کے اعلیٰ مقام کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
اللہ پر یقین رکھنے والا انسان ہر آزمائش میں ثابت قدم رہتا ہے۔
دنیا اسے مایوس کر سکتی ہے مگر اللہ نہیں۔
ایمان والا بندہ مشکل وقت میں بھی اللہ کی مدد پر یقین رکھتا ہے۔
یہ قول ہمیں بھروسہ، صبر اور یقین کی طاقت یاد دلاتا ہے۔
قول 15:
"جو دل اللہ کے ذکر سے خالی ہو، وہ قبر سے بھی زیادہ اندھیرا ہے۔"
وضاحت:
یہ قول روحانی زندگی کی روشنی بیان کرتا ہے۔
دل اگر ذکرِ الٰہی سے خالی ہو تو اس میں سکون نہیں رہتا۔
ذکر، دل کو نور اور ایمان سے زندہ رکھتا ہے۔
اللہ کو یاد کرنے والا دل ہمیشہ نرم اور مطمئن رہتا ہے۔
یہ قول ہمیں روزانہ اللہ کے ذکر کی اہمیت یاد دلاتا ہے۔
قول 16:
"نفس کی خواہشوں پر چلنے والا بندہ، شیطان کا قیدی ہے۔"
وضاحت:
یہ قول انسان کے اندرونی دشمن — نفس — کے خلاف جہاد کا درس دیتا ہے۔
جو شخص اپنی خواہشوں کے پیچھے چلتا ہے، وہ اپنی روحانی آزادی کھو دیتا ہے۔
نفس انسان کو گناہ کی طرف لے جاتا ہے، مگر عقل اور ایمان اسے بچا سکتے ہیں۔
نفس کا قیدی دنیا میں پریشان اور آخرت میں رسوا ہوتا ہے۔
یہ قول ہمیں خود پر قابو رکھنے کا سبق دیتا ہے۔
قول 17:
"اللہ کی رضا میں راضی رہنا سب سے بڑی عبادت ہے۔"
وضاحت:
یہ قول ایمان کے اعلیٰ درجے — رضا — کو بیان کرتا ہے۔
جب بندہ ہر حال میں اللہ کی رضا قبول کرتا ہے، تو اس کے دل سے شکوہ ختم ہو جاتا ہے۔
ایسا انسان سکون اور اطمینان پاتا ہے۔
اللہ کی رضا میں راضی رہنا ہی کامل بندگی کی علامت ہے۔
یہ قول ہمیں شکر اور تسلیم کا پیغام دیتا ہے۔
قول 18:
"عبادت جسم کی نہیں، دل کی کیفیت کا نام ہے۔"
وضاحت:
حضرت جیلانیؒ فرماتے ہیں کہ صرف ظاہری عبادت کافی نہیں۔
اصل عبادت وہ ہے جو دل سے کی جائے اور نیت خالص ہو۔
جب عبادت میں اخلاص آتا ہے تو وہ مقبول بن جاتی ہے۔
ریا کاری عبادت کو ضائع کر دیتی ہے۔
یہ قول ہمیں نیت کی درستگی اور عبادت کے باطنی پہلو کی یاد دلاتا ہے۔
قول 19:
"اللہ کی راہ میں چھوٹا قدم بھی بڑا درجہ رکھتا ہے۔"
وضاحت:
یہ قول نیکی کے عمل کو معمولی نہ سمجھنے کی تلقین کرتا ہے۔
اللہ کے راستے میں اٹھایا گیا ہر قدم عظیم اجر رکھتا ہے۔
چھوٹے اعمال جیسے مسکراہٹ، مدد، یا دعا — سب ثواب میں بڑے ہیں۔
اللہ نیت دیکھتا ہے، عمل کا سائز نہیں۔
یہ قول ہمیں حوصلہ اور نیکی کی رغبت دیتا ہے۔
قول 20:
"دل کو دنیا سے خالی کرو، تاکہ اللہ اس میں جگہ لے۔"
وضاحت:
یہ قول تصوف کا خلاصہ پیش کرتا ہے۔
جب دل دنیا کی محبت سے خالی ہوتا ہے، تو اللہ کی محبت سے بھر جاتا ہے۔
دنیا کی محبت دل کو غافل اور سخت کر دیتی ہے۔
محبتِ الٰہی دل کو نور، امن اور حکمت عطا کرتی ہے۔
یہ قول ہمیں روحانی صفائی اور قربِ الٰہی کا راستہ دکھاتا ہے۔
قول 21:
"جو بندہ اپنی زبان کی حفاظت کرتا ہے، اللہ اس کے ایمان کی حفاظت کرتا ہے۔"
وضاحت:
یہ قول اخلاقی تربیت کا بہترین سبق ہے۔
زبان انسان کے دل کا آئینہ ہے، اگر یہ پاک ہو تو دل بھی پاک رہتا ہے۔
غیبت، جھوٹ، یا فضول گفتگو ایمان کو کمزور کرتی ہے۔
اللہ ان لوگوں سے راضی ہوتا ہے جو زبان سے صرف بھلائی بولتے ہیں۔
یہ قول ہمیں خاموشی اور سچائی کی اہمیت سکھاتا ہے۔
قول 22:
"دوسروں کے عیب تلاش کرنا اپنے دل کے اندھے پن کی نشانی ہے۔"
وضاحت:
یہ قول خود احتسابی کی طرف بلاتا ہے۔
جو شخص دوسروں کے عیب دیکھتا ہے، وہ اپنے عیب بھول جاتا ہے۔
انسان کو چاہیے کہ پہلے خود کو درست کرے، تبھی دنیا بہتر ہوگی۔
عیب چھپانا نیکی ہے، اور دوسروں کو نیچا دکھانا گناہ۔
یہ قول ہمیں عاجزی، تحمل اور اصلاحِ نفس کی دعوت دیتا ہے۔
قول 23:
"اللہ کے ولی وہ نہیں جو کرامت دکھائے، بلکہ وہ ہے جو اپنے نفس کو قابو میں رکھے۔"
وضاحت:
یہ قول ولایت کی حقیقت بیان کرتا ہے۔
کرامت اللہ کی عطا ہے، مگر نفس پر قابو بندے کی محنت ہے۔
جو شخص اپنی خواہشوں، غصے، اور لالچ کو کنٹرول کرتا ہے، وہی سچا ولی ہے۔
کرامت کا مقصد دکھاوا نہیں، بلکہ بندگی کا ثبوت ہے۔
یہ قول ہمیں حقیقی روحانیت سمجھاتا ہے۔
قول 24:
"دنیا چھوڑنا یہ نہیں کہ اسے ہاتھ سے نکال دو، بلکہ دل سے نکال دو۔"
وضاحت:
یہ قول زہد کی اصل تعریف پیش کرتا ہے۔
دنیا میں رہتے ہوئے بھی دل اللہ کے ساتھ رہ سکتا ہے۔
دولت، عزت یا عہدہ اگر دل میں جگہ لے لیں تو بندگی کمزور ہو جاتی ہے۔
سچا زاہد وہ ہے جو دنیا کو استعمال کرے مگر اس کا غلام نہ بنے۔
یہ قول ہمیں توازن اور قناعت کا سبق دیتا ہے۔
قول 25:
"اللہ کے خوف کے بغیر عبادت جسم کی مشقت ہے، دل کی عبادت نہیں۔"
وضاحت:
یہ قول نیت اور خشوع کی اہمیت بیان کرتا ہے۔
عبادت کا مقصد صرف ظاہری عمل نہیں بلکہ دل کا جھک جانا ہے۔
اللہ سے ڈرنے والا بندہ ہر عمل میں اخلاص رکھتا ہے۔
جب عبادت میں خوفِ خدا شامل ہو، تو وہ مقبول بن جاتی ہے۔
یہ قول ہمیں خلوص اور احساسِ بندگی سکھاتا ہے۔
قول 26:
"جو اللہ کو یاد کرتا ہے، وہ کبھی تنہا نہیں ہوتا۔"
وضاحت:
یہ قول تنہائی اور غم کے وقت کے لیے سکون بخش پیغام ہے۔
ذکرِ الٰہی انسان کے دل کو طاقت اور امید دیتا ہے۔
اللہ کے یاد کرنے والے بندے کے ساتھ فرشتے ہوتے ہیں۔
دنیا کے رشتے ٹوٹ جائیں تو بھی اللہ کا ساتھ باقی رہتا ہے۔
یہ قول ہمیں یقین اور روحانی قرب عطا کرتا ہے۔
قول 27:
"جس دل میں شکر نہیں، اُس میں ایمان مکمل نہیں۔"
وضاحت:
یہ قول ایمان کی بنیاد شکر پر رکھتا ہے۔
ناشکری انسان کو مایوسی اور حسد میں مبتلا کر دیتی ہے۔
شکر گزار دل ہمیشہ مطمئن اور خوش رہتا ہے۔
اللہ شکر کرنے والوں کو مزید نعمتیں عطا کرتا ہے۔
یہ قول ہمیں مثبت سوچ اور شکرگزاری کا پیغام دیتا ہے۔
قول 28:
"جو اللہ سے مانگتا ہے، وہ کبھی خالی ہاتھ نہیں لوٹتا۔"
وضاحت:
یہ قول دعا کی طاقت بیان کرتا ہے۔
اللہ ہر پکار سننے والا اور عطا کرنے والا ہے۔
اگر دعا فوراً قبول نہ ہو تو سمجھو اللہ بہتر وقت کا انتظار کر رہا ہے۔
دعا مومن کا سب سے قوی ہتھیار ہے۔
یہ قول امید، صبر، اور یقین کا سبق دیتا ہے۔
---قول 29:
"اللہ کی راہ میں خرچ کیا ہوا مال کبھی کم نہیں ہوتا۔"
وضاحت:
یہ قول صدقہ اور خیرات کی فضیلت بیان کرتا ہے۔
اللہ کے راستے میں دیا ہوا مال کئی گنا بڑھ کر واپس آتا ہے۔
دنیاوی نظر سے مال کم ہوتا ہے مگر برکت میں اضافہ ہوتا ہے۔
سخاوت دل کو نرم اور زندگی کو خوشحال کرتی ہے۔
یہ قول ہمیں ایثار اور سخاوت کی ترغیب دیتا ہے۔
قول 30:
"اللہ کی عبادت محبت سے کرو، مجبوری سے نہیں۔"
وضاحت:
یہ قول عبادت کے جذبے کو نکھارتا ہے۔
جو بندہ اللہ کی عبادت محبت سے کرتا ہے، وہ عبادت سے لذت پاتا ہے۔ مجبوری سے کی گئی عبادت روحانی اثر نہیں رکھتی۔
اللہ محبت سے پکارنے والے دل کو پسند کرتا ہے۔
یہ قول ہمیں عشقِ الٰہی کی طرف بلاتا ہے۔
حضرت عبدالقادر جیلانیؒ کے اقوال ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ زندگی کا اصل مقصد اللہ کی رضا اور روحانی پاکیزگی ہے۔
ان کے کلمات دل کو سکون، ایمان کو مضبوط، اور نیت کو خالص کرتے ہیں۔اگر ہم ان تعلیمات پر عمل کریں، تو دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔
اگر آپ کو حضرت جیلانیؒ کے یہ اقوال پسند آئے تو تبصرے میں ضرور بتائیں کہ کون سا قول آپ کے دل کو سب سے زیادہ متاثر کر گیا۔ اپنے خیالات شیئر کریں اور اس علم کو دوسروں تک پہنچائیں!
مزید پڑھیں:سنہرے اقوال زریں



0 تبصرے