جان ولیم ڈریپر کا حضرت محمد، اسلام ﷺ اور مذہب کے بارے میں حیرت انگیز اور سچی رائے
تاریخ کے اوراق میں چند ہی ایسے نام ہیں جن کی گونج عالمی سطح پر احترام، وقار اور اثر و رسوخ کے ساتھ سنائی دیتی ہے، اور ان میں سرفہرست نام ہے حضرت محمد مصطفی ﷺ کا۔ آپ ﷺ کی دعوت، زندگی اور تعلیمات نے نہ صرف ایک بگڑی ہوئی قوم کو سنوارا بلکہ ایسی تہذیب کی بنیاد رکھی جس نے آنے والی صدیوں کو متاثر کیا۔
یہ بات انتہائی دلچسپ ہے کہ جہاں مسلمان علماء اور مؤرخین نے سیرت نبوی ﷺ پر بیشمار تحریریں لکھیں، وہیں بعض غیر مسلم مفکرین، فلسفیوں، سائنسدانوں اور مورخین نے بھی آپ ﷺ کی شخصیت اور مشن کو خلوصِ نیت سے جانچا اور مانا۔ انہی میں ایک بڑا نام ہے جان ولیم ڈریپر کا، جو کہ ایک انیسویں صدی کے مشہور سائنسدان، فلسفی اور مورخ تھے۔
ان میں ممتاز امریکی سائنسدان، مؤرخ اور فلسفی جان ولیم ڈریپر (John William Draper) کا نام نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے اپنی شہرہ آفاق کتاب "A History of the Conflict Between Religion and Science" (مذہب اور سائنس کی کشمکش کی تاریخ) میں اسلام، پیغمبر اسلام ﷺ، قرآن اور دیگر مذہبی معاملات پر تفصیل سے گفتگو کی ہے۔ اس کتاب کا اردو ترجمہ مولانا ظفر علی خان نے "معرکہ مذہب و سائنس" کے عنوان سے کیا۔ پیغمبر اسلام ﷺ کی زندگی کے بعض اہم پہلوؤں پر ان کی غیر جانب دارانہ رائے درج ہے، جو ہمیں اس شخصیت کے بارے میں مزید آگاہی دیتی ہے جنہیں دنیا کا سب سے بڑا انسان مانا گیا۔
ابتدائی دعوت اور قوم کی مخالفت
ابتدائی دور میں نبی کریم ﷺ کے وعظ و نصیحت کو سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ مکہ کے بت پرستوں نے آپؐ کی تعلیمات کو قبول کرنے کے بجائے ان کا انکار کیا اور آپؐ کو طرح طرح کی اذیتیں دیں۔ ان حالات کے باعث آپؐ کو مکہ چھوڑنا پڑا، اور آپؐ نے مدینہ کا رخ کیا، جہاں پہلے سے یہودیوں اور نسطوری عیسائیوں کی ایک بڑی تعداد آباد تھی۔ نسطوری فرقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے آپؐ کے پیغام کو فوراً قبول کر لیا، جس سے آپؐ کو ایک مضبوط سماجی اور مذہبی بنیاد میسر آ گئی۔
حبشہ کی طرف پہلی ہجرت
مکہ میں شدید ظلم و ستم کا سامنا کرتے ہوئے، آپؐ نے اپنی بیٹی اور کچھ صحابہ کرام کو حبشہ کی طرف روانہ کر دیا تاکہ وہ وہاں پناہ لے سکیں۔ حبشہ کا بادشاہ ایک نسطوری عیسائی تھا جو انصاف پسند اور مذہبی رواداری کا حامل تھا۔ اس نے آپؐ کے ساتھیوں کو خوش دلی سے قبول کیا۔
چھ سال کے عرصے میں محض پندرہ سو افراد نے اسلام قبول کیا۔ مگر اس کے بعد وہ وقت آیا جب بدر، اُحد اور احزاب جیسے اہم معرکے پیش آئے۔ ان جنگوں سے نبی کریم ﷺ کو یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہو گئی کہ بعض حالات میں حق کی سربلندی کے لیے تلوار بھی ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ آپؐ نے مشرقی ورثے سے ملنے والے بلیغ الفاظ میں اس حقیقت کو یوں بیان کیا:"جنت تلواروں کے سائے تلے ہے۔
پے در پے کامیاب جنگوں نے دشمنوں کی طاقت کو ختم کر دیا۔ عرب میں بت پرستی کا خاتمہ ہو گیا، اور "لا الہ الا اللہ" کی بنیاد پر قائم ہونے والے دین اسلام کو پورے جزیرہ عرب نے کھلے دل سے تسلیم کر لیا۔ اسی کے ساتھ ساتھ نبی کریم ﷺ کی نبوت پر ایمان لانے والوں کی تعداد میں حیرت انگیز اضافہ ہوا۔
آئیے اب ہم آپؐ کی زندگی کے ان عظیم معرکوں سے ہٹ کر اس وقت کا ذکر کریں، جب آپؐ کی کامیابی اپنی انتہا کو پہنچ چکی تھی، اور دنیاوی دولت و اختیار آپؐ کے قدموں میں تھا۔ مگر اس وقت آپؐ کا اندازِ زندگی کیسا تھا؟ آپؐ کے خیالات کیا تھے؟
شان و شوکت اور عاجزی
جب زندگی کے آخری لمحات قریب آ رہے تھے اور آپؐ نے آخری حج (حجۃ الوداع) کا ارادہ فرمایا، تو آپؐ مدینہ سے مکہ روانہ ہوئے۔ یہ حج آپؐ کی زندگی کا آخری حج تھا۔ اس موقع پر ایک عظیم الشان قافلہ آپؐ کے ساتھ روانہ ہوا، جس میں ایک لاکھ چودہ ہزار مسلمان شامل تھے۔ قافلے کے اونٹ خوبصورت پھولوں کے ہاروں سے سجے ہوئے تھے، اور لہراتے ہوئے جھنڈوں سے کاروان کی عظمت اور جلال میں مزید اضافہ ہو رہا تھا۔
جب یہ شان و شوکت والا قافلہ مکہ کے قریب پہنچا، تو نبی کریم ﷺ نے عاجزی سے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا مانگی۔
جب نبی کریم ﷺ مکہ مکرمہ کے قریب پہنچے، تو آپؐ نے عاجزی اور بندگی کے جذبے کے ساتھ اپنے رب کے حضور یہ دعا کی:
"اے اللہ! میں تیرے حضور خالص عبادت کے لیے حاضر ہوں۔ تیرے سوا کوئی شریک نہیں۔ صرف تُو ہی عبادت کے لائق ہے۔ تو ہی کائنات کا حقیقی مالک ہے۔ اس پوری سلطنت، زمین و آسمان، دنیا و آخرت کی بادشاہی میں تیرا کوئی شریک، ساتھی یا شریک اقتدار نہیں ہے۔"
یہ الفاظ نہ صرف آپؐ کی توحید پر کامل ایمان کا اظہار تھے بلکہ پوری امت کے لیے بندگی، عاجزی اور خالص اطاعت کا نمونہ بھی بنے۔
اسی سفرِ حج کے دوران، نبی کریم ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اونٹوں کی قربانی کی۔ اس عمل سے آپؐ نے نہ صرف سنتِ ابراہیمی کو زندہ کیا بلکہ یہ بھی واضح فرمایا کہ نماز اور قربانی دونوں دین اسلام کے بنیادی ارکان میں شامل ہیں۔ آپؐ کا نظریہ یہ تھا کہ جس دلیل سے نماز کی اہمیت کو ثابت کیا جا سکتا ہے، اسی نوع کی دلیل قربانی کی فضیلت کے لیے بھی پیش کی جا سکتی ہے۔ دونوں عبادات روحانیت، بندگی اور اخلاص کا مظہر ہیں۔
بعد ازاں، جب آپؐ خانہ کعبہ کے منبر پر تشریف فرما ہوئے، تو آپؐ نے نہایت سادگی اور انکساری سے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:
"اے مسلمانو! میں تمہاری طرح ایک انسان ہوں۔"
یہ الفاظ سنتے ہی بہت سے سامعین کو ایک واقعہ یاد آ گیا جب ایک شخص آپؐ کے قریب آنے سے گھبرا رہا تھا۔ اس وقت آپؐ نے اس سے بڑے پیار اور سادہ لہجے میں فرمایا تھا:
"بھائی! گھبراؤ مت، میں کوئی بادشاہ نہیں ہوں۔ میں ایک عام عرب عورت کا بیٹا ہوں۔"
یہ جملے آپؐ کی سادگی، خاکساری، اور انکساری کی اعلیٰ مثال ہیں۔ باوجود اس کے کہ آپؐ پوری انسانیت کے لیے نبی بن کر آئے تھے، آپؐ نے ہمیشہ خود کو دوسروں پر برتر ثابت کرنے کی بجائے، اپنے کردار سے عاجزی کا نمونہ پیش کیا۔
حج مکمل کرنے کے بعد آپؐ واپس مدینہ تشریف لے گئے۔ اب آپؐ کی زندگی کا بنیادی مقصد پورا ہو چکا تھا۔ اللہ کا پیغام انسانوں تک پہنچایا جا چکا تھا، اور اسلام ایک مضبوط اور قائم نظام کے طور پر دنیا کے سامنے آ چکا تھا۔
خطبہ حجۃ الوداع — انسانیت کا عالمی منشور
نبی کریم ﷺ نے اپنی زندگی کی آخری تقریر میں امت کو نہایت درد دل اور سچے جذبے سے چند اہم نصیحتیں فرمائیں، جن کے الفاظ کچھ یوں تھے:
"ہر چیز اللہ کی مرضی کے تابع ہے، اور ہر عمل کے لیے ایک مقرر وقت ہے۔ نہ کوئی اس وقت کو آگے کر سکتا ہے اور نہ پیچھے۔ جس ذات نے مجھے دنیا میں اپنا پیغام دینے کے لیے بھیجا تھا، اب میں اسی کی طرف واپس جا رہا ہوں۔ میری آخری نصیحت یہ ہے کہ تم سب آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو۔ ایک دوسرے کے ساتھ محبت، عزت اور رواداری سے پیش آؤ۔ جب ضرورت پڑے، تو ایک دوسرے کی مدد کرو۔ ایمان پر ثابت قدم رہنے کی کوشش کرو، اور نیک اعمال کو اپناؤ۔"
پھر آپؐ نے بڑی محبت سے فرمایا:
"جب تک میں زندہ رہا، میں نے تمہاری بھلائی کے لیے تدبیریں کیں، اور اب جبکہ رخصت ہونے کا وقت آ چکا ہے، تو میرا دل اب بھی تمہاری بھلائی کی فکر میں ہے۔"
نزع کے عالم میں، جب زندگی کی آخری گھڑیاں آ پہنچی تھیں، تو نبی کریم ﷺ کا سر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے زانو پر تھا۔ شدید تکلیف اور کرب کی حالت میں آپؐ بار بار اپنے ہاتھ پانی کے ایک برتن میں ڈالتے اور اس پانی سے اپنا چہرہ تر کرتے تاکہ کچھ راحت محسوس ہو۔ لیکن پھر وہ لمحہ آ گیا جب جسم میں طاقت باقی نہ رہی، اور آپؐ کی نگاہیں آسمان کی طرف اٹھ گئیں۔
اسی حالت میں، آپؐ کی زبان سے آخری الفاظ نکلے:
"اے اللہ! میرے گناہوں کو معاف فرما... آمین، میں حاضر ہو رہا ہوں!"
یوں نبی کریم ﷺ، جو پوری انسانیت کے لیے رحمت بن کر آئے تھے، انتہائی عاجزی، وفاداری، اور بندگی کے ساتھ اپنے رب کے حضور واپس لوٹ گئے۔
کیا یہ ممکن ہے کہ ایسے عظیم انسان کا نام تعظیم، تکریم اور احترام کے بغیر لیا جائے؟ وہ شخصیت جس کی تعلیمات آج دنیا کے ایک تہائی انسانوں کی زندگی کا محور ہیں، جس کے اصول اور نظریات کروڑوں انسانوں کی رہنمائی کا ذریعہ ہیں، کیا اسے محض ایک عام فرد کے طور پر یاد کیا جا سکتا ہے؟ یقیناً نہیں۔
حضرت محمد ایک عظیم ہستی
یہ عظیم ہستی حضرت محمد ﷺ کی ہے—وہ نبی جنہوں نے ایک ایسے ماحول میں آنکھ کھولی جہاں شرک اور بت پرستی عام تھی، لیکن انہوں نے اپنی زندگی کے آغاز ہی میں ان قدیم اور جاہلانہ عقائد کو مسترد کر دیا۔ آپؐ نے اپنے ضمیر اور فطرتِ سلیم کی روشنی میں ان تمام نظریات کو ماننے سے انکار کر دیا جو نہ صرف مقامی طور پر رائج تھے بلکہ بعض نسطوری عیسائی اساتذہ کی تعلیمات میں بھی شامل تھے۔ حالانکہ آپؐ نے ان اساتذہ سے بعض باتیں ضرور سیکھیں، لیکن جب آپؐ کی عقل اور وجدان نے کسی عقیدے کو حق تسلیم نہ کیا، تو آپؐ نے اسے صاف مسترد کر دیا۔
یہ بات درست ہے کہ قرآن مجید کی ابتدائی آیات سے ہی یہ واضح ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سابقہ آسمانی کتابوں، یعنی تورات اور انجیل کو اللہ کی طرف سے نازل شدہ کتابیں مانا، اور ان انبیائے کرام—حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام—کی عظمت و احترام کا بھی کھلے دل سے اعتراف کیا۔ آپؐ نے ان دونوں کو سچا نبی تسلیم کیا اور ان کے مقام کو وہی درجہ دیا جو ایک سچے نبی کے لیے ہونا چاہیے۔
لیکن اس کے باوجود، آپؐ کی دعوت کا مرکز و محور ہمیشہ ایک ہی رہا: اللہ کی وحدانیت۔ قرآن کی تقریباً ہر سورت میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور اس کی عظمت و بزرگی کا بیان ملتا ہے۔ آپؐ نے الوہیتِ مسیح کے نظریے کو نہایت مکروہ اور گمراہ کن تصور کیا۔ حضرت مریمؑ کو "خدا کی ماں" کے طور پر پکارنا، ان کی پوجا کرنا، یا تصاویر و مجسموں کے ذریعے عبادت کرنا، یہ سب چیزیں آپؐ کی نظر میں نہ صرف باطل تھیں بلکہ ایک انتہائی پست اور گمراہ کن درجہ کی بت پرستی تھیں۔
آپؐ تثلیث یعنی "تین خداؤں" کے عقیدے کے سخت مخالف تھے۔ آپؐ کا اس نظریے کے بارے میں یہ واضح موقف تھا کہ اس کے سوا اور کوئی مطلب نہیں نکلتا کہ تین الگ الگ معبود موجود ہیں، جو کہ اللہ کی توحید کے سراسر منافی ہے۔ آپؐ نے اس عقیدے کو عقل و فطرت دونوں کے خلاف قرار دیا اور ہمیشہ توحید خالص کی دعوت دی۔
نبی کریم ﷺ کا اصل مقصد ہرگز یہ نہ تھا کہ آپ کوئی نیا مذہب قائم کریں یا کوئی الگ فرقہ کھڑا کریں۔ بلکہ آپؐ کا مشن خالصتاً اصلاحِ دین تھا۔ آپؐ کی ساری جدوجہد اس بات کے لیے تھی کہ دین میں جو بگاڑ آ چکا ہے، اس کی اصلاح کی جائے، اور جو خرافات اور گمراہیاں مذہب کے نام پر پھیلائی جا چکی ہیں، ان کا خاتمہ کیا جائے۔
عربوں کی جاہلانہ بت پرستی، جس نے انسانی عقل و فہم کو غلام بنا رکھا تھا، اس کا قلع قمع کرنا آپؐ کا پہلا ہدف تھا۔ دوسرا ہدف یہ تھا کہ ان فرقہ وارانہ جھگڑوں کو ختم کیا جائے جنہوں نے عیسائیت کو باہم ٹکرا دینے والی ایک تقسیم شدہ قوم میں بدل دیا تھا۔ عیسائی دنیا میں وحشیانہ گروہی تعصب، فرقہ پرستی، اور مذہبی فساد عام ہو چکا تھا، اور آپؐ کی خواہش تھی کہ دین کو اس کی اصل، سادہ، اور خالص شکل میں بحال کیا جائے۔
یہ تصور کہ نبی کریم ﷺ نے کوئی "نیا مذہب" ایجاد کیا، ایک مکمل طور پر جھوٹا الزام تھا، جو اصل میں قسطنطنیہ (بازنطینی سلطنت) کے علماء اور مذہبی پیشواؤں نے آپؐ کے خلاف گھڑا تھا۔ وہاں کے مذہبی طبقے نے آپؐ کی اصلاحی دعوت کو ذاتی خطرہ سمجھا اور اس پر بدگمانی اور بہتان تراشی کی بنیاد پر رد عمل ظاہر کیا۔ ان کے نزدیک، نبی ﷺ وہی کردار ادا کر رہے تھے جیسا کہ بعد کے زمانے میں مارٹن لوتھر نے عیسائی کلیسا کے خلاف اصلاحی تحریک کے ذریعے کیا، جس پر اسے بھی ویٹی کن (روما) میں بدنامی اور مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔
آج کا پیغام
آج جب ہم جان ولیم ڈریپر جیسے غیر مسلم مفکر کی تحریریں پڑھتے ہیں تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ سچائی زبان، قوم یا مذہب کی محتاج نہیں۔ اگر کوئی غیر مسلم، دیانت داری سے پیغمبرؐ کی سیرت کا مطالعہ کرے تو وہ آپؐ کی عظمت کا قائل ہو جاتا ہے۔
آج دنیا کا ایک بڑا حصہ اسلام کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم سیرتِ نبویؐ کو علم، تحقیق، اخلاق اور دلیل کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کریں۔
اسلام صرف عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ مکمل نظامِ حیات ہے۔ پیغمبر محمد ﷺ نہ صرف ایک نبی تھے بلکہ امن، محبت، عدل اور اصلاح کے عالمی علمبردار تھے۔ ان کی زندگی، قول، عمل اور مقصد ہر انسان کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
اللہ ہمیں بھی ہدایت دے کہ ہم اسلام کو علم، تحقیق، عمل اور اخلاص کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کر سکیں۔ آمین۔
دعوت فکر
کیا آپ مزید غیر مسلم مفکرین کی ایماندار آراء جاننا چاہتے ہیں؟ ہمارا بلاگ سبسکرائب کریں، اس مضمون کو شیئر کریں اور سچائی کو عام کریں۔
Reference:
John William Draper "A History Of The Conflict Between Religion And Science"
Urdu Translation by Maulana Zafar Ali Khan "Marika mazhab wa science" p180-182
نوٹ:مصنف کے تمام باتوں سے اتفاق ضروری نہیں۔




0 تبصرے