Imam Shafi Best Islamic Quotes | Islamic Urdu Aqwal e zareen


امام شافعیؒ (پیدائش: 767ء – وفات: 820ء) اہلِ سنت کے چار عظیم ائمہ کرام میں سے ایک ہیں جنہوں نے فقہ اسلامی کی بنیادوں کو مضبوط کیا۔ آپ کا اصل نام محمد بن ادریس الشافعی تھا۔ امام شافعیؒ کو شافعی فقہی مکتبِ فکر کے بانی کے طور پر جانا جاتا ہے، جو دنیا بھر کے کئی مسلم ممالک میں رائج ہے۔

 آپؒ کا اصل نام محمد بن ادریس الشافعی ہے اور آپ 767ء میں غزہ (فلسطین) میں پیدا ہوئے۔ حیران کن حقیقت یہ ہے کہ والد کی وفات کے بعد محض دو سال کی عمر میں آپ کی والدہ نے آپ کو مکہ لے جاکر علم کے دروازے پر بٹھا دیا، اور یہی فیصلہ اسلامی تاریخ کا رخ بدلنے والا ثابت ہوا۔

امام شافعیؒ کی زندگی علم و حکمت کی جستجو میں گزری۔ انہوں نے قرآن و حدیث کے ساتھ ساتھ فقہ اور زبانِ عربی میں کمال حاصل کیا۔ ان کا حافظہ اتنا غیر معمولی تھا کہ ایک بار دیکھنے کے بعد پوری تحریر یاد کر لیتے تھے۔ آپ نے مکہ، مدینہ، بغداد اور مصر جیسے بڑے علمی مراکز سے علم حاصل کیا اور اپنے دور کے مشہور اساتذہ جیسے امام مالکؒ سے فقہ پڑھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ امام مالکؒ کی کتاب الموطأ کو امام شافعیؒ نے بچپن ہی میں زبانی یاد کر لیا تھا۔

ان کی سب سے بڑی خدمت "اصولِ فقہ" کی بنیاد رکھنا ہے۔ انہوں نے عقل اور نقل کے درمیان ایک متوازن راہ نکالی اور فقہ کو باقاعدہ اصولی شکل میں ڈھالا۔ ان کی مشہور تصنیف الرسالہ اور کتاب الام آج بھی اسلامی قانون اور فقہ میں بنیادی مراجع سمجھی جاتی ہیں۔ ان کتب میں انہوں نے قرآن، سنت، اجماع اور قیاس کو قانون سازی کے بنیادی اصول قرار دیا۔ یہ وہ نقطۂ آغاز تھا جس نے اسلامی قانون کو ایک مضبوط اور عقلی ڈھانچہ فراہم کیا۔

امام شافعیؒ کی زندگی کا ایک اور حیران کن پہلو ان کی شاعری اور فصاحت ہے۔ ان کے اشعار نہ صرف اخلاق اور کردار کی اصلاح کرتے ہیں بلکہ قاری کے دل میں عاجزی، تقویٰ اور عدل کا جذبہ بھی جگاتے ہیں۔ ان کے اقوال اور اشعار آج بھی لوگوں کو حیران اور متاثر کرتے ہیں۔

820ء میں امام شافعیؒ مصر میں وصال فرما گئے، مگر ان کی فقہ اور ان کے علمی کارنامے صدیوں بعد بھی زندہ ہیں۔ آج بھی دنیا کے لاکھوں مسلمان ان کے مکتبِ فکر پر عمل کرتے ہیں، اور ان کی فقہ مشرق و مغرب میں عدل، علم اور ہدایت کی روشنی بانٹ رہی ہے۔

Imam Shafi Islamic Urdu Aqwal e zareen


 امام شافعیؒ کے اقوال 

● قول: "علم بغیر عمل درخت کے اُس پھل کی مانند ہے جو کبھی پیدا نہ ہو۔"

وضاحت: یہ قول ہمیں یاد دلاتا ہے کہ محض علم حاصل کرنا کافی نہیں۔ جس طرح درخت کی اصل اہمیت اس کے پھل سے ہے، ویسے ہی علم کی اصل قیمت عمل سے ظاہر ہوتی ہے۔ اگر انسان علم تو رکھتا ہو مگر اس پر عمل نہ کرے تو اس کا فائدہ ختم ہو جاتا ہے۔ اصل حکمت یہی ہے کہ انسان اپنے علم کو عمل میں لائے۔



● قول: "صبر ہی راحت کی کنجی ہے۔"

وضاحت: زندگی آزمائشوں اور مشکلات سے بھری ہے مگر صبر کرنے سے انسان کامیاب ہوتا ہے۔ مشکل وقت میں استقامت دکھانا آخرکار آسانی کا سبب بنتا ہے۔ یہ قول ہمیں سکھاتا ہے کہ جلد بازی یا ناامیدی ہمیں مزید نقصان پہنچاتی ہے۔ صبر انسان کو سکون، حکمت اور بہتر انجام عطا کرتا ہے۔



● قول: "جو اللہ سے ڈرتا ہے اُس کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا، اور جو لوگوں سے ڈرتا ہے اللہ اُسے اُن کے حوالے کر دیتا ہے۔"

وضاحت: یہ حکمت بھرا قول ہمیں اللہ پر بھروسہ کرنے کی طرف بلاتا ہے۔ اگر انسان صرف اللہ سے ڈرے تو کوئی مخلوق اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ لیکن اگر وہ لوگوں سے زیادہ ڈرنے لگے تو وہ اللہ کی حفاظت سے محروم ہو جاتا ہے۔ اصل طاقت اللہ کے خوف اور اس پر اعتماد میں ہے۔



● قول: "جو اپنی زبان کی حفاظت نہیں کرتا وہ بغیر جانے گناہوں میں گر جاتا ہے۔"

وضاحت: زبان انسان کے کردار کا آئینہ ہے۔ اگر انسان اپنی باتوں میں احتیاط نہ کرے تو جھوٹ، غیبت اور دوسروں کو تکلیف دینے جیسے گناہ سرزد ہو جاتے ہیں۔ یہ قول ہمیں اپنی گفتگو میں نرمی اور حکمت اپنانے کی نصیحت کرتا ہے۔ بعض اوقات خاموشی بولنے سے زیادہ محفوظ ہوتی ہے۔



● قول: "دنیا ایک پل ہے، اسے عبور کرو مگر اس پر محل مت بناؤ۔"

وضاحت: یہ خوبصورت قول دنیا کی حقیقت واضح کرتا ہے۔ دنیا ایک عارضی گزرگاہ ہے، یہاں ہمیشہ کے لیے رہنے کی جگہ نہیں۔ اصل زندگی آخرت کی ہے، اس لیے ہمیں اپنا وقت اس کی تیاری میں گزارنا چاہیے۔ دنیاوی حرص و لالچ میں کھو جانے کے بجائے آخرت کی کامیابی پر توجہ دینا اصل دانش ہے۔



● قول: "دل کی زندگی ذکرِ الٰہی میں ہے۔"

وضاحت: یہ قول ہمیں سمجھاتا ہے کہ جس دل میں اللہ کا ذکر نہ ہو وہ مردہ دل کی مانند ہے۔ اللہ کا ذکر سکون اور نور بخشتا ہے۔ انسان جتنا زیادہ ذکر میں مصروف رہتا ہے اتنا ہی دل کو سکون اور قوت ملتی ہے۔



● قول: "گناہ دل کو اندھا کر دیتے ہیں۔"

وضاحت: یہ قول ہمیں خبردار کرتا ہے کہ بار بار گناہ کرنے سے انسان کی عقل اور بصیرت ختم ہو جاتی ہے۔ دل سیاہ ہو جاتا ہے اور حق و باطل میں فرق نظر نہیں آتا۔ اس لیے گناہوں سے بچنا روحانی زندگی کے لیے ضروری ہے۔



● قول: "غرور علم کو ضائع کر دیتا ہے۔"

وضاحت: اگر انسان کے پاس علم ہو مگر وہ اس پر غرور کرے تو اس کا علم بیکار ہو جاتا ہے۔ عاجزی علم کی اصل زینت ہے۔ جتنا زیادہ علم بڑھے اتنی ہی انسان میں انکساری ہونی چاہیے۔



● قول: "توبہ کرنے والا اللہ کا محبوب ہے۔"

وضاحت: یہ قول ہمیں امید دیتا ہے کہ چاہے انسان کتنا ہی خطاکار کیوں نہ ہو، اگر وہ سچے دل سے توبہ کرے تو اللہ اسے معاف کر دیتا ہے۔ توبہ انسان کو گناہوں کی تاریکی سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتی ہے۔



● قول: "رزق کی کنجی تقویٰ میں ہے۔"

وضاحت: جب انسان اللہ سے ڈرتا ہے اور حلال و حرام کی پرواہ کرتا ہے تو اللہ اس کے رزق میں برکت ڈال دیتا ہے۔ یہ قول ہمیں بتاتا ہے کہ حلال کمائی تھوڑی بھی ہو تو بہتر ہے بہ نسبت حرام کی کثرت کے۔



● قول: "دل کی سختی گناہوں کا نتیجہ ہے۔"

وضاحت: جب انسان زیادہ گناہ کرتا ہے تو اس کے دل سے نرمی اور رحمت ختم ہو جاتی ہے۔ یہ قول ہمیں اس حقیقت کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ گناہوں سے توبہ اور نیک اعمال دل کو دوبارہ نرم اور پاک کر دیتے ہیں۔



● قول: "عقل مند وہ ہے جو اپنے نفس کو قابو میں رکھے۔"

وضاحت: یہ قول ہمیں نصیحت کرتا ہے کہ اصل عقلمندی خواہشات کے پیچھے چلنے میں نہیں بلکہ ان پر قابو پانے میں ہے۔ نفس پر قابو پانے والا ہی آخرت میں کامیاب ہوتا ہے۔



● قول: "مومن کا اخلاق اُس کے ایمان کا آئینہ ہے۔"

وضاحت: اچھے اخلاق ایمان کی علامت ہیں۔ بدتمیزی، جھوٹ اور سخت رویہ ایمان کی کمزوری کی نشانی ہے۔ یہ قول ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ایمان کے کمال کے لیے اچھے اخلاق ضروری ہیں۔



● قول: "وقت کی قیمت سونے سے بھی زیادہ ہے۔"

وضاحت: یہ قول ہمیں وقت کی اہمیت سمجھاتا ہے۔ وقت ایک ایسی دولت ہے جو ضائع ہو جائے تو واپس نہیں آتی۔ جو لوگ وقت کو صحیح استعمال کرتے ہیں وہی کامیاب ہوتے ہیں۔



● قول: "نیت اعمال کی بنیاد ہے۔"

وضاحت: ہر عمل کی قبولیت نیت پر منحصر ہے۔ اگر نیت اللہ کے لیے ہو تو چھوٹا عمل بھی بڑا بن جاتا ہے۔ اور اگر نیت دنیا کے لیے ہو تو بڑا عمل بھی بےکار ہو جاتا ہے۔



● قول: "علم دین کا بغیر دنیا کی محبت انسان کو تباہی کی طرف لے جاتی ہے۔"

وضاحت: اگر کوئی شخص دین کا علم حاصل کرے لیکن اس علم کو صرف دنیاوی فائدے، شہرت یا دولت کے لیے استعمال کرے تو یہ علم اُس کے لیے فائدہ نہیں بلکہ نقصان بن جاتا ہے۔ اصل علم وہ ہے جو انسان کے دل کو اللہ کے قریب کرے اور اس کے عمل کو بہتر بنائے۔ اس قول میں ہمیں خبردار کیا گیا ہے کہ علم کو صرف رضائے الٰہی کے لیے استعمال کریں، نہ کہ ذاتی خواہشات کے لیے۔



● قول: "انسان کا سب سے بڑا دشمن اُس کا نفس ہے۔"

وضاحت: انسان کے پاس باہر کے دشمن تو ہوتے ہی ہیں، لیکن سب سے بڑا دشمن اس کا اپنا نفس ہے جو اسے برائی اور گناہ کی طرف کھینچتا ہے۔ اگر انسان اپنے نفس پر قابو پالے تو وہ دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب ہو سکتا ہے۔ اس قول سے یہ سبق ملتا ہے کہ اپنے نفس کی اصلاح سب سے بڑی جہاد ہے۔



● قول: "جو دل اللہ کے ذکر سے خالی ہو وہ قبر کی مانند ہے۔"

وضاحت: اللہ کا ذکر دل کے لیے زندگی کا ذریعہ ہے۔ جس دل میں ذکر نہ ہو، وہ اندھیروں اور غفلت میں ڈوبا رہتا ہے۔ یہ قول ہمیں اس حقیقت سے آگاہ کرتا ہے کہ ذکرِ الٰہی انسان کو سکون، طاقت اور ایمان کی روشنی عطا کرتا ہے۔ ذکر سے غفلت کرنے والا دل بے سکون اور کمزور ہو جاتا ہے۔



● قول: "جس نے اپنی زبان کو قابو میں کر لیا، اُس نے اپنے دین کو محفوظ کر لیا۔"

وضاحت: زبان انسان کے اعمال میں سب سے زیادہ اثر ڈالتی ہے۔ جھوٹ، غیبت، بہتان اور سخت کلامی دین کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ لیکن اگر انسان اپنی زبان کو قابو میں رکھے، تو وہ نہ صرف دوسروں کے لیے باعثِ امن ہوتا ہے بلکہ اپنے ایمان کو بھی محفوظ کر لیتا ہے۔ یہ قول ہمیں اپنی گفتگو پر ہمیشہ غور کرنے کی نصیحت کرتا ہے۔



● قول: "دنیا کی محبت تمام خطاؤں کی جڑ ہے۔"

وضاحت: جب انسان دنیاوی مال، شہرت اور طاقت کی محبت میں ڈوب جاتا ہے تو وہ اکثر حرام اور گناہوں کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔ دنیا کی محبت دل کو سخت اور آخرت سے غافل کر دیتی ہے۔ یہ قول ہمیں خبردار کرتا ہے کہ دنیا کا اصل مقصد آزمائش ہے، اور ہمیں آخرت کی تیاری کرنی چاہیے نہ کہ دنیاوی لذتوں میں کھو جانا۔



● قول: "عاجزی ایمان کا زیور ہے۔"

وضاحت: انسان جتنا عاجزی اختیار کرتا ہے، اتنا ہی اللہ کے قریب ہوتا ہے۔ غرور اور تکبر انسان کو ہلاکت کی طرف لے جاتا ہے، جبکہ عاجزی سے دل نرم اور رحمتوں کے قابل بنتا ہے۔ یہ قول ہمیں سکھاتا ہے کہ بڑے سے بڑا علم یا دولت رکھنے کے باوجود عاجزی انسان کو عزت عطا کرتی ہے۔



● قول: "ہر عمل نیت کے مطابق ہے۔"

وضاحت: یہ قول ہمیں اس بنیادی حقیقت کی طرف لے جاتا ہے کہ انسان کا عمل اُس وقت ہی قابلِ قبول ہے جب اس کی نیت صاف اور خالص ہو۔ اگر کوئی نیک عمل صرف دکھاوے یا دنیاوی فائدے کے لیے کیا جائے تو اس کا کوئی اجر نہیں۔ لیکن اگر چھوٹا سا عمل بھی خالص نیت سے ہو تو وہ عظیم عبادت بن جاتا ہے۔



● قول: "ایمان نصف صبر اور نصف شکر کا نام ہے۔"

وضاحت: یہ قول ایمان کی بنیاد کو واضح کرتا ہے۔ ایمان والا شخص مصیبت میں صبر کرتا ہے اور خوشحالی میں شکر۔ یہی دو صفات ایمان کو مکمل کرتی ہیں۔ اگر انسان خوشی میں شکر نہ کرے یا دکھ میں صبر نہ کرے تو اس کا ایمان کمزور ہو جاتا ہے۔



● قول: "دل کی روشنی حلال رزق میں ہے۔"

وضاحت: جب انسان حلال کمائی کرتا ہے تو اس کے دل میں نور اور برکت آتی ہے۔ حرام کمائی انسان کے دل کو سیاہ کر دیتی ہے اور دعا بھی قبول نہیں ہوتی۔ یہ قول ہمیں یاد دلاتا ہے کہ حلال کمائی چاہے کم ہو، مگر اس میں سکون اور کامیابی ہے۔



● قول: "اللہ کی رضا میں انسان کی کامیابی ہے۔"

وضاحت: یہ قول بتاتا ہے کہ اصل کامیابی دنیاوی مال، جائیداد یا شہرت میں نہیں بلکہ اللہ کی رضا میں ہے۔ اگر کوئی شخص اللہ کو راضی کر لے تو وہ دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ انسان کو چاہیے کہ ہر کام میں اللہ کی رضا تلاش کرے کیونکہ وہی حقیقی کامیابی ہے۔



● قول: "علم عمل کے بغیر بے فائدہ ہے اور عمل علم کے بغیر بے سمت۔"

وضاحت: یہ قول ہمیں سکھاتا ہے کہ علم اور عمل دونوں ایک دوسرے کے محتاج ہیں۔ علم ہمیں راستہ دکھاتا ہے اور عمل اس راستے پر چلنے کی طاقت دیتا ہے۔ اگر کوئی شخص صرف جانتا ہو مگر عمل نہ کرے تو وہ اندھیرے میں ہے، اور اگر عمل کرے مگر علم کے بغیر تو وہ بھٹک جائے گا۔



● قول: "توبہ بندے کو اللہ کے قریب کر دیتی ہے۔"

وضاحت: چاہے انسان کتنے ہی گناہ کیوں نہ کر لے، جب وہ سچی توبہ کرتا ہے تو اللہ کی رحمت اس کے گناہوں کو معاف کر دیتی ہے۔ یہ قول ہمیں اللہ کی بے پایاں رحمت کی امید دلاتا ہے کہ مایوس نہ ہوں، بلکہ ہر وقت توبہ کے دروازے کو کھلا سمجھیں۔



● قول: "نماز مومن کے دل کا سکون ہے۔"

وضاحت: نماز انسان کو اللہ سے جوڑتی ہے اور دل کو سکون عطا کرتی ہے۔ یہ قول بتاتا ہے کہ مشکلات اور غم کے وقت نماز سب سے بڑی پناہ ہے۔ جو دل نماز سے غافل ہے وہ ہمیشہ بے چین اور پریشان رہتا ہے۔



● قول: "اخلاق ایمان کا سب سے بڑا حصہ ہیں۔"

وضاحت: ایمان صرف عبادت کا نام نہیں بلکہ اچھے اخلاق کا بھی تقاضا کرتا ہے۔ جھوٹ، بدسلوکی اور ظلم ایمان کو کمزور کر دیتے ہیں۔ یہ قول ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اچھے اخلاق کے بغیر ایمان ادھورا ہے۔



● قول: "دولت انسان کی نہیں بلکہ انسان دولت کا محتاج ہے۔"

وضاحت: یہ قول ہمیں سمجھاتا ہے کہ اصل قدر و قیمت دولت میں نہیں بلکہ انسان کے کردار میں ہے۔ دولت آتی جاتی رہتی ہے، لیکن نیک انسان ہمیشہ عزت مند رہتا ہے۔ دنیاوی مال کا فخر عارضی ہے مگر انسانیت دائمی دولت ہے۔



● قول: "جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے وہ کبھی نقصان میں نہیں رہتا۔"

وضاحت: یہ قول توکل کی حقیقت واضح کرتا ہے۔ جب بندہ اللہ پر بھروسہ کرتا ہے تو ہر مشکل آسان ہو جاتی ہے۔ اگرچہ دنیاوی اسباب کمزور لگیں، مگر اللہ کی مدد ہمیشہ مضبوط سہارا ہے۔



● قول: "غصہ ایمان کو برباد کرتا ہے۔"

وضاحت: غصہ انسان کے فیصلے کو بگاڑ دیتا ہے اور دوسروں کے دل توڑ دیتا ہے۔ یہ قول ہمیں نصیحت کرتا ہے کہ غصہ ضبط کرنا سب سے بڑی بہادری ہے۔ جو شخص اپنے غصے پر قابو پاتا ہے وہ دراصل اپنے ایمان کو محفوظ رکھتا ہے۔



● قول: "اللہ کی یاد دل کو زندہ کرتی ہے۔"

وضاحت: دل جب دنیا میں الجھ جاتا ہے تو بے سکونی میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اللہ کا ذکر دل کو تازگی اور سکون عطا کرتا ہے۔ یہ قول ہمیں ذکر کی طاقت اور اہمیت پر زور دیتا ہے۔



● قول: "دنیا کی زندگی ایک دھوکہ ہے۔"

وضاحت: یہ قول ہمیں حقیقت سمجھاتا ہے کہ دنیا کی لذتیں وقتی ہیں۔ اگر انسان ان میں کھو جائے تو آخرت بھول جاتا ہے۔ دنیا کو کھیل تماشہ سمجھ کر آخرت کی تیاری کرنی چاہیے۔



● قول: "جو دل قرآن سے خالی ہے وہ اجڑا ہوا گھر ہے۔"

وضاحت: قرآن دل کو روشنی دیتا ہے اور ایمان کو تازہ کرتا ہے۔ جو انسان قرآن سے غافل ہو جائے وہ تاریکی میں رہتا ہے۔ یہ قول ہمیں قرآن کی تلاوت اور اس پر عمل کی دعوت دیتا ہے۔



● قول: "قناعت سب سے بڑی دولت ہے۔"

وضاحت: یہ قول بتاتا ہے کہ خوشی زیادہ مال سے نہیں بلکہ دل کی قناعت سے حاصل ہوتی ہے۔ جو دل مطمئن ہے وہ حقیقی دولت مند ہے۔ حرص و لالچ انسان کو کبھی خوش نہیں ہونے دیتے۔



● قول: "حسد ایمان کو کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے۔"

وضاحت: حسد دل کو سیاہ اور ایمان کو کمزور کر دیتا ہے۔ یہ قول ہمیں نصیحت کرتا ہے کہ دوسروں کی نعمتوں پر حسد کرنے کے بجائے اللہ سے اپنے لیے خیر مانگیں۔ حسد سے انسان کی اپنی عبادت اور سکون ضائع ہو جاتا ہے۔



● قول: "دل کی سلامتی دوسروں کے حق ادا کرنے میں ہے۔"

وضاحت: یہ قول ہمیں سمجھاتا ہے کہ انسان کا دل اس وقت مطمئن ہوتا ہے جب وہ دوسروں کے ساتھ انصاف کرے اور ان کے حقوق ادا کرے۔ ظلم اور حق تلفی دل کو بوجھل کر دیتے ہیں اور زندگی بے سکون ہو جاتی ہے۔



● قول: "دوستی اللہ کے لیے ہو تو ہمیشہ باقی رہتی ہے۔"

وضاحت: یہ قول بتاتا ہے کہ وہ دوستی جو صرف دنیاوی فائدے پر ہو، ختم ہو جاتی ہے۔ لیکن اگر دوستی اللہ کی رضا کے لیے ہو تو وہ دنیا اور آخرت دونوں میں قائم رہتی ہے۔ ایسی دوستی محبت، خیر اور دعا کا ذریعہ بنتی ہے۔



● قول: "انسان کا اصل حسن اس کا کردار ہے، نہ کہ اس کا لباس۔"

وضاحت: یہ قول ہمیں یاد دلاتا ہے کہ لباس وقتی ہے، لیکن انسان کا کردار ہمیشہ دلوں پر اثر چھوڑتا ہے۔ اچھے اخلاق اور کردار سے انسان عزت پاتا ہے، جبکہ ظاہری زیبائش وقتی ہے۔



● قول: "نفس کو قابو میں رکھنا سب سے بڑی بہادری ہے۔"

وضاحت: انسان دوسروں کو شکست دینا بہادری سمجھتا ہے، لیکن اصل بہادری اپنے نفس کو قابو میں کرنے میں ہے۔ یہ قول ہمیں نصیحت کرتا ہے کہ خواہشات کو قابو میں رکھ کر ہی انسان حقیقی کامیاب ہو سکتا ہے۔



● قول: "شکرگزاری نعمتوں کو بڑھا دیتی ہے۔"

وضاحت: جب انسان اللہ کی دی ہوئی نعمتوں پر شکر ادا کرتا ہے تو اللہ مزید نعمتیں عطا کرتا ہے۔ ناشکری انسان کو محرومی اور پریشانی کی طرف لے جاتی ہے۔ یہ قول ہمیں ہمیشہ شکر گزار رہنے کی نصیحت کرتا ہے۔



● قول: "انسان کی عزت اس کے اخلاق میں ہے نہ کہ اس کے نسب میں۔"

وضاحت: یہ قول بتاتا ہے کہ اصل عزت خون یا خاندان میں نہیں بلکہ اچھے اخلاق میں ہے۔ انسان چاہے کسی بھی طبقے سے ہو، اگر اس کے اخلاق اچھے ہیں تو وہ عزت والا ہے۔



● قول: "ایمان کا ذائقہ صبر اور شکر میں ہے۔"

وضاحت: یہ قول ایمان کی حقیقت کو واضح کرتا ہے۔ مومن خوشی میں شکر کرتا ہے اور دکھ میں صبر، یہی ایمان کی مٹھاس ہے۔ یہ دونوں صفات ایمان کو مضبوط کرتی ہیں۔



● قول: "خاموشی حکمت کی علامت ہے۔"

وضاحت: یہ قول ہمیں سکھاتا ہے کہ خاموشی بعض اوقات بولنے سے زیادہ بہتر ہوتی ہے۔ زیادہ بولنے سے انسان غلطی کر سکتا ہے، لیکن خاموش رہنے سے وہ محفوظ رہتا ہے۔ خاموشی علم اور سکون کی علامت ہے۔



● قول: "دل کی نرمی اللہ کی رحمت کو جذب کرتی ہے۔"

وضاحت: یہ قول ہمیں سمجھاتا ہے کہ جب انسان کا دل نرم ہو تو وہ دوسروں کے دکھ درد کو محسوس کرتا ہے۔ نرم دل والے انسان کی دعا جلد قبول ہوتی ہے اور اللہ کی رحمت اُس پر نازل ہوتی ہے۔ سخت دل والا نہ دوسروں کے کام آتا ہے اور نہ ہی اللہ کے قریب ہو پاتا ہے۔ اس لیے دل کی نرمی ایمان کی ایک بڑی نشانی ہے۔



● قول: "غرور انسان کو تباہ کر دیتا ہے جیسے آگ کپڑے کو جلا دیتی ہے۔"

وضاحت: غرور انسان کو اندھا کر دیتا ہے، اسے اپنی برتری کے بھرم میں مبتلا کر دیتا ہے۔ یہ قول ہمیں خبردار کرتا ہے کہ تکبر سب سے بڑا گناہ ہے جس نے شیطان کو بھی برباد کیا۔ عاجزی انسان کو عزت دیتی ہے جبکہ غرور اسے رسوا کر دیتا ہے۔



● قول: "بندے کی سب سے بڑی دولت نیک اولاد ہے۔"

وضاحت: دنیاوی مال و دولت ختم ہو جاتی ہے لیکن نیک اولاد مرنے کے بعد بھی اپنے والدین کے لیے دعا اور نیک اعمال کا ذریعہ بنتی ہے۔ یہ قول ہمیں سکھاتا ہے کہ حقیقی سرمایہ نیک اولاد ہے، جو والدین کے لیے دنیا اور آخرت دونوں میں راحت کا سبب ہے۔



● قول: "انصاف امن کی بنیاد ہے۔"

وضاحت: جب معاشرے میں انصاف قائم ہو تو لوگ سکون اور امن میں رہتے ہیں۔ ظلم اور ناانصافی سے دلوں میں نفرت اور فساد پھیلتا ہے۔ یہ قول ہمیں بتاتا ہے کہ عدل قائم کرنا سب سے بڑی نیکی ہے، کیونکہ انصاف ہی معاشرے کو مضبوط کرتا ہے۔



● قول: "علم انسان کو بلند کرتا ہے اور جہالت اسے ذلیل کرتی ہے۔"

وضاحت: یہ قول واضح کرتا ہے کہ علم انسان کے مقام اور مرتبے کو بڑھاتا ہے۔ جاہل شخص خواہ کتنا ہی مالدار کیوں نہ ہو، اس کی عزت نہیں ہوتی۔ علم انسان کو شعور، حکمت اور پہچان عطا کرتا ہے۔ اس لیے علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر لازم قرار دیا گیا ہے۔


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے