ایک دن کی بات ہے، ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک بلی رہتی تھی۔ وہ بڑی شرارتی مگر دل کی صاف تھی۔ بلی کا نام "منی" تھا۔ منی کو کھیل کود اور نئی جگہیں دیکھنے کا بہت شوق تھا۔ گاؤں کے کنارے ایک بڑا سا پرانا درخت تھا جس کی سبز شاخوں پر ایک چھوٹی سی چڑیا رہتی تھی۔ اس چڑیا کا نام "چن چن" تھا۔ چن چن بڑی ہنس مکھ اور خوش دل تھی، وہ ہر روز صبح سویرے میٹھے گیت گاتی اور پورے گاؤں کو جگا دیتی۔
ایک دن منی درخت کے نیچے کھیل رہی تھی۔ اس نے اوپر دیکھا تو چڑیا
گنگنا رہی تھی۔ منی نے کہا:
"چن چن! تم ہمیشہ ایک ہی جگہ رہتی ہو، تمہیں بوریت نہیں ہوتی؟"
چڑیا نے اپنی چمکدار آنکھوں سے نیچے دیکھا اور مسکراتے ہوئے جواب دیا:
"منی! پرندوں کی دنیا بہت وسیع ہے۔ میں چاہوں تو بہت دور تک اڑ سکتی ہوں۔ لیکن یہ درخت میرا گھر ہے، اس لیے میں اکثر یہی رہتی ہوں۔"
منی نے اپنی مونچھوں کو ہلاتے ہوئے کہا:
"کیا تم میرے ساتھ سفر پر چلو گی؟ میں نئی جگہیں دیکھنا چاہتی ہوں۔"
چڑیا کو یہ تجویز اچھی لگی۔ اس نے کہا:
"کیوں نہیں! سفر سے انسان اور جانور دونوں کچھ نہ کچھ سیکھتے ہیں۔ لیکن یاد رکھنا، سفر آسان نہیں ہوتا۔"
اگلی صبح دونوں نے سفر کا آغاز کیا۔ چڑیا ہوا میں اڑتی اور منی نیچے زمین پر دوڑتی۔ کبھی چڑیا آگے نکل جاتی اور کبھی منی۔ دونوں ہنستے کھیلتے ایک بڑے جنگل میں پہنچے۔
جنگل میں داخل ہوتے ہی منی کو ذرا خوف محسوس ہوا۔ درخت اتنے اونچے تھے کہ آسمان نظر نہیں آ رہا تھا۔ پرندوں کی آوازیں اور پتوں کی سرسراہٹ ماحول کو پراسرار بنا رہی تھی۔ مگر چن چن نے کہا:
"ڈرو مت منی! جنگل میں بھی دوست مل سکتے ہیں۔"
اتنے میں ایک ہرن ان کے قریب آیا۔ ہرن نے پوچھا:
تم دونوں کہاں جا رہے ہو؟منی نے جواب دیا:ہم دنیا دیکھنے نکلے ہیں۔
ہرن نے مسکرا کر کہا:سفر میں سب سے اہم چیز ہمت اور دوستی ہے۔ اگر تم دونوں ایک دوسرے کا ساتھ دو گی تو کبھی مشکل میں نہیں پڑو گی۔
یہ سن کر دونوں نے وعدہ کیا کہ وہ ایک دوسرے کو اکیلا نہیں چھوڑیں گی۔سفر جاری رہا۔ راستے میں ایک ندی آئی۔ ندی کا پانی تیز بہہ رہا تھا۔ منی نے ندی کو دیکھ کر کہا:"اب ہم کیسے پار کریں گے؟
چن چن نے پر پھڑپھڑائے اور کہا."میں اڑ سکتی ہوں، لیکن تمہیں بھی ساتھ لے جانا ہے۔"
چڑیا نے ایک ترکیب سوچ لی۔ اس نے قریبی درخت سے ایک لمبی ڈال منگوائی۔ ہرن نے بھی مدد کی اور ڈال کو ندی پر رکھ دیا۔ یوں ایک پل سا بن گیا۔ منی احتیاط سے چلتی ہوئی پار ہو گئی۔ دونوں نے خوشی کا نعرہ لگایا۔
کچھ فاصلے پر ایک خوبصورت باغ آیا۔ اس باغ میں رنگ برنگے پھول کھلے تھے۔ تتلیاں اڑ رہی تھیں اور فضا خوشبو سے بھری ہوئی تھی۔ منی پھولوں کے بیچ کھیلنے لگی اور چڑیا پھولوں پر بیٹھ کر گنگنانے لگی۔ دونوں نے محسوس کیا کہ سفر صرف مشکلات سے نہیں بھرا بلکہ خوشیوں سے بھی بھرا ہوتا ہے۔
رات ہونے لگی تو دونوں ایک درخت کے نیچے آرام کے لیے بیٹھ گئیں۔ آسمان پر ستارے جگمگا رہے تھے۔ منی نے کہا:
"آج میں نے سیکھا کہ سفر میں ڈر اور خوشی دونوں ہوتے ہیں۔ لیکن اگر دوست ساتھ ہوں تو ہر راستہ آسان لگتا ہے۔"
چڑیا نے جواب دیا: "ہاں منی! سفر ہمیں سکھاتا ہے کہ زندگی کا اصل مزہ ساتھ رہنے میں ہے۔"
اگلے دن وہ دونوں واپس گاؤں لوٹ آئیں۔ اب گاؤں کے سب بچے ان سے سفر کی کہانیاں سننے آتے۔ بلی اور چڑیا کی دوستی اور ان کا سفر گاؤں کی مشہور کہانی بن گیا۔
نتیجہ:
یہ کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ زندگی کے سفر میں مشکلات آتی ہیں، لیکن اگر ہم دوستی، ہمت اور ساتھ نبھانے کا عہد کر لیں تو ہر مشکل آسان ہو جاتی ہے۔ اصل خوشی ایک دوسرے کے ساتھ چلنے اور مل کر زندگی کو بہتر بنانے میں ہے۔


0 تبصرے