Bahlool Dana Ki Kahani | Inspiring Wisdom Life Story

 بہلول دانا ایک مجنون یا اک دانا؟

دیوانگی کی آڑ میں حکمت کا مینار

بغداد کی گلیوں میں ایک ایسا کردار جنم لیتا ہے جسے تاریخ نے "بہلول دانا" کے نام سے یاد رکھا۔ ان کا اصل نام وہب بن عمرو تھا.بهلول بظاہر تو ایک پاگل شخص نظر آتے تھے، مگر ان کی دیوانگی کے پیچھے ایک گہری عقل، دانائی اور فکری بلندی چھپی ہوئی تھی۔ ان کے تمام افعال، باتیں اور حرکات لوگوں کو حیران کر دیتی تھیں، لیکن جو شخص اُن کی باتوں کی گہرائی میں جھانکتا، وہ سچائی، علم اور حکمت کے خزانے دریافت کرتا۔

Inspiring life story of Bahlool Dana teaching moral lessons"


بچوں کے ساتھ بچپن کا سا انداز

ایک دن بہلول دانا کو محلے کے بچے کھیلتے ہوئے ملے۔ وہ ان بچوں میں ایسے گھل مل گئے جیسے وہ خود بھی ان ہی کی عمر کا ایک بچہ ہوں۔ وہ کبھی بچوں کے ساتھ دوڑتے، کبھی ہنستے، کبھی اچھلتے، اور کبھی کھیل کے دوران ایک بچہ بن کر ان کے ساتھ مچلنے لگتے۔ وہ اپنے ہاتھ میں موجود لکڑی (عصا) کو گھوڑا بنا کر اس پر سوار ہو گئے۔ جیسے ہی تھکاوٹ محسوس ہوئی، وہ سانس لیتے ہوئے رک گئے، لکڑی کو گھوڑے کی طرح زمین پر ٹکا دیا اور بچوں سے کہنے لگے:


"میرا گھوڑا تھک گیا ہے، اسے چوٹ بھی لگ گئی ہے، اب یہ کچھ دیر آرام کرے گا۔"

بچوں نے جب یہ سنا تو زور زور سے ہنسنے لگے۔ اُن کے لیے یہ منظر انتہائی مزاحیہ تھا۔ وہ ایک دوسرے کو کہنے لگے کہ:

"ارے وہب! کیا تمھارا گھوڑا گھاس بھی کھاتا ہے؟"

بہلول دانا نے اس سوال پر مسکرا کر جواب دیا:

"ہاں، ہاں! یہ تمھاری عقل کے ساتھ روز گھاس چرنے جاتا ہے!"

یہ جواب سن کر بچے اور بھی زیادہ ہنسنے لگے۔ پھر ایک شریر بچے نے شرارت سے پوچھا: "اچھا وہب، یہ پانی بھی پیتا ہے؟"


بہلول نے برجستہ جواب دیا:"ہاں، یہ بھی پانی پیتا ہے، مگر تمھارے خلیفہ کے پیمانے میں

یہ جملہ سن کر بچے بےتحاشا ہنسنے لگے۔ وہ اس دیوانے کی باتوں سے محظوظ ہو رہے تھے۔ ان کے لیے یہ ایک دلچسپ کھیل تھا، مگر وہب کی باتوں میں چھپی چبھتی ہوئی حقیقت اُن کم عمر بچوں کی سمجھ سے باہر تھی۔


اب بچوں نے مطالبہ کیا کہ ہمیں بھی تمھارے گھوڑے پر سواری کراؤ، تو وہب فوراً سنجیدہ ہو گئے۔ انھوں نے بچوں کو پیچھے ہٹاتے ہوئے کہا:

"خبردار! کوئی میرے گھوڑے کے قریب نہ آئے، یہ شاہی مزاج رکھتا ہے، اگر کسی کو لات مار دی تو میں ذمہ دار نہ ہوں گا!"

بچے پھر قہقہے مار کر ہنسنے لگے۔ وہب نے ان کی شرارتوں سے تنگ آ کر دیوار کے ساتھ ٹیک لگا لی اور گہری سانس لیتے ہوئے کہنے لگے:

"دوستو! اب مجھے تھوڑا آرام کرنے دو، تم سب اپنے گھروں کو واپس جاؤ!"


بچے کچھ دیر تک اس سے مزید مذاق کرتے رہے، لیکن جب وہب نے کوئی توجہ نہ دی تو سب ایک ایک کر کے اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔ بہلول نے اسی ویران، خستہ حال کھنڈر میں اپنا ٹھکانہ بنا لیا۔ اسے نہ گھر کی ضرورت تھی، نہ مال و دولت کی، نہ سونے کے پلنگ کی اور نہ آرام دہ بستروں کی۔ اس کے لیے سکون وہی تھا، جہاں اسے دنیاوی دکھاوے سے آزادی حاصل ہو۔

رشتہ داروں کی تلاش اور پریشانی

جب وہب کئی دنوں تک گھر نہ پہنچے تو ان کے اہلِ خانہ اور عزیز و اقارب بےچین ہو گئے۔ سب نے مل کر اس کی تلاش شروع کی۔ لوگوں سے پوچھتے رہے، سراغ لگاتے رہے، آخرکار ایک دن وہ سب اس کھنڈر تک پہنچ گئے جہاں وہب موجود تھے۔ جیسے ہی اُن کی نظر پڑی، تو وہ حیران رہ گئے۔ وہب ننگی زمین پر سوئے ہوئے تھے، اپنا بازو تکیہ بنائے اور چہرے پر سکون کی چادر تانی ہوئی تھی۔


ان کا یہ حال دیکھ کر سب کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ کسی نے افسوس کا اظہار کیا، تو کسی نے ماتھا پیٹا۔ ایک عزیز نے جھک کر اُن کا شانہ ہلایا اور بلند آواز میں پکارا:

"وہب! اٹھو! اس جنون کی نیند سے جاگو، ہمیں پہچانو، آنکھیں کھولو!"


وہب آہستہ سے بیدار ہوئے، نیند سے بوجھل آنکھیں کھولیں اور اپنے گرد موجود اپنے عزیزوں کو دیکھا۔ ان کے چہروں پر دکھ، فکر، ہمدردی اور 

افسوس کے آثار نمایاں تھے۔"کیا بات ہے؟" وہب نے حیرانی سے پوچھا۔

ایک عزیز نے ان کے قریب بیٹھ کر ان کی گرد آلود عبا کو جھاڑتے ہوئے کہا:

"وہب، چلو گھر واپس۔ یہ جگہ تمھارے رہنے کے قابل نہیں ہے!"


وہب نے کھنڈر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا. یہ بھی تو ایک گھر ہے! یہاں کیا کمی ہے؟ نہ ہمسائے کا جھگڑا، نہ مکان مالک کا خوف، نہ دربان کی ڈانٹ، نہ چور کا ڈر!"

یہ سن کر ایک اور عزیز کہنے لگا:"وہب، یہ کیسی باتیں کر رہے ہو؟"

وہب نے نرمی سے کہا:"میں تو وہی زبان بول رہا ہوں جو تم سب بولتے ہو، بس انداز الگ ہے!"

کسی اور نے ہمدردی سے کہا:"تمھاری طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی۔"

وہب نے بے فکری سے جواب دیا:"میری طبیعت بالکل ٹھیک ہے، میں بہت خوش ہوں!"


عزیزوں نے سمجھانے کی کوشش کی نہیں وہب، تم بیمار ہو، تمھیں علاج کی ضرورت ہے. وہب ہنس پڑے اور رازداری سے کہنے لگے.

میرے پیاروں، بیمار تو سب ہیں۔ اصل بیماری دل اور روح کی ہوتی ہے، جسم کی نہیں۔ تم خود ہی بتاؤ، خلیفہ، وزیر، داروغہ یا قاضی... ان میں سے کون ہے جو واقعی تندرست ہے؟ ہر کوئی کسی نہ کسی بیماری کا شکار ہے، خواہ وہ لالچ ہو، غرور ہو، ظلم ہو یا ہوس.


Inspiring life story of Bahlool Dana teaching moral lessons"


شاہی محل اور کھنڈر کا فرق


عزیزوں نے پھر زور دیا وہب، ہماری بات سمجھنے کی کوشش کرو۔ یہ جگہ تمھارے شایانِ شان نہیں

وہب نے جواب دیا:یہ جگہ خلیفہ کے محل سے بہتر ہے! کم از کم قیامت کے دن اس کھنڈر کے بارے میں مجھ سے کوئی سوال تو نہیں کیا جائے گا! جب کہ خلیفہ سے اس کے محل کا، اس کی رعایا کا اور اس کی دولت کا حساب لیا جائے گا.

ان کے رشتہ دار ان کے جوابوں سے عاجز آ گئے۔ انہوں نے ہر ممکن کوشش کی کہ وہب کو گھر لے جائیں، ان کا علاج کروائیں، مگر وہب نہ مانے۔ انہوں نے اس دنیاوی نظام کو ٹھکرا دیا تھا۔ اُن کے لیے اصل زندگی وہ تھی جس میں سکون، آزادی اور رب سے قرب ہو۔

بہلول کا پیغام

بہلول دانا کی یہ کہانی نہ صرف ایک واقعہ ہے، بلکہ ایک درس بھی ہے۔ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ دنیا کی چمک دمک، محلات، دولت، شہرت سب دھوکہ ہیں۔ اصل راحت تو دل کے سکون میں ہے۔ بہلول نے دیوانگی کی چادر اوڑھ کر دنیا والوں کو آئینہ دکھایا کہ جنہیں عقلمند سمجھا جاتا ہے، وہ دراصل سب سے زیادہ گمراہ ہوتے ہیں، اور جسے پاگل سمجھا جاتا ہے، وہی سب سے بڑا دانا اور حقیقت شناس ہو سکتا ہے۔

بہلول کی حیاتِ ظاہری میں کئی ایسے واقعات ہیں جو ان کی روحانی بصیرت، طنز میں لپٹی سچائی، اور انسان کی باطنی تطہیر کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ ایسا ہی ایک واقعہ ایک بدکردار شخص کے ساتھ پیش آیا، جسے بہلول کی زبان نے اس کے اصل چہرے سے آشنا کر دیا۔


بدکردار کے آئینے میں شیطان کی صورت(2)

ایک روز ایک شخص، جو بدکرداری اور غرور میں مشہور تھا، بہلول کے پاس آیا۔ وہ ہنسی اُڑاتے ہوئے بولا:

"وہب! کیا تم نے کبھی شیطان کو دیکھا ہے؟ میرا دل چاہتا ہے کہ میں شیطان کو دیکھوں۔"

یہ ایک عام طنز نہیں تھا بلکہ اس کے پیچھے تکبر، حقارت اور استہزا کا زہر چھپا ہوا تھا۔ اس شخص کا مقصد صرف بہلول کو نیچا دکھانا تھا، لیکن وہ اس بات سے بے خبر تھا کہ وہ جسے پاگل سمجھتا ہے، وہ تو دراصل آئینہ دکھانے والا ہے۔


بہلول نے انتہائی سنجیدگی سے اور مکمل وقار کے ساتھ جواب دیا:

"بہت آسان ہے۔ تمہارے گھر میں آئینہ ہوگا۔ اگر آئینہ نہ ہو تو صاف پانی میں دیکھ لینا، تمہیں شیطان کی زیارت ہو جائے گی۔"


یہ جملہ صرف ایک طنز نہیں تھا، بلکہ یہ ایک ایسا فلسفہ تھا جو انسان کی اصل ذات کی طرف اشارہ کرتا تھا۔ بہلول نے اس شخص کو اس کے اعمال کے آئینے میں اس کا چہرہ دکھا دیا۔ گویا فرما رہے ہوں:

"تو جس شیطان کو باہر تلاش کر رہا ہے، وہ تیرے ہی باطن میں چھپا ہوا ہے۔"

وہ شخص اس ایک جملے کی تاب نہ لا سکا اور شرمندگی کے مارے وہاں سے رفو چکر ہو گیا۔ اس واقعے نے ثابت کیا کہ بہلول دانا کی باتوں میں ظاہری مزاح سے زیادہ، باطنی اصلاح اور روحانی آئینہ گری چھپی ہوئی ہوتی ہے۔

امیر کوفہ کی بیٹی اور حکمت بھرا طنز

زمانہ عباسیہ میں کوفہ کے امیر، اسحاق بن محمد صباح کے گھر بیٹی کی ولادت ہوئی۔ اُس زمانے میں بھی بیٹی کی پیدائش کو کئی لوگ باعثِ شرم سمجھتے تھے، خاص طور پر وہ لوگ جو اقتدار، جاہ و حشم اور قبائلی تعصب میں ڈوبے ہوتے تھے۔ اسحاق بھی انہی خیالات کا شکار ہو گیا۔ اسے اس بات پر شدید افسوس تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے بیٹا نہیں، بیٹی عطا کی ہے۔


جب بہلول کو اس واقعے کی خبر ملی تو وہ فوراً امیر کے محل پہنچے۔ بغیر کسی تکلف اور تعارف کے، اپنی مخصوص شوخی اور بے ساختگی کے ساتھ کہا

"اے اسحاق! میں نے سنا ہے کہ تو اس بات پر افسردہ ہے کہ اللہ نے تجھے بیٹی عطا کی ہے؟ کیا تو اس پر راضی نہیں کہ وہ صحیح و سالم ہے؟ ذرا سوچ، اگر اللہ تجھے مجھ جیسا پاگل بیٹا دے دیتا تو؟"


یہ جملہ امیر کوفہ کے دل میں پیوست ہو گیا۔ وہ ہنس پڑا لیکن اس ہنسی میں ایک گہرائی تھی۔ اسے احساس ہوا کہ وہ کس قدر نا شکر گزاری کا مظاہرہ کر رہا تھا۔ بہلول کے ایک جملے نے اس کے خیالات، اس کے نظریات اور اس کے طرزِ شکر گزاری کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔


اس نے فوراً اللہ کا شکر ادا کیا، اپنی گوشہ نشینی ترک کی، لوگوں کو مبارکباد دینے کی اجازت دی اور اپنی بیٹی کی پیدائش کو رحمت سمجھا۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ بہلول کی زبان سے نکلا ہوا ایک جملہ، نہ صرف دلوں کو جیت لیتا تھا بلکہ ذہنوں کو بدلنے کی صلاحیت بھی رکھتا تھا۔


جوتے چور اور نماز: دیوانگی میں دانشمندی کا مظہر

بہلول دانا کی زندگی میں کئی ایسے لمحے آتے ہیں جہاں وہ عام انسانوں سے کئی درجے بلند نظر آتے ہیں۔ ان کا ہر عمل ایک درس، ہر جملہ ایک فلسفہ، اور ہر خاموشی ایک پیغام ہوتی تھی۔


ایک دن وہ مسجد کی طرف جا رہے تھے۔ جب وہ مسجد کے صحن میں پہنچے، تو انھوں نے دیکھا کہ ایک شخص ان کے جوتے چرانے کے انتظار میں ہے۔ وہ اس تاک میں بیٹھا ہے کہ کب بہلول اپنے جوتے اتارے اور کب وہ انہیں چرا لے۔


بہلول نے اس کی نیت بھانپ لی۔ وہ بہت دیر تک خاموشی سے یہ دیکھتے رہے کہ شاید وہ شخص اپنی حرکت سے باز آجائے، لیکن جب صفیں مکمل ہو گئیں اور وقت نماز کا تقاضا کرنے لگا تو بہلول نے فوراً ایک فیصلہ کیا۔ وہ جوتے پہنے پہنے ہی صف میں کھڑے ہو گئے۔


وہ شخص، جس کا منصوبہ ناکام ہو گیا تھا، فوراً بول اٹھا:

"او دیوانے! جوتوں سمیت نماز نہیں ہوتی۔"

بہلول نے بڑی سادگی اور دانائی سے جواب دیا:

"نماز نہ ہو تو نہ ہو، لیکن جوتے تو ہوں گے!"


یہ جملہ نہ صرف موقع پر بے حد لطیف تھا بلکہ چور کو آئینہ دکھانے کا ایک بہترین انداز بھی۔ بہلول نے چور کو بغیر کچھ کہے شرمندہ کر دیا اور ساتھ ہی حاضرینِ مسجد کو بھی ایک سبق سکھایا کہ نیت اور عمل کی پاکیزگی نماز کی اصل روح ہے۔



داروغہ کو چالاکی سے مات: غرور کا منطقی انجام


شہر بغداد کا داروغہ، جو اپنی چالاکی، فہم و فراست اور اقتداری غرور میں ڈوبا ہوا تھا، ایک دن عوام کے سامنے دعویٰ کرتا ہے:

"مجھے کوئی دھوکہ نہیں دے سکتا۔"

یہ دعویٰ بظاہر طاقت کا اظہار تھا، لیکن درحقیقت اس کی خام خیالی کا مظہر۔ اس مجلس میں بہلول بھی اپنی چھڑی کھٹکھٹاتے ہوئے آ موجود ہوئے۔ انھوں نے داروغہ کے غرور بھرے دعوے کو چیلنج کرتے ہوئے کہا:


"داروغہ جی! میں اس دیوانگی میں بھی آپ کو چٹکیوں میں دھوکہ دے سکتا ہوں، مگر یہ کوئی فائدے کی بات نہیں۔"

داروغہ نے مسکرا کر چیلنج قبول کیا۔ بہلول نے کہا کہ وہ ایک ضروری کام سے جا رہے ہیں، واپسی پر داروغہ کو دھوکہ دیں گے۔

بہلول مجمع سے نکل گئے، اور پھر کبھی واپس نہ آئے۔ داروغہ کئی گھنٹوں تک ان کے انتظار میں بیٹھا رہا۔ لوگ اس کے گرد جمع تھے، ہنسی مذاق ہو رہا تھا، لیکن داروغہ کے چہرے پر اضطراب بڑھتا جا رہا تھا۔ آخرکار وہ خود ہی بول اٹھا:


"یہ پہلا موقع ہے جب مجھے کسی نے دھوکہ دیا، اور وہ بھی ایک دیوانے نے۔"

یہ واقعہ بغداد کی گلیوں میں مشہور ہو گیا۔ لوگ ہنستے، مسکراتے، اور بہلول کے حاضر جوابی کی داد دیتے۔ لیکن اس واقعے کی تہہ میں بھی ایک بڑی سچائی چھپی تھی:

"جو اپنے علم، مرتبے یا عقل پر غرور کرتا ہے، وہ کسی نہ کسی دن عاجز ضرور ہو جاتا ہے۔"


نتیجہ: بہلول دانا کا ابدی پیغام


بہلول دانا کی زندگی کا ہر لمحہ، ہر کہانی، ہر واقعہ ایک ایسا آئینہ ہے جس میں ہم سب اپنا چہرہ دیکھ سکتے ہیں۔ وہ دیوانگی کی چادر اوڑھ کر دنیا کو وہ سچ دکھاتے رہے جو اکثر لوگ دیکھنے سے قاصر ہوتے ہیں۔

ان کی زبان سے نکلا ہر جملہ، ہر حکایت، اور ہر لطیفہ، انسان کی روح کو جھنجھوڑ دینے والا پیغام رکھتا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ اصل عقل وہ ہے جو سچائی کو سمجھ کر، اپنے غرور اور نفس پر قابو پا لے۔ بہلول کی شخصیت اس بات کی مظہر ہے کہ:

"دیوانگی اگر سچ پر مبنی ہو، تو وہ دانشمندی سے بلند مقام رکھتی ہے۔"

ان کی زندگی نہ صرف ہمارے لیے ایک سبق ہے، بلکہ ہمارے معاشرے کے لیے ایک آئینہ بھی، جو ہمیں ہمارے اندر کے شیطان، ہماری ناپسندیدگی، ہمارے تعصبات اور ہمارے فریبِ نفس کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

اور یہی وجہ ہے کہ آج صدیاں گزر جانے کے باوجود، بہلول دانا کا نام زندہ ہے اور ان کی حکمتیں دلوں میں نقش ہیں۔


ا گر آپ کو بہلول دانا کی حکمت پسند آئی؟

ایسی مزید اسلامی و صوفی کہانیوں کے لیے کمنٹس میں بتائیں: آپ کو سب سے زیادہ اثر کس بات نے ڈالا؟

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے