Kachhua aur Khargosh Kahani | Moral Story for Kids

 ایک سرسبز اور خوبصورت جنگل میں جانور امن اور سکون سے رہتے تھے۔

وہ سب ایک دوسرے کے دوست تھے اور مل جل کر رہتے تھے۔

ان جانوروں میں ایک خرگوش بھی رہتا تھا۔

خرگوش اپنی تیز دوڑ کی طاقت پر بہت نازاں رہتا تھا۔

جب وہ دوڑتا تو ہوا بھی پیچھے رہ جاتی۔

جنگل کے بچے خرگوش کو دیکھ کر خوشی سے تالیاں بجاتے۔

لیکن خرگوش کے دل میں غرور آ گیا۔

وہ سمجھنے لگا کہ دنیا میں کوئی بھی اس سے تیز نہیں۔

اسی جنگل میں ایک کچھوا بھی رہتا تھا۔

کچھوا آہستہ چلتا تھا، لیکن وہ صابر، محنتی اور مطمئن تھا۔

وہ کبھی غرور نہیں کرتا تھا۔

سب جانتے تھے کہ کچھوا محنت اور برداشت کی علامت ہے۔


"Kachhua aur Khargosh kahani illustration of tortoise and rabbit race"


خرگوش کا مذاق

غرور کا اظہار


ایک دن سب جانور دریا کے کنارے کھیل رہے تھے۔

خرگوش نے کچھوے کو آہستہ آہستہ چلتے دیکھا۔

وہ زور سے ہنسنے لگا۔

خرگوش نے کہا:

"کچھوا بھائی! تم اتنے سست کیوں ہو؟

اگر میں چاہوں تو ایک جھٹکے میں تمہیں پیچھے چھوڑ دوں۔

تم کبھی دوڑ نہیں جیت سکتے!"

کچھوے کی مسکراہٹ

کچھوا خاموشی سے مسکرا رہا تھا۔

اس نے کہا:

"دوڑ ہمیشہ رفتار سے نہیں جیتی جاتی،

بلکہ محنت اور ہمت سے جیتی جاتی ہے۔

اگر تم چاہو تو ہم دونوں دوڑ لگاتے ہیں۔"

یہ سن کر خرگوش زور زور سے ہنسنے لگا۔

"دوڑ اور تم؟ ہا ہا ہا! یہ تو بڑا مزے کا مقابلہ ہوگا۔"
مقابلے کی تیاری

جنگل کے سب جانور جمع ہو گئے۔

ہرن، بندر، لومڑی، پرندے اور حتیٰ کہ ہاتھی بھی دیکھنے آئے۔

سب نے فیصلہ کیا کہ دوڑ کا آغاز دریا کے کنارے سے ہوگا

اور منزل جنگل کے بڑے پیپل کے درخت تک ہوگی۔

خرگوش نے کہا:

یہ تو میرے لیے بہت آسان ہے۔

میں آنکھ بند کر کے بھی جیت سکتا ہوں۔"

کچھوا خاموش رہا۔

وہ جانتا تھا کہ غرور انسان کو اندھا کر دیتا ہے۔


 دوڑ کا آغاز
خرگوش کی تیزی

دوڑ شروع ہوتے ہی خرگوش بجلی کی طرح دوڑا۔

وہ لمحوں میں سب جانوروں کی نظر سے اوجھل ہو گیا۔

سب جانور تالیاں بجانے لگے۔

کچھوا اپنی ہی رفتار سے آہستہ آہستہ چل رہا تھا۔

اس کے قدم چھوٹے لیکن پختہ تھے۔

وہ جانتا تھا کہ صبر اور محنت ہی کامیابی ہے۔

غرور کی نیند

خرگوش نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔

کچھوا بہت دور پیچھے تھا۔

اس نے دل میں سوچا:

"یہ مقابلہ تو میرا پکا ہے۔

چلو تھوڑا آرام کر لیتا ہوں۔"

وہ ایک درخت کے نیچے لیٹ گیا۔

ہوا کی ٹھنڈی لہریں چل رہی تھیں۔

خرگوش کی آنکھ لگ گئی۔

وہ گہری نیند سو گیا۔


 کچھوے کی محنت

 مستقل مزاجی

کچھوا دھیرے دھیرے مگر لگاتار آگے بڑھتا رہا۔

وہ نہ رکا اور نہ تھکا۔

اسے بس اپنی منزل نظر آ رہی تھی۔

پرندے حیران تھے کہ کچھوا رکے بغیر آگے بڑھ رہا ہے۔

ایک چڑیا نے کہا:

"دیکھو! یہ آہستہ چل رہا ہے، مگر رکا نہیں۔

شاید یہ اپنی محنت سے جیت جائے۔"

: آگے بڑھنے کی لگن

کچھوا سوچ رہا تھا:

"جیت میری نہیں، صبر اور محنت کی ہوگی۔

میں رکوں گا نہیں، چاہے کتنا وقت لگے۔"


نتیجہ

جب سورج ڈھلنے لگا تو کچھوا منزل کے قریب تھا۔

اسی وقت خرگوش کی آنکھ کھل گئی۔

وہ گھبرا کر اٹھا اور تیزی سے دوڑا۔

لیکن تب تک دیر ہو چکی تھی۔

کچھوا آہستہ آہستہ مگر پختگی کے ساتھ

منزل کی لکیر پار کر چکا تھا۔

سب جانور خوشی سے شور مچانے لگے:

"واہ کچھوا بھائی! تم نے یہ مقابلہ جیت لیا۔"

خرگوش شرمندہ ہو گیا۔

اس نے سر جھکا کر کہا:

"مجھے غرور نہیں کرنا چاہیے تھا۔

میں نے اپنی تیزی پر بھروسہ کیا اور ہار گیا۔"

کچھوا مسکرا کر بولا:

"غرور انسان کو اندھا کر دیتا ہے،

جبکہ صبر اور محنت ہمیشہ کامیاب کرتی ہے۔"


سبق

یہ اردو بچوں کی کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ:

غرور ہمیشہ نقصان دیتا ہے۔

مستقل مزاجی اور محنت انسان کو کامیاب بناتی ہے۔

آہستہ اور پختہ قدم بھی منزل تک لے جاتے ہیں۔

کامیابی ہمیشہ صبر کرنے والوں کے حصے میں آتی ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے