"میں ہر مہینے تین دن پاگل ہوتا ہوں" – ایک دلچسپ
اور سبق آموز اسلامی لطیفہ
اسلامی تاریخ میں کئی حکمران ایسے گزرے ہیں جن کے بارے میں عوام
کی رائے مختلف تھی۔ کچھ کو سخت گیر حکمران سمجھا گیا، کچھ کو
عادل، اور کچھ کو ظالم۔ ان حکمرانوں میں حجاج بن یوسف ثقفی کا
نام نمایاں ہے۔ حجاج بن یوسف اپنے سخت مزاج اور بے رحم طرز
حکمرانی کی وجہ سے مشہور تھا، لیکن اس کے باوجود وہ ذہانت، حاضر
دماغی اور انتظامی صلاحیتوں کا حامل شخص بھی تھا۔
ایک دن حجاج بن یوسف نے اپنے خاص غلام سے کہا، "ہم روزانہ لوگوں
پر حکم چلاتے ہیں، لیکن کبھی یہ نہیں سوچا کہ لوگ ہمارے بارے میں کیا
سوچتے ہیں؟ آؤ، آج بھیس بدل کر عوام کے درمیان چلتے ہیں اور جاننے
کی کوشش کرتے ہیں کہ لوگوں کی ہمارے بارے میں رائے کیا ہے۔
غلام نے حجاج کی بات سے اتفاق کیا۔ دونوں نے سادہ کپڑے پہنے، عام
لوگوں کی طرح بھیس بدلا اور شہر میں نکل پڑے۔ ان کا انداز ایسا تھا کہ
کوئی بھی انہیں پہچان نہیں سکتا تھا۔
چلتے چلتے وہ ایک جگہ پہنچے جہاں ابو لہب کے غلام "مطلب" سے
ملاقات ہوئی۔ مطلب ایک مشہور شخصیت تھا اور اکثر لوگوں میں اپنی
باتوں اور انداز کی وجہ سے پہچانا جاتا تھا۔ حجاج اور اس کا غلام اس
سے ملے تو حجاج نے عام آدمی کا انداز اپناتے ہوئے اس سے پوچھا:یہ
"بھائی! کیا تم حجاج بن یوسف کو جانتے ہو؟ وہ کیسا انسان ہے؟"
مطلب نے چہرہ بگاڑ کر کہا:
"اللہ حجاج پر لعنت کرے! وہ بڑا ہی ظالم، سنگدل اور جابر شخص ہے۔
لوگوں پر ظلم کرتا ہے، کسی کو بخشنے والا نہیں۔"
حجاج نے ذرا اور قریب ہو کر پوچھا:
"کیا تمہیں معلوم ہے کہ وہ یہاں سے کب گزرے گا؟"
مطلب نے کہا:
"اللہ کرے اس کی روح اس کے جسم سے جلد نکلے، مجھے کیا پتا وہ کب
گزرے گا۔ میں نہ اس کا نوکر ہوں اور نہ ہی کوئی خبر رساں۔"
یہ سب سن کر حجاج کو موقع مناسب لگا۔ وہ سیدھا مطلب کی طرف دیکھ کر بولا:
"سن، میں ہی حجاج بن یوسف ہوں!"
یہ سنتے ہی مطلب کے چہرے کا رنگ فق ہو گیا، وہ گھبرا گیا اور فوراً اپنے
اوپر قابو پاتے ہوئے بڑی ہوشیاری سے بولا:
"اچھا! تو کیا آپ مجھے جانتے ہیں؟"
حجاج نے جواب دیا:
"نہیں، میں نے تو تمہیں پہلے کبھی نہیں دیکھا۔"
مطلب نے فوراً بات سنبھالتے ہوئے کہا:
"تو سن لیجیے، میں ابولہب کا غلام مطلب ہوں، اور مجھے پورا شہر جانتا
ہے کہ میں ہر مہینے تین دن پاگل ہوتا ہوں، اور آج وہی پہلا دن ہے!"
یہ سن کر حجاج نے زور زور سے قہقہہ لگایا اور کہا:
"چلو، آج تم نے بچت کر لی!"
اس کے بعد حجاج نے اسے کچھ نہیں کہا، نہ کوئی سزا دی اور نہ ہی
پکڑنے کا حکم دیا بلکہ ہنستے ہوئے وہاں سے آگے بڑھ گیا
اس لطیفے میں چھپے چند اہم پہلو:
1. حاضر دماغی کی طاقت:
مطلب کی فوری حاضر دماغی نے اسے مشکل ترین موقع پر بچا لیا۔ ایک عام آدمی کے لیے یہ لمحہ خوفناک ہو سکتا تھا، لیکن اس نے فوری ذہانت سے ایسی بات کہہ دی جس سے حجاج کو بھی ہنسی آ گئی اور غصہ ٹھنڈا ہو گیا۔
2. اقتدار کا خوف اور عوامی رائے:
یہ واقعہ اس وقت کی عوامی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ جب حکمران ظالم ہو تو لوگ دل میں اس کے خلاف ہوتے ہیں، لیکن سامنے کچھ کہنے کی ہمت نہیں کرتے۔ مگر مطلب نے بغیر پہچانے، دل کی بات بے جھجک کہہ دی۔
3. حجاج کا نرم پہلو:
اگرچہ حجاج کو سخت دل اور ظالم حکمران کہا جاتا ہے، لیکن اس واقعے میں ہم دیکھتے ہیں کہ اس نے ایک عام آدمی کی بات پر ہنسی کو ترجیح دی۔ وہ چاہتا تو مطلب کو سخت سزا دے سکتا تھا، لیکن اس نے معاملے کو ہلکے پھلکے انداز میں لیا، جو اس کے ایک دوسرے پہلو کی نشاندہی کرتا ہے۔
4. مزاح میں حکمت:
اسلامی لطیفے صرف ہنسی مذاق کے لیے نہیں ہوتے، ان میں عقل، فہم، اور حکمت چھپی ہوتی ہے۔ اس واقعے میں بھی نہ صرف ایک مزاحیہ پہلو ہے، بلکہ اقتدار، عوامی سوچ، اور حاضر دماغی جیسے اہم موضوعات بھی نظر آتے ہیں۔
نتیجہ (Conclusion):
یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ کبھی کبھار زندگی کے خطرناک لمحے بھی ایک سادہ سی بات، ذہانت یا مزاح سے سنبھالے جا سکتے ہیں۔ مطلب نے اپنے آپ کو ایک عام، بے ضرر، اور "پاگل" ظاہر کر کے ایک سنگین صورتحال کو مذاق میں بدل دیا۔ دوسری جانب حجاج جیسے سخت حکمران کی طرف سے برداشت اور ہنسی کا اظہار بھی ہمیں بتاتا ہے کہ کبھی کبھار طاقتور لوگ بھی ایک اچھی بات یا مزاح سے متاثر ہو جاتے ہیں۔
یہ لطیفہ آج بھی لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیرتا ہے اور ساتھ ساتھ یہ سبق بھی دیتا ہے کہ:
"بات کہنے کا انداز، وقت پر عقل کا استعمال، اور مزاح میں چھپی حکمت بہت بڑی نعمت ہے!"
●●●● "آنسو تو مفت کے ہیں" – اعرابی اور اس کا کتا:
ایک دیہاتی شخص سفر پر جا رہا تھا، ساتھ اس کا کتا بھی تھا۔ سفر میں کتا کمزوری سے مرنے لگا تو وہ شخص بیٹھ کر رو پڑا۔کچھ لوگ وہاں سے گزرے اور پوچھا: "کیا ہوا؟"اس نے کہا: "میرا ساتھی، میرا کتا بھوک سے مر گیا۔"
لوگوں نے دیکھا کہ اس کے پاس ایک تھیلا بھی رکھا ہے،پوچھا: "اس میں کیا ہے؟"کہا: "روٹیاں ہیں۔"پھر پوچھا: "تو تم نے اپنے کتے کو کھانے کو کیوں نہیں دیا؟"
اس نے جواب دیا: "اتنی محبت نہیں تھی کہ اسے خریدی ہوئی چیز کھلاتا۔"پھر مسکرا کر کہا: "آنسو تو ویسے بھی مفت کے ہیں، جتنے چاہوں
بہا سکتا ہوں!" ۔
●●●●
آپ بڑے بیوقوف ہیں
ایک ملاح سے کسی نے پوچھا کہ تمہارے باپ کہاں مرے؟ کہا دریا میں اور ماں کہاں مری ؟ کہا دریا میں اور دادا کہاں مرے؟ کہا کہ دریا میں اس شخص نے کہا کہ تم بڑے بیوقوف ہو کہ پھر بھی دریا نہیں چھوڑتے ، ملاح نے پوچھا حضرت آپ کے والد کہاں مرے؟ کہا گھر میں ، آپ کے دادا کہاں مرے؟ کہا وہ بھی گھر میں مرے اس ملاح نے کہا آپ بھی بڑے بیوقوف ہیں کہ پھر بھی اسی گھر میں رہتے ہو۔


0 تبصرے