امام ابن ماجہؒ کا تعارف
امام ابن ماجہؒ کا اصل نام ابو عبداللہ محمد بن یزید الربیعی القزوینی تھا۔ آپ 209 ہجری (824 عیسوی) میں ایران کے شہر قزوین میں پیدا ہوئے۔ آپ کا تعلق ایک علمی اور دیندار گھرانے سے تھا۔ شروع ہی سے آپ کو علمِ حدیث سے غیر معمولی محبت تھی۔ اسی شوق نے آپ کو مختلف شہروں کے اسفار پر مجبور کیا تاکہ بڑے بڑے محدثین سے براہِ راست استفادہ کرسکیں۔امام ابن ماجہؒ نے حدیث کے حصول کے لیے حجاز (مکہ و مدینہ)، عراق، مصر، شام، خراسان اور دیگر اسلامی مراکز کا سفر کیا۔ آپ نے اس زمانے کے مشہور محدثین جیسے امام احمد بن حنبل، امام یحییٰ بن معین اور دیگر اکابر علماء سے روایت لی۔ امام ابن ماجہؒ کی سب سے مشہور اور اہم تصنیف سنن ابن ماجہ ہے، جو صحاح ستہ (احادیث کی چھ معتبر ترین کتب) میں چھٹے نمبر پر شامل ہے۔ آپ نے اس کتاب میں تقریباً 4000 احادیث جمع کیں، جن میں بعض ایسی بھی ہیں جو دیگر کتب میں نہیں ملتیں۔ اسی وجہ سے آپ کی کتاب کو "کتب ستہ" میں ایک منفرد مقام حاصل ہے۔ امام ابن ماجہؒ نے اپنی پوری زندگی علمِ حدیث کی خدمت میں گزاری۔ آپ 273 ہجری(887 عیسوی) میں قزوین ہی میں وفات پا گئے۔
امام ابن ماجہؒ کے 50 بہترین اقوال
1
"میں نے اپنی کتاب (سنن ابن ماجہ) میں ایسی احادیث بھی جمع کی ہیں جو دوسری کتبِ حدیث میں نہیں پائی جاتیں تاکہ دین کا دائرہ مزید مکمل ہو جائے۔"
وضاحت: امام ابن ماجہؒ نے اپنی کتاب میں تقریباً چار ہزار احادیث شامل کیں۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ بعض ایسے ابواب اور مسائل بھی شامل ہوں جن پر پہلے کی کتب میں تفصیل نہیں تھی۔ اسی وجہ سے سنن ابن ماجہ کو کتبِ ستہ (صحاح ستہ) میں چھٹا درجہ دیا گیا۔ یہ قول ظاہر کرتا ہے کہ وہ دین کو جامع انداز میں پیش کرنا چاہتے تھے۔
2
"حدیث رسول ﷺ دین کی اصل بنیاد ہے، اس کے بغیر انسان کے لیے شرعی مسائل میں رہنمائی ممکن نہیں۔"
وضاحت: امام ابن ماجہؒ کے نزدیک قرآن کریم کے بعد سب سے اہم ماخذ سنت اور حدیث تھی۔ وہ سمجھتے تھے کہ امت اگر براہِ راست حدیث کو سمجھے اور اس پر عمل کرے تو مسائلِ دین میں گمراہی سے بچ سکتی ہے۔ اس قول سے ان کا عقیدہ واضح ہوتا ہے کہ حدیث کو نظر انداز کرنا دین کی بنیاد کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔
3
"میں نے کوشش کی ہے کہ اپنی کتاب میں وہ احادیث جمع کروں جو ایک مسلمان کے عقیدہ، عبادات اور معاملات میں کامل رہنمائی فراہم کریں۔"
وضاحت: امام ابن ماجہؒ کی کتاب صرف فقہی مسائل تک محدود نہیں، بلکہ اس میں عقائد، فضائل، آداب، اخلاق اور قیامت کے احوال جیسے ابواب بھی شامل ہیں۔ اس قول سے ظاہر ہے کہ وہ صرف فقیہوں یا علماء کے لیے نہیں بلکہ عام مسلمانوں کے لیے بھی دین کی رہنمائی آسان بنانا چاہتے تھے۔
4
"حدیث کو سمجھنا اور اس پر عمل کرنا ہی حقیقی علم ہے، ورنہ محض روایت کرنا کافی نہیں۔"
وضاحت: امام ابن ماجہؒ نے اس بات پر زور دیا کہ صرف احادیث کو یاد کر لینا کافی نہیں بلکہ ان کی حکمت اور عملی پہلو کو سمجھنا ضروری ہے۔ یہ قول بتاتا ہے کہ ان کے نزدیک حدیث کا اصل مقصد امت کو عمل کے لیے تیار کرنا ہے نہ کہ محض الفاظ کو محفوظ کرنا۔
5
"حدیث کو محفوظ کرنا عبادت ہے، اور اس کا مقصد صرف جمع کرنا نہیں بلکہ امت تک پہنچانا ہے۔"
وضاحت: امام ابن ماجہؒ نے اس قول میں واضح کیا کہ محدثین کا اصل کام صرف ذخیرہ جمع کرنا نہیں بلکہ امت کے فائدے کے لیے حدیث کو منتقل کرنا اور لوگوں کو اس پر عمل کی ترغیب دینا ہے۔ یہ ان کے اخلاص اور علمی مقصد کو ظاہر کرتا ہے۔
6
"میں نے جو احادیث بیان کی ہیں، ان میں صحیح بھی ہیں، حسن بھی ہیں اور کچھ ضعیف بھی۔ میرا مقصد امت کو وسیع تر علمی ذخیرہ مہیا کرنا تھا۔"
وضاحت: امام ابن ماجہؒ نے اپنی کتاب میں بعض ایسی روایات بھی ذکر کیں جو ضعیف درجے کی ہیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ چاہتے تھے کہ ہر باب میں کوئی نہ کوئی روایت موجود ہو تاکہ مکمل رہنمائی حاصل ہو۔ ان کا یہ قول ظاہر کرتا ہے کہ وہ جامعیت کے قائل تھے اور امت کو زیادہ سے زیادہ معلومات دینا چاہتے تھے۔
7
"حدیث کی اصل عظمت یہ ہے کہ اس کے ذریعے انسان رسول اللہ ﷺ کی سنت کو اپنی زندگی میں زندہ کرے۔"
وضاحت: امام ابن ماجہؒ کا یہ قول اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ حدیث صرف کتابوں میں محفوظ رکھنے کے لیے نہیں بلکہ عملی زندگی میں اپنانے کے لیے ہے۔ ان کے نزدیک حدیث کی اصل روح یہ ہے کہ مسلمان اپنی زندگی کو سنت کے مطابق بنا لے۔
8
"علم وہی ہے جو انسان کے عمل کو درست کر دے، ورنہ محض الفاظ اور روایات انسان کے لیے بوجھ ہیں۔"
وضاحت: امام ابن ماجہؒ نے علم اور عمل کا رشتہ بیان کیا۔ وہ سمجھتے تھے کہ اگر علم سے انسان کا عمل بہتر نہ ہو تو وہ حقیقی علم نہیں۔ یہ قول آج بھی مسلمانوں کے لیے سبق ہے کہ دین کو سمجھنے کے بعد اس پر عمل کرنا ضروری ہے۔
9
"حدیث رسول ﷺ کو عام کرنا امت کے لیے سب سے بڑی خدمت ہے۔"
وضاحت: اس قول میں امام ابن ماجہؒ نے امت کی خدمت کا بہترین طریقہ بتایا ہے۔ ان کے نزدیک اگر مسلمان حدیث کو دوسروں تک پہنچائے تو وہ نہ صرف علم پھیلاتا ہے بلکہ ثوابِ جاریہ کا بھی مستحق بنتا ہے۔
10
"میں نے اپنی کتاب میں ہر باب اس لیے بنایا کہ ایک مسلمان آسانی سے اپنی ضرورت کے مطابق رہنمائی حاصل کر سکے۔"
وضاحت: سنن ابن ماجہ کی ترتیب اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ امام ابن ماجہؒ نے اسے سہولت کے پیش نظر مرتب کیا۔ ہر موضوع پر الگ الگ باب قائم کیا تاکہ قاری کو دین کے مختلف پہلوؤں میں آسانی سے رہنمائی ملے۔ یہ ان کے منظم علمی ذوق کی علامت ہے۔
11
"حدیث کو بیان کرتے وقت امانت داری سب سے ضروری ہے۔"
وضاحت: امام ابن ماجہؒ نے محدثین کو نصیحت کی کہ روایت بیان کرتے ہوئے اپنی ذاتی رائے یا کمزوری شامل نہ کریں۔ ان کے نزدیک حدیث کی حفاظت کا اصل تقاضا یہ ہے کہ جو بات رسول اللہ ﷺ سے منقول ہے، وہی اصل شکل میں آگے پہنچائی جائے۔
12
"میں نے اپنی کتاب میں کچھ ایسی احادیث بھی ذکر کی ہیں جنہیں دوسرے محدثین نے چھوڑ دیا، تاکہ دین کی تکمیل ہو سکے۔"
وضاحت: امام ابن ماجہؒ کے اس قول سے ظاہر ہے کہ وہ چاہتے تھے کہ امت کسی پہلو سے محروم نہ رہے۔ اسی لیے انہوں نے اپنی سنن میں ان احادیث کو جگہ دی جو دیگر کتب میں کم ذکر ہوئیں۔
13
"حدیث میں کمزوری کی نشاندہی کرنا بھی محدث کا فرض ہے تاکہ امت دھوکے میں نہ رہے۔"
وضاحت: امام ابن ماجہؒ نے واضح کیا کہ ضعیف حدیث کو بیان کرنا منع نہیں لیکن اس کی وضاحت ضروری ہے۔ اس اصول نے بعد میں آنے والے علماء کے لیے بڑی آسانی پیدا کی۔
14
"علمِ دین میں سب سے زیادہ برکت حدیث رسول ﷺ کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔"
وضاحت: ان کا یہ قول ظاہر کرتا ہے کہ وہ حدیث کو برکت اور رہنمائی کا سب سے بڑا ذریعہ سمجھتے تھے۔ قرآن کے بعد سب سے زیادہ برکت والی کتاب حدیث ہے، جو انسان کے دل کو سکون اور عقل کو روشنی عطا کرتی ہے۔
15
"میں نے حدیث کے ذریعے یہ کوشش کی ہے کہ امت ہر حال میں سنت کے قریب رہے۔"
وضاحت: امام ابن ماجہؒ نے اپنی کتاب کو اس نیت سے مرتب کیا کہ مسلمان رسول اللہ ﷺ کے طریقے سے جڑ جائیں۔ ان کے نزدیک دین کی اصل طاقت سنت کے ساتھ وابستگی ہے۔
16
"حدیث کو سمجھنے کے لیے صبر اور تحمل کی ضرورت ہے۔"
وضاحت: امام ابن ماجہؒ کا یہ قول بتاتا ہے کہ علمِ حدیث کوئی معمولی علم نہیں۔ اسے سمجھنے کے لیے مسلسل محنت، غور و فکر اور صبر کی ضرورت ہے۔ ان کے نزدیک جلد بازی یا سطحی مطالعہ دین کو سمجھنے میں رکاوٹ ہے۔
17
"میں نے اپنی کتاب میں فقہاء کی سہولت کے لیے احادیث کو ابواب کے مطابق جمع کیا۔"
وضاحت: امام ابن ماجہؒ نے سنن کی ترتیب اس طرح رکھی کہ فقہی ابواب کے حساب سے مسائل واضح ہو سکیں۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ وہ فقہاء کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرنا چاہتے تھے۔
18
"حدیث کے بغیر دین ادھورا ہے۔"
وضاحت: امام ابن ماجہؒ کے نزدیک قرآن اور حدیث کا تعلق جسم اور روح جیسا ہے۔ قرآن اصول دیتا ہے اور حدیث اس کی وضاحت کرتی ہے۔ یہ قول اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ دین کو مکمل سمجھنے کے لیے دونوں کا ساتھ ضروری ہے۔
19
"حدیث کو محفوظ کرنے والے کا درجہ اللہ کے ہاں بہت بلند ہے۔"
وضاحت: ان کا یہ قول محدثین کی عظمت کو ظاہر کرتا ہے۔ جو شخص حدیث کو محفوظ کرتا اور آگے پہنچاتا ہے وہ گویا رسول اللہ ﷺ کی امانت کو آگے منتقل کرتا ہے۔ اس خدمت کا اجر بھی بے مثال ہے۔
20
"میری کتاب میں ہر حدیث کے پیچھے میری نیت یہ ہے کہ مسلمان کو دین میں آسانی ہو، مشکل نہیں۔"
وضاحت: امام ابن ماجہؒ کا یہ قول ان کے اخلاص کو بیان کرتا ہے۔ وہ چاہتے تھے کہ عام مسلمان بھی احادیث سے فائدہ اٹھا سکیں اور دین کی عملی صورت کو آسانی کے ساتھ سمجھ سکیں۔
31
"حدیث کو سن کر آگے پہنچانا علم کی حفاظت ہے۔"
وضاحت: امام ابن ماجہؒ نے بتایا کہ اگر کوئی شخص حدیث سن کر اسے دوسروں تک پہنچاتا ہے تو وہ دراصل علمِ دین کو محفوظ کر رہا ہے۔ یہ کام محض روایت نہیں بلکہ امت کے ایمان کو بچانے کا ذریعہ بھی ہے۔
32
"حدیث کو ضائع کر دینا سب سے بڑی محرومی ہے۔"
وضاحت: اس قول سے ظاہر ہے کہ امام ابن ماجہؒ کے نزدیک اگر کسی کے پاس حدیث ہو اور وہ اسے نہ یاد رکھے یا آگے نہ پہنچائے تو یہ دین کے سب سے بڑے خزانے کو ضائع کرنے کے مترادف ہے۔
33
"علم وہی ہے جو قرآن اور حدیث کی روشنی میں ہو۔"
وضاحت: امام ابن ماجہؒ نے علم کا معیار واضح کیا کہ حقیقی علم وہ ہے جو وحی کی بنیاد پر قائم ہو۔ ان کے نزدیک اگر کوئی علم قرآن و سنت سے ہٹ کر ہے تو وہ انسان کو منزل تک نہیں پہنچا سکتا۔
34
"میں نے اپنی کتاب میں فضائلِ اعمال بھی ذکر کیے تاکہ لوگوں کا ایمان تازہ ہوتا رہے۔"
وضاحت: ان کا یہ قول ظاہر کرتا ہے کہ وہ صرف فقہی احکام پر اکتفا نہیں کرتے تھے بلکہ ایمان اور روحانیت کو زندہ رکھنے کے لیے فضائل والی احادیث بھی شامل کرتے تھے۔
35
"حدیث کو محفوظ کرنے والا دنیا و آخرت میں کامیاب ہے۔"
وضاحت: امام ابن ماجہؒ نے اس قول میں محدثین اور طلبہ کو ترغیب دی کہ وہ حدیث کو محفوظ کریں، کیونکہ اس عمل سے دنیا میں عزت اور آخرت میں نجات حاصل ہوتی ہے۔
36
"میں نے ضعیف حدیث کو بھی ذکر کیا تاکہ علماء کے لیے مکمل ذخیرہ دستیاب ہو۔"
وضاحت: امام ابن ماجہؒ نے یہ اصول واضح کیا کہ ضعیف حدیث کو ذکر کرنا غلط نہیں، بلکہ اس کی پہچان ضروری ہے۔ اس سے بعد کے علماء کو تحقیق اور جانچ کا موقع ملا۔
37
"حدیث کا اصل فائدہ تب ہے جب وہ عمل میں ظاہر ہو۔"
وضاحت: ان کے نزدیک اگر کوئی شخص حدیث کو صرف علم کے طور پر رکھے اور اس پر عمل نہ کرے تو اس کا مقصد پورا نہیں ہوتا۔ یہ قول بتاتا ہے کہ علم اور عمل ساتھ ساتھ ہیں۔
38
"حدیث کو سنبھال کر رکھنا دین کو زوال سے بچاتا ہے۔"
وضاحت: امام ابن ماجہؒ کا یہ قول ان کی بصیرت کو ظاہر کرتا ہے کہ اگر امت حدیث کو محفوظ رکھے تو دین ہمیشہ تازہ اور زندہ رہے گا، لیکن اگر حدیث نظر انداز ہو تو دین میں کمزوری آ جائے گی۔
39
"میں نے اپنی کتاب میں قیامت کے بارے میں بھی احادیث شامل کیں تاکہ لوگ آخرت کی تیاری کریں۔"
وضاحت: اس قول سے پتا چلتا ہے کہ امام ابن ماجہؒ کا مقصد صرف دنیاوی مسائل کا حل نہیں بلکہ آخرت کی فکر کو بھی زندہ رکھنا تھا۔ ان کی کتاب میں آخرت کے ابواب اس بات کا ثبوت ہیں۔
40
"حدیث کے بغیر انسان اپنی عبادت کو مکمل نہیں کر سکتا۔"
وضاحت: امام ابن ماجہؒ نے اس قول کے ذریعے واضح کیا کہ نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ جیسے اعمال صرف قرآن سے مکمل طور پر واضح نہیں ہوتے، ان کی تفصیل حدیث میں ہے۔ اس لیے عبادت کا اصل دار و مدار سنت پر ہے۔
21
"حدیث کو یاد کرنے والا گویا نبی ﷺ کی سنت کو اپنے دل میں محفوظ کرتا ہے۔"
وضاحت: امام ابن ماجہؒ کے نزدیک حدیث کو حفظ کرنا محض علمی کام نہیں بلکہ یہ رسول اللہ ﷺ کی سنت کو زندہ رکھنے کا ایک ذریعہ ہے۔ یہ عمل انسان کے ایمان اور عمل دونوں کو مضبوط کرتا ہے۔
22
"حدیث کو آگے بیان کرنے والا رسول ﷺ کے پیغام کو دنیا میں عام کرنے والا ہے۔"
وضاحت: ان کا یہ قول ظاہر کرتا ہے کہ جو شخص حدیث کو بیان کرتا ہے، وہ دراصل نبی ﷺ کا پیغام امت تک پہنچا رہا ہے۔ اس خدمت کا صلہ اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت عظیم ہے۔
23
"میں نے اپنی کتاب میں احادیث کو ترتیب دے کر یہ آسانی پیدا کی کہ لوگ دین کو بغیر الجھن کے سمجھ سکیں۔"
وضاحت: سنن ابن ماجہ کی ترتیب اور ابواب بندی بتاتی ہے کہ امام ابن ماجہؒ سہولت اور آسانی کے قائل تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ عام آدمی بھی دین کے مسائل تک رسائی حاصل کر سکے۔
24
"حدیث کو چھوڑ دینا دین کی بنیاد سے غفلت کے برابر ہے۔"
وضاحت: امام ابن ماجہؒ کا یہ قول ظاہر کرتا ہے کہ حدیث کو نظر انداز کرنے والا شخص گویا دین کی جڑ سے ہٹ جاتا ہے۔ ان کے نزدیک قرآن اور حدیث دونوں پر عمل کیے بغیر دین مکمل نہیں ہوتا۔
25
"حدیث کو سمجھنے والا ہی حقیقی فقیہ ہے۔"
وضاحت: اس قول میں امام ابن ماجہؒ نے بتایا کہ محض فقہی رائے کافی نہیں جب تک کہ وہ حدیث کی بنیاد پر نہ ہو۔ ایک فقیہ کی اصل پہچان یہ ہے کہ وہ حدیث کو جانتا ہو اور اس کی روشنی میں مسائل بیان کرتا ہو۔
26
"میں نے اپنی کتاب میں ایسے ابواب بھی قائم کیے جو عام مسلمانوں کی روزمرہ زندگی سے جڑے ہوئے ہیں۔"
وضاحت: امام ابن ماجہؒ نے صرف فقہاء کے لیے ہی نہیں بلکہ عام لوگوں کے لیے بھی دین کو آسان بنانے کی کوشش کی۔ عبادات، اخلاق، آداب اور فضائل جیسے موضوعات اسی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔
27
"حدیث کے بغیر علم ادھورا اور ناقص ہے۔"
وضاحت: ان کے نزدیک کوئی بھی علم اگر حدیث کی بنیاد پر نہ ہو تو وہ نامکمل ہے۔ یہ قول واضح کرتا ہے کہ دین میں حدیث کو نظر انداز کر کے مکمل رہنمائی حاصل کرنا ناممکن ہے۔
28
"میں نے حدیث کو اس نیت سے جمع کیا ہے کہ آنے والی نسلیں بھی سنت کو زندہ رکھ سکیں۔"
وضاحت: امام ابن ماجہؒ کا یہ قول ان کی دور اندیشی کو ظاہر کرتا ہے۔ وہ صرف اپنے دور کے لیے نہیں بلکہ آنے والے زمانوں کے لیے بھی دین کی حفاظت چاہتے تھے۔ ان کی کتاب آج تک اسی سوچ کا عملی ثبوت ہے۔
29
"حدیث پر عمل کرنے والا گویا رسول ﷺ کی پیروی میں ہے۔"
وضاحت: امام ابن ماجہؒ کے نزدیک حدیث پر عمل محض ثواب نہیں بلکہ رسول اللہ ﷺ کی اتباع کا ذریعہ ہے۔ یہ قول بتاتا ہے کہ حدیث کا اصل مقصد عمل ہے۔
30
"میری کتاب کا مقصد مسلمانوں کو دین کے ہر پہلو میں رہنمائی فراہم کرنا ہے۔"
وضاحت: امام ابن ماجہؒ نے واضح کیا کہ ان کی کتاب صرف ایک علمی ذخیرہ نہیں بلکہ امت کے لیے مکمل رہنمائی کا ذریعہ ہے۔ عبادات، عقائد، اخلاق، فضائل اور قیامت تک کے موضوعات اس بات کا ثبوت ہیں۔
41
"میں نے اپنی کتاب میں اخلاقیات سے متعلق بھی احادیث ذکر کی ہیں تاکہ مسلمان اچھے کردار کے حامل بن سکیں۔"
وضاحت: امام ابن ماجہؒ نے اپنی سنن میں صرف عبادات ہی نہیں بلکہ اخلاقیات اور آداب سے متعلق بھی ابواب قائم کیے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ دین کو صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ مکمل ضابطۂ حیات سمجھتے تھے۔
42
"حدیث کو سمجھنے والا دل کے سکون تک پہنچتا ہے۔"
وضاحت: ان کا یہ قول ظاہر کرتا ہے کہ جو شخص حدیث کو سمجھ کر اپنی زندگی میں لاتا ہے، وہ روحانی سکون اور قلبی اطمینان پاتا ہے، کیونکہ سنت ہی اصل کامیابی کا راستہ ہے۔
43
"میں نے اپنی کتاب میں نبی ﷺ کی دعاؤں کو بھی جمع کیا تاکہ امت ان سے فیضیاب ہو۔"
وضاحت: امام ابن ماجہؒ چاہتے تھے کہ مسلمان صرف احکام ہی نہ سیکھیں بلکہ رسول اللہ ﷺ کی دعاؤں کو بھی یاد کریں، کیونکہ دعائیں ایمان کو مضبوط اور زندگی کو پر سکون بناتی ہیں۔
44
"حدیث کو عام کرنا جہالت کو ختم کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔"
وضاحت: ان کے نزدیک علم پھیلانے کا بہترین راستہ حدیث کو عام کرنا ہے، کیونکہ یہ امت کو جہالت اور گمراہی سے نجات دلاتی ہے۔
45
"میں نے اپنی کتاب میں معاملات (کاروبار، خرید و فروخت) کے بارے میں بھی احادیث شامل کیں تاکہ مسلمان حلال و حرام کو پہچان سکیں۔"
وضاحت: امام ابن ماجہؒ نے دین کو عملی زندگی کے ہر پہلو سے جوڑ دیا۔ ان کا یہ قول ظاہر کرتا ہے کہ وہ چاہتے تھے مسلمان معیشت میں بھی سنت کی پیروی کریں۔
46
"حدیث رسول ﷺ کو سمجھنا اللہ کی طرف سے ایک بڑی نعمت ہے۔"
وضاحت: ان کا یہ قول بتاتا ہے کہ ہر کسی کو یہ توفیق نہیں ملتی۔ جو شخص حدیث سمجھتا ہے، اللہ تعالیٰ نے اس پر اپنا خاص فضل کیا ہے۔
47
"میں نے اپنی کتاب میں فضائلِ قرآن کی احادیث بھی ذکر کیں تاکہ لوگ اللہ کی کتاب سے محبت کریں۔"
وضاحت: امام ابن ماجہؒ نے اس بات پر زور دیا کہ قرآن اور حدیث ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ ان کی کتاب میں قرآن کے فضائل پر مشتمل احادیث اسی مقصد کے تحت شامل کی گئیں۔
48
"حدیث کو ترک کرنے والا دین کی روشنی سے محروم ہو جاتا ہے۔"
وضاحت: امام ابن ماجہؒ نے اس قول میں واضح کیا کہ جو شخص حدیث کو نظر انداز کرے وہ دراصل دین کی اصل روشنی سے دور ہو جاتا ہے اور اندھیروں میں بھٹکنے لگتا ہے۔
49
"میری کتاب کا مقصد یہ ہے کہ ہر مسلمان کو دین کی اصل بنیادوں تک رسائی حاصل ہو۔"
وضاحت: اس قول سے پتا چلتا ہے کہ امام ابن ماجہؒ کی نیت صرف علماء اور فقہاء تک محدود نہ تھی بلکہ وہ عام مسلمانوں کے لیے بھی سہولت اور رہنمائی فراہم کرنا چاہتے تھے۔
50
"حدیث کے ذریعے انسان نبی ﷺ کی صحبت کا فیض پاتا ہے۔"
وضاحت: امام ابن ماجہؒ کا یہ قول نہایت پرمعنی ہے۔ ان کے نزدیک جو شخص حدیث پڑھتا اور سمجھتا ہے، گویا وہ رسول اللہ ﷺ کی محفل میں بیٹھا ہے اور ان کی براہِ راست تعلیم حاصل کر رہا ہے۔ یہی حدیث کی سب سے بڑی برکت ہے۔
امام ابن ماجہؒ کے اقوال اور سنن ابن ماجہ کی ترتیب ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ حدیث دین کی اصل بنیاد ہے۔ ان کی کاوشیں صرف علماء کے لیے نہیں بلکہ ہر مسلمان کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔ اگر ہم حدیث کو سمجھیں اور اس پر عمل کریں تو دین کی اصل روح ہماری زندگیوں میں زندہ ہو جائے گی۔
“کیا آپ نے سنن ابن ماجہ کی احادیث سے رہنمائی حاصل کی ہے؟ اپنی رائے اور پسندیدہ حدیث کمنٹ میں شیئر کریں اور دوسروں کو بھی فائدہ پہنچائیں!”



0 تبصرے