یہ کہانی ایک خوبصورت جنگل کی ہے جہاں بارش کے بعد ہر طرف ہریالی چھا گئی تھی۔ جنگل کے بیچوں بیچ ایک مور اپنے رنگین اور دلکش پروں کو بارش میں سجا رہا تھا۔ وہ بہت خوش تھا اور اپنی خوبصورتی پر نازاں بھی۔ قریب ہی ایک کالا کوا دانے تلاش کرنے میں مصروف تھا۔ اس نے مور کو دیکھا تو دل میں سوچا کہ کاش میں بھی اتنا حسین ہوتا۔ وہ مور کے پاس آیا اور بولا: "بھائی مور! تم کتنے حسین ہو، کاش میں بھی تمہاری طرح رنگین پروں والا ہوتا۔" مور نے مسکرا کر جواب دیا: "دوست، خوبصورتی سب کچھ نہیں۔ اصل دولت دل کی صفائی ہے۔" یہی وہ لمحہ تھا جہاں سے مور اور کوے کی دوستی کا آغاز ہوا۔
کچھ دنوں بعد کوا ایک بڑی مشکل میں پھنس گیا۔ وہ دانے تلاش کرتے کرتے شکاری کے بچھائے ہوئے جال میں جا پھنسا۔ شکاری قریب ہی کھڑا تھا اور اسے پکڑنے والا تھا۔ کوا زور زور سے پھڑپھڑانے لگا مگر آزاد نہ ہو سکا۔ یہ منظر مور نے دیکھا تو وہ فوراً دوڑا آیا۔ اس نے اپنے تیز پروں اور مضبوط چونچ کی مدد سے جال کھینچا اور کوا آزاد ہوگیا۔ کوا خوشی سے مور کے گلے لگا اور بولا: "مور بھائی! آج تم نے میری جان بچائی ہے۔ میں یہ دوستی کبھی نہیں بھولوں گا۔"
وقت گزرتا گیا اور ایک دن مور پر مشکل آن پڑی۔ بارش کے دوران مور پھسل کر ایک چھوٹے گڑھے میں گر گیا۔ اس کے رنگین پر بھیگ کر بوجھل ہو گئے اور وہ اڑنے کے قابل نہ رہا۔ اس وقت کوا وہاں پہنچا۔ اس نے اپنے پروں سے مور کے اوپر کے پانی کو جھاڑا تاکہ وہ ہلکا ہو سکے۔ پھر وہ دوسرے پرندوں کے پاس گیا اور ان سے مدد مانگی۔ سب نے مل کر مور کو گڑھے سے باہر نکالا۔ مور کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور اس نے کہا: "دوست کوا! آج تم نے ثابت کر دیا کہ سچا دوست وہی ہے جو مشکل وقت میں ساتھ دے۔"
جنگل کے دوسرے پرندے اکثر کوے کا مذاق اڑاتے تھے کہ وہ کالا اور بدصورت ہے۔ لیکن مور ہمیشہ سب کو جواب دیتا: "میرا دوست دنیا کا سب سے خوبصورت ہے کیونکہ اس کا دل صاف ہے۔" رفتہ رفتہ دوسرے پرندے بھی سمجھ گئے کہ دوستی کی بنیاد ظاہری خوبصورتی نہیں بلکہ محبت، خلوص اور سچائی ہے۔
یہ کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اچھا دوست وہی ہے جو مشکل وقت میں ساتھ دیتا ہے۔ انسان کو ظاہری رنگ و روپ پر نہیں جانچا جاتا بلکہ دل کی صفائی اور کردار کی نیکی اصل پہچان ہے۔ غرور اور حسد کی بجائے خلوص اور محبت کو اپنانا ہی کامیابی کا راستہ ہے۔


0 تبصرے