David George Hogarth About Prophet Muhammad | Non Muslim|Orientalist

 

ڈیوڈ جارج ہوگارتھ (1862–1927) David George Hogarth برطانیہ کے ایک مشہور ماہرِ آثارِ قدیمہ، مؤرخ اور مستشرق تھے۔ انہوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں Ashmolean Museum کے سربراہ بھی رہے۔ وہ مصر، شام اور جزیرہ نما عرب کے مختلف حصوں میں سفر کرتے رہے اور قدیم کھنڈرات کا گہرا مطالعہ کیا۔ ان کی مشہور کتاب "Arabia" عرب معاشرت، تاریخ اور نبی اکرم ﷺ کے دور پر روشنی ڈالتی ہے۔ ان کے اندازِ تحریر میں کہیں غیر جانبداری اور کہیں مغربی تعصب کی جھلک ملتی ہے، مگر وہ عرب دنیا کو براہِ راست دیکھ کر اپنے مشاہدات قلم بند کرتے رہے۔ ان کی تحریریں آج بھی علمی دنیا میں اہمیت رکھتی ہیں اور اسلامی تاریخ اور عربی تمدن کے مطالعے کے لیے معتبر ماخذ سمجھی جاتی ہیں۔

Scholars examining Arabia’s ancient ruins discussed in David George Hogarth’s Arabia book


حضرت محمدﷺ برطانوی مستشرق ڈیوڈ جارج ہوگارتھ کی نظر میں 

"" جب مسلمانوں کا لشکر پہلی مرتبہ موتہ کی جنگ میں عیسائی فوج کے سامنے آیا تو یہ ان کے لیے ایک نیا اور مشکل تجربہ تھا۔ سپاہی گھبراہٹ میں کبھی آگے بڑھتے اور پھر پیچھے ہٹ جاتے۔ بالآخر شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ایسے نازک وقت میں خالد بن ولیدؓ، جو ابھی تک عام سپاہی تھے، کو قیادت سونپی گئی۔ انہوں نے غیر معمولی حکمتِ عملی سے پسپا ہونے والی فوج کو بچا لیا اور اپنی مہارت کی وجہ سے آئندہ کے لیے اہم مقام حاصل کیا۔ اگرچہ لشکر شکست کھا گیا، لیکن وہ سال 629 عیسوی کے آخر میں بحفاظت مدینہ واپس آ گئے۔

مدینہ پہنچنے پر نبی اکرم ﷺ نے ایک اور بڑے اور فیصلہ کن اقدام کی تیاری شروع کر دی۔ اس بار ہدف مکہ تھا، جو اب بھی بت پرستی کا مرکز تھا۔ آپ ﷺ نے اس مرتبہ ایک عظیم اور منظم لشکر کے ساتھ روانہ ہونے کا منصوبہ بنایا۔ آپ نے حج کے ایام سے کئی ہفتے پہلے ہی کوچ کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ اپنی قوت دکھائی جا سکے۔ عرب معاشرے میں تعداد کا رعب دلوں پر اثر ڈالتا تھا اور نبی اکرم ﷺ اس حقیقت سے بخوبی واقف تھے۔ اس وقت تک مسلمان تیزی سے بڑھ چکے تھے اور کہا جاتا ہے کہ فوج کی تعداد تقریباً دس ہزار تک پہنچ گئی تھی۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ اسلام، جو کبھی کمزور دکھائی دیتا تھا، اب ایک زبردست قوت بن چکا تھا۔

اس مہم کے لیے ایک سیاسی جواز بھی موجود تھا۔ حال ہی میں خانہ کعبہ کے علاقے میں آپ کے زیرِ حفاظت ایک قبیلے کے آدمی کو قتل کیا گیا تھا۔ لیکن نبی اکرم ﷺ کو یہ بھی علم تھا کہ قریش کی طرف سے مزاحمت کمزور ہو چکی ہے۔ پچھلے دو سالوں میں ان کے بڑے بڑے سردار اسلام کے قریب آ چکے تھے اور باقی کو بس ایک آخری دھکا درکار تھا۔ حقیقتاً، لشکر کی روانگی سے پہلے ہی مکہ دلوں میں فتح ہو چکا تھا۔

جب مسلمان شہر کی طرف بڑھے تو ابو سفیان، جو کبھی سب سے بڑے مخالف تھے، نے خود آ کر اسلام قبول کیا اور مکہ کو تسلیم کر لیا۔ چند ضدی لوگوں نے ایک پہاڑی پر سے مزاحمت کرنے کی کوشش کی، مگر وہ جلد ہی شکست کھا گئے۔ نبی اکرم ﷺ پھر مکہ میں اس طرح داخل ہوئے جیسے ایک فاتح بادشاہ۔ آپ ﷺ نے خانہ کعبہ کو بتوں سے پاک کیا، لیکن ساتھ ہی اس کی حرمت اور رونق میں اضافہ کیا۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ آپ ﷺ نے مکّہ والوں کے گھر ضبط نہیں کیے اور نہ ہی بڑے پیمانے پر انتقام لیا۔ کعبہ کی چابیاں پرانے خاندانی نگہبانوں کو واپس دے دیں اور صرف دو آدمیوں کو ان کے قتل کے جرم میں سزا دی۔ باقی سب کو عام معافی عطا کر دی گئی۔

Scholars examining Arabia’s ancient ruins discussed in David George Hogarth’s Arabia bookOrientalist


یہ موقع تاریخ کا ایک نیا موڑ تھا رسول اللہ ﷺ نے اپنے شہر میں بالآخر اقتدار حاصل کر لیا۔ لیکن سب سے زیادہ اہم بات یہ تھی کہ آپ ﷺ نے ایسے قوانین نافذ کیے جو اپنے وقت سے کہیں آگے تھے۔ آپ ﷺ نے پورے شہر کو امن کا علاقہ قرار دیا اور خونریزی اور قبائلی انتقام ہمیشہ کے لیے ختم کر دیے۔ یہ عرب معاشرے میں ایک انقلابی فیصلہ تھا کیونکہ صدیوں سے قبائلی انتقام ہی زندگی کا بنیادی اصول تھا۔ حیرت کی بات ہے کہ یہ پابندی نہ صرف آپ کے دور میں بلکہ آپ کے بعد بھی وسیع علاقے تک نافذ رہی۔


آپ ﷺ نے مزید رحم دلی اور عدل کے اصول نافذ کیے۔ انسانوں اور جانوروں پر ظلم و تشدد، جسم کاٹنے یا جلانے جیسی رسموں کو ممنوع قرار دیا۔ البتہ سخت جرائم میں سزائے قطعِ ید (ہاتھ کاٹنے کی سزا) نافذ کی گئی، اور بعد کے حکمرانوں نے بھی اسی بنیاد پر یہ سزا جاری رکھی۔ ایک اور بڑی اصلاح زندہ درگور کرنے کی رسم کا خاتمہ تھا۔ اس سے پہلے بعض باپ اپنی بیٹیوں کو پیدا ہوتے ہی قتل کر دینا باعثِ عزت سمجھتے تھے۔ آپ ﷺ نے اس ظالمانہ رواج کو ختم کیا اور پہلی بار عورتوں اور غلاموں کو بھی ذاتی حقوق عطا کیے۔

لیکن اس سب کے باوجود آپ ﷺ اپنے زمانے کے ایک عرب ہی تھے۔ آپ نے تمام بتوں کو توڑ کر صرف ایک اللہ کی عبادت قائم کی، لیکن مذہبی زندگی میں رسومات اور علامتوں کی اہمیت کو تسلیم بھی کیا۔ مدینہ میں آپ ﷺ نے عبادات اور طریقۂ عبادت پر خاص توجہ دی۔ روایت ہے کہ آپ ﷺ کو دوبارہ حجرِ اسود کو بوسہ دینے کی شدید خواہش تھی۔ آپ کے نزدیک، اگر کوئی علامت اللہ کی توحید کے تابع کر دی جائے تو وہ ناجائز نہیں بلکہ اللہ کی بڑائی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ یوں، پرانے عرب رسم و رواج مٹائے نہیں گئے بلکہ انہیں ایک نئے اور پاکیزہ مقصد کے تحت اسلام کے دائرے میں شامل کر لیا گیا""

ضروری نوٹ:
اس بلاگ پوسٹ میں دیے گئے اقتباسات اور حوالہ جات غیر مسلم مصنف کی کتاب یا تحریر سے لیے گئے ہیں۔ ہم نے صرف وہ حصے پیش کیے ہیں جن میں مصنف نے انصاف اور ایمانداری کے ساتھ اسلام، قرآن مجید اور نبی کریم حضرت محمد ﷺ کے بارے میں مثبت اور سچائی پر مبنی رائے دی ہے۔ ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ان کتابوں یا مصنفین کی تحریروں میں کئی مقامات پر تعصب، غلط فہمیاں اور اسلام مخالف خیالات بھی پائے جاتے ہیں، جنہیں ہم بحیثیت مسلمان نہ تسلیم کرتے ہیں اور نہ ہی ان کی تائید کرتے ہیں۔
ہمارا مقصد صرف یہ ہے کہ دنیا کے سامنے وہ حقائق رکھے جائیں جہاں غیر مسلم قلم کاروں نے سچائی اور انصاف کے ساتھ اسلام کو بیان کیا ہے۔

اگر آپ اسلامی تاریخ، نبی اکرم ﷺ کی سیرت اور مستشرقین کی تحریروں کے مزید تحقیقی تجزیے پڑھنا چاہتے ہیں تو ہمارے بلاگ کو ضرور فالو کریں۔ اپنی رائے کمنٹس میں شیئر کریں اور اس مضمون کو دوسروں تک پہنچانے کے لیے شیئر کرنا نہ بھولیں۔ آپ کی قیمتی رائے ہمارے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہے۔

مزید پڑھیں: حضرت محمد غیر مسلموں کی نظر

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے